بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ مہران بلوچ ولد محمد شریف کو 21 مئی 2026 کو اُس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ اپنی دکان کی طرف جا رہے تھے۔ سوراپ بازار میں مسلح افراد نے دن دہاڑے انہیں گولی مار کر شہید کر دیا۔ ان کی شہادت نے بلوچستان بھر میں اپنے پیاروں کے غم میں ڈوبے بلوچ خاندانوں کی فہرست میں ایک اور سوگوار خاندان کا اضافہ کر دیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ریاستی پشت پناہی میں سرگرم مسلح گروہوں کے ہاتھوں مہران بلوچ کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ کمیٹی کے مطابق یہ گروہ پورے بلوچستان میں کھلے عام سرگرم ہیں۔ سخت فوجی نگرانی اور جگہ جگہ قائم چیک پوسٹوں کے باوجود بلوچ شہری مسلسل نشانہ بن رہے ہیں، جبکہ جرائم پیشہ عناصر اور منشیات فروش بغیر کسی خوف کے آزادانہ نقل و حرکت کر رہے ہیں۔
عید کے دنوں میں، جہاں خوشیاں منائی جانی چاہئیں، وہاں کئی بلوچ خاندان اپنے نوجوان بیٹوں کی لاشیں وصول کر رہے ہیں۔ خوف، غم اور خاموشی نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے کیونکہ روز بروز مزید خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہو رہے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ، اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ جب بھی بلوچ عوام جبری گمشدگیوں، قتل و غارت، اور ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں، تو انہیں انصاف کے بجائے گرفتاریوں، ہراسانی، اور مزید جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔


















































