قشم اور بندر عباس میں دو اہداف کو نشانہ بنایا، ’ہماری کارروائی دفاعی تھی‘: امریکی حکام

85

امریکی فوجی حکام نے ملک کے این بی سی نیٹ ورک کو بتایا کہ انھوں نے قشم اور بندر عباس میں دو مقامات کو نشانہ بنایا لیکن یہ ایک دفاعی کارروائی تھی اور اس کا مطلب ایران کے ساتھ جنگ ​​دوبارہ شروع کرنا نہیں ہے۔

این بی سی نیوز نے ایک ہنگامی رپورٹ میں پینٹاگون کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی جہازوں نے ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کے جواب میں کارروائی کی ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس نے کارروائی صرف اس وقت کی جب امریکی افواج نے اس کے ایک ٹینکر کو قبضے میں لینے کی کوشش کی۔

خاتم الانبیاء کے ہیڈکوارٹر جو کہ ایران میں جنگ کے انچارج ہیں، نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فوجی دستوں نے امریکی حملوں کا جواب دیا: ’ایران کی مسلح افواج نے فوری طور پر اور جوابی کارروائی میں آبنائے ہرمز کے مشرق میں اور چابہار بندرگاہ کے جنوب میں امریکی فوجی جہازوں پر حملہ کیا، جس سے انھیں کافی نقصان پہنچا۔‘

ایرانی میڈیا نے امریکی بحری جہازوں پر فائرنگ کے لمحے کی ویڈیو جاری کر دی

جمعے کی صبح ایرانی خبر رساں اداروں فارس اور تسنیم نے پاسداران انقلاب کی طرف سے میزائل داغے جانے کے لمحے کی ویڈیو فوٹیج جاری کی، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز اور قشم اور بندر عباس سے ملحقہ ساحلوں میں امریکی بحری جہازوں پر فائر کیے گئے۔

بی بی سی اس ویڈیو اور اس میں ظاہر کی جانے والی تصاویر کی درستگی یا صحیح تاریخ کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے، تاہم سینٹ کام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس تنازعے میں شامل تین جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔