شہر میں بیٹھا ایک وطن پرست کیا سوچ رہا ہے؟
تحریر: وطن زاد
دی بلوچستان پوسٹ
شہر کے شور میں بیٹھا وہ اکیلا شخص کھڑکی سے باہر دیکھتا ہے تو اسے یوں لگتا ہے جیسے یہ روشنیاں، یہ سڑکیں، یہ عمارتیں سب ایک خاموش قید خانہ ہیں۔ اس کے ذہن میں اکثر ان گوریلا جنگجوؤں کا خیال آتا ہے جنہیں وہ ایک علامت کے طور پر دیکھتا ہے، صرف ہتھیار اٹھانے والے لوگوں کے طور پر نہیں بلکہ ان انسانوں کے طور پر جو اپنے یقین کے لیے سب کچھ چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ آخر ایسا کیا ہوتا ہے جو کسی کو آرام دہ زندگی سے اٹھا کر جنگلوں، پہاڑوں اور غیر یقینی راستوں پر لے جاتا ہے۔
اس کے خیالات میں ایک عجیب کشمکش ہوتی ہے۔ ایک طرف شہر کی سہولتیں ہیں: نرم بستر، گرم چائے، محفوظ راتیں، دوسری طرف وہ تصور ہے جس میں کوئی شخص آزادی، انصاف یا اپنے نظریے کے لیے سب کچھ قربان کر دیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ کیا اصل بہادری بندوق اٹھانے میں ہے یا اپنے نظریات کی قیمت ادا کرنے میں؟ کیا یہ محبت واقعی ان لوگوں سے ہے، یا اس جرات سے جو وہ اپنے اندر پیدا نہیں کر سکا؟
وہ اکثر خود سے سوال کرتا ہے کہ شاید اسے گوریلا جنگجوؤں سے محبت نہیں بلکہ اس جذبے سے محبت ہے جو انسان کو بے خوف بنا دیتا ہے۔ شہر میں رہتے ہوئے وہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی مصلحتوں میں الجھا رہتا ہے، اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اندر کا کوئی حصہ خاموشی سے آزادی، سچائی اور بغاوت کے معنی تلاش کر رہا ہے۔
پھر وہ سوچتا ہے کہ اصل جدوجہد ہمیشہ ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتی۔ کبھی یہ اپنے اندر کے خوف سے لڑنے کا نام ہے، کبھی سچ بولنے کی ہمت کا، اور کبھی اس نظام کے خلاف سوچنے کا جو انسان کو سوال کرنا بھلا دیتا ہے۔ شاید اسی لیے وہ ان کرداروں کے بارے میں سوچتا ہے، کیونکہ وہ اسے یاد دلاتے ہیں کہ انسان صرف جینے کے لیے نہیں، بلکہ معنی کے ساتھ جینے کے لیے پیدا ہوا ہے۔
شہر کی بے رحم روشنیوں کے بیچ وہ اکیلا شخص بیٹھا ہے مگر اس کی سوچیں کنکریٹ کی دیواروں سے بہت دور، کسی سنسان پہاڑ کی چوٹی پر بھٹک رہی ہیں۔ رات کی خاموشی میں جب شہر کے شور کی سانسیں مدھم پڑتی ہیں تو اس کے دل میں ایک عجیب سی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ وہ ان لوگوں کے بارے میں سوچتا ہے جو اندھیری راتوں میں بے نام راستوں پر چلتے ہیں، جن کے قدموں کی چاپ صرف ہوا سنتی ہے، اور جن کی آنکھوں میں خواب نہیں، عزم جلتا ہے۔
وہ سوچتا ہے کہ کیسا ہوتا ہوگا وہ لمحہ جب ایک انسان سب کچھ چھوڑ کر نکل پڑتا ہے، نہ واپسی کی امید، نہ آرام کی طلب، صرف اپنے یقین کی تپش۔ شہر کے لوگ نیند کی گہری چادروں میں لپٹے ہوتے ہیں، مگر وہ جانتا ہے کہ کہیں دور کوئی شخص جاگ رہا ہوگا، سرد ہوا کا سینہ چیرتا ہوا، اپنے مقصد کے ساتھ تنہا کھڑا۔
اس کے دل میں ایک جنگجو سی بے قراری ہے، وہ محسوس کرتا ہے کہ اصل جنگ میدانوں میں نہیں، روح کے اندر لڑی جاتی ہے۔ ہر دن ایک محاذ ہے، ہر خوف ایک دشمن، ہر خاموشی ایک حملہ۔ وہ سوچتا ہے کہ شاید بہادری گولی چلانے میں نہیں، بلکہ سچائی پر ڈٹے رہنے میں ہے، اس وقت بھی جب پوری دنیا تمہیں جھکانا چاہے، اور پھر وہ اپنی مٹھی بھینچ لیتا ہے۔
شہر کے بیچ بیٹھا وہ اکیلا شخص جانتا ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک محاذ چھپا ہوتا ہے، کچھ لوگ اسے دبا دیتے ہیں، کچھ اس سے بھاگ جاتے ہیں، مگر کچھ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی روح کے اندر بغاوت جگا لیتے ہیں۔ وہ انہی کے بارے میں سوچتا ہے، ان کے عزم، ان کی خاموش ہکل، اور اس آگ کے بارے میں جو کبھی بجھتی نہیں کیونکہ جنگجو صرف ہتھیار سے نہیں پہچانا جاتا، جنگجو وہ ہے جس کے اندر یقین آخری سانس تک زندہ رہے۔
ہزاروں خوف اس کے راستے میں دیوار بن کر کھڑے رہے۔ کبھی شکست کا ڈر، کبھی تنہائی کا، کبھی اس انجام کا جس کا اندازہ بھی روح کو کانپنے پر مجبور کر دے، وہ ہر رات انہی اندیشوں کے سائے میں بیٹھا اپنے آپ سے لڑتا رہا۔
شہر کی سرد روشنیاں اس کے چہرے پر پڑتی رہیں مگر اس کے اندر ایک خاموش آگ مسلسل سلگتی رہی۔ شروع میں وہ آگ کمزور تھی، جیسے ہوا کے ایک جھونکے سے بجھ جائے گی مگر وقت نے اسے بھڑکا دیا۔
اب وہ اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں خوف اپنی طاقت کھو دیتا ہے، اتنی بار اس نے اپنے اندیشوں کا سامنا کیا کہ اب ان کی دہشت مانوس ہو چکی ہے۔ وہ جان چکا ہے کہ اصل زنجیریں باہر نہیں ہوتیں، انسان کے ذہن میں ہوتی ہیں، اور جب ذہن ان زنجیروں کو توڑنے کا فیصلہ کر لے تو پھر کوئی دیوار اسے زیادہ دیر قید نہیں رکھ سکتی۔
آج وہ شہر کے بیچ کھڑا ہے مگر پہلے والا شخص نہیں۔ اس کی آنکھوں میں اب سوال نہیں، فیصلہ ہے، اس کے اندر کی خاموشی اب سکوت نہیں، طوفان سے پہلے کی وہ گھڑی ہے جب فضا خود کو سنبھال رہی ہوتی ہے۔ اس نے اپنے خوف کو دفن نہیں کیا، بلکہ اسے ساتھ لے کر چلنا سیکھ لیا ہے، یہی اس کی اصل تیاری ہے۔
وہ جانتا ہے کہ بغاوت ہمیشہ شور سے شروع نہیں ہوتی، کبھی یہ ایک خاموش فیصلہ ہوتی ہے، جو دل کی گہرائی میں جنم لیتا ہے۔ ایک لمحہ آتا ہے جب انسان سوچنا چھوڑ دیتا ہے اور یقین اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ وہ لمحہ اب اس کے سامنے ہے، وہ اپنے وطن میں بڑھتا ہوا ظلم کی آگ مزید برداشت نہیں کر سکتا، بلوچستان کے یہ پہاڑ جو اس کے قلعہ قرار ہیں، وہ ان کی حفاظت کرنے کا فرض بہ خوبی جان چکا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































