بلوچ لبریشن آرمی کی خاتون کمانڈر شہناز بلوچ کون ہے، کیا یہ بلوچ مزاحمتی تحریک میں ایک نئے باب کا آغاز ہے؟
بلوچستان میں سرگرم آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) پہلی مرتبہ اپنی ایک خاتون کمانڈر کو باضابطہ طور پر منظرِ عام پر لائی ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً گیارہ منٹ اکتالیس سیکنڈ دورانیے کی ویڈیو میں ایک نوجوان خاتون کو مسلح انداز میں دکھایا گیا ہے، جسے بی ایل اے نے اپنی کمانڈر قرار دیا ہے۔
ویڈیو میں خاتون کی شناخت “شہناز بلوچ” کے نام سے کی گئی ہے جبکہ تنظیم کے قریبی ذرائع کے مطابق ان کا عرفی نام “سدو” بتایا جاتا ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف بلوچ مزاحمتی تحریک کے حلقوں میں بلکہ سیاسی و سکیورٹی مباحث میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
شہناز بلوچ کون ہیں؟
شہناز بلوچ کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تمپ سے ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم The Oasis School سے حاصل کی جبکہ بعد ازاں ایف ایس سی کی تعلیم تمپ ڈگری کالج سے مکمل کی۔
وہ دورانِ طالب علمی بلوچ طلبہ تنظیم بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد (بی ایس او آزاد) سے وابستہ رہی ہیں۔
بلوچ مسلح تنظیموں میں خواتین کا کردار
بلوچ مزاحمتی تحریک میں خواتین کی شمولیت کوئی مکمل طور پر نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی بی ایل اے کی جانب سے خواتین کی موجودگی کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ تنظیم کے فدائی یونٹ “مجید بریگیڈ” میں خواتین کی شمولیت کے واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔
سنہ 2022 میں کراچی یونیورسٹی حملہ میں ایک خاتون حملہ آور شاری بلوچ کی شمولیت نے پوری توجہ حاصل کی تھی۔ اس حملے کے بعد تربت، بیلہ، نوشکی، پسنی اور گوادر میں بھی بی ایل اے کی جانب سے مختلف کارروائیوں میں خواتین فدائی حصہ لے چکے ہیں۔ بی ایل اے کی آپریشن ھیروف فیز ٹو میں خواتین کی شمولیت نمایاں رہی تھی۔
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق کسی خاتون کی باقاعدہ “کمانڈر” کے طور پر سامنے آنا ایک نئی اور غیرمعمولی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
ایک نئی بحث
شہناز بلوچ کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے زیرِ بحث ہے کہ آیا بلوچ تحریک ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
کچھ حلقے اسے بلوچ مزاحمتی تحریک میں “نئے باب” کا آغاز قرار دے رہے ہیں، جبکہ مختلف حلقوں کا کہنا اس سے بلوچستان میں پاکستانی فورسز کے مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ بلوچستان میں مسلح کارروائیاں پہلے سے شدت سے جاری ہیں۔


















































