بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے شریف آباد، کلی قمبرانی میں ایک نوجوان محمد فیضان ولد عبدالحامد قمبرانی کو گزشتہ شب پاکستانی فورسز نے گھر سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق محمد فیضان کو رات تقریباً 3 بجے کے بعد اُس وقت گھر سے اٹھایا گیا جب مسلح اہلکار ان کی رہائش گاہ پر پہنچے۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ کارروائی میں پاکستانی خفیہ ادارے، سی ٹی ڈی، ایف سی اور سویلین لباس میں ملبوس دیگر اہلکار شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق اہلکاروں نے گھر کی تلاشی لینے کے بعد محمد فیضان کو اپنے ساتھ لے گئے۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ محمد فیضان کی گرفتاری یا حراست کے حوالے سے کسی قسم کا وارنٹ پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہیں یہ بتایا گیا کہ انہیں کس الزام کے تحت تحویل میں لیا جا رہا ہے۔ واقعے کے بعد خاندان میں شدید تشویش پائی جاتی ہے جبکہ اہل خانہ نے متعلقہ حکام سے فوری طور پر محمد فیضان کی موجودگی اور قانونی حیثیت واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اہل خانہ نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ معاملے کا نوٹس لیا جائے اسکی بازیابی کے لیے عملی کردار ادا کریں۔

















































