فرانسیسی اخبار Le Monde نے انکشاف کیا ہے کہ بلوچ انسانی حقوق کی معروف کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا نام مسلسل دوسری مرتبہ نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
تاہم اس بین الاقوامی اعزاز کی نامزدگی کے باوجود پاکستان میں انہیں دہشت گردی اور قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے خلاف مقدمے کی سماعت جیل کے اندر بند کمرے میں ہوئی، جہاں نہ صحافیوں کو آنے کی اجازت دی گئی اور نہ ہی اہلِ خانہ کو۔ ان کے وکلا نے عدالتی کارروائی کو غیر شفاف اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے فیصلے کے خلاف اپیل کا اعلان کیا ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ گزشتہ کئی برسوں سے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرتی رہی ہیں۔ ان کی اسی جدوجہد کے اعتراف میں انہیں مسلسل دوسرے سال نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا، جسے عالمی سطح پر ان کی پرامن جدوجہد کی اہم پذیرائی قرار دیا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے عمر قید کی سزا پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوشش قرار دیا ہے اور ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

















































