اجمل اور سعید محمد کے ماورائے عدالت قتل انسانی حقوق اور انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔بی وائی سی

7

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ اجمل اور سعید محمد کے ماورائے عدالت قتل انسانی حقوق اور انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

بی وائی سی کے مطابق اجمل، ضلع کیچ کے علاقے ناصر آباد، تربت سے تعلق رکھنے والا ایک مزدور تھا، جو ایک غریب خاندان کا واحد سہارا تھا۔ اسے 21 اگست 2025 کو گوادر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ 256 دنوں تک اس کے اہل خانہ کرب، بے یقینی اور اذیت میں مبتلا رہے، اس امید کے ساتھ کہ وہ زندہ واپس لوٹے گا، مگر ان کی تمام امیدیں اس وقت دم توڑ گئیں جب اجمل کی لاش برآمد ہوئی۔

اسی طرح 49 سالہ سعید محمد، جو جیونی کے علاقے پانوان کا رہائشی اور پیشے کے اعتبار سے دکاندار تھا، کو 9 دسمبر 2025 کی رات تقریباً 3 بجے اس کے گھر سے حراست میں لیا گیا۔ اس کے بعد سے اہل خانہ کو اس کے بارے میں کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ نہ اسے کسی عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی اسے اپنے دفاع کا حق دیا گیا۔ 145 دنوں بعد، 3 مئی 2026 کو سعید محمد کی لاش نلینٹ کے مقام سے برآمد ہوئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعات بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے تسلسل کی عکاسی کرتے ہیں۔ افراد کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے کر لاپتہ کرنا، اہل خانہ کو لاعلم رکھنا، اور بعد ازاں ان کی لاشیں واپس کرنا انصاف اور انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کی سنگین پامالی ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور ان واقعات میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر ان افراد پر کوئی الزامات تھے تو انہیں آئین اور قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جانا چاہیے تھا۔

کمیٹی نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی صورتحال کا نوٹس لیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے۔