آجوئیں مرگ ءِ تلب: رات، یاد، درد اور شعور کا سفر
تحریر: سفر خان بلوچ (آسگال)
دی بلوچستان پوسٹ
رات کے دو بج کر پانچ منٹ، وقت کا یہ پہر ہمیشہ سے عجیب رہا ہے۔ نہ مکمل رات، نہ صبح کا کوئی اشارہ، ایک ایسا درمیانی لمحہ جہاں دنیا کی ظاہری زندگی ساکت ہو جاتی ہے، مگر انسان کی اندرونی دنیا پوری شدت کے ساتھ بیدار ہو جاتی ہے۔ میں اس وقت لکھ رہا ہوں، لیکن سچ تو یہ ہے کہ مجھے خود بھی معلوم نہیں کہ میں کیا لکھ رہا ہوں اور کیوں لکھ رہا ہوں۔ شاید یہ الفاظ میرے اختیار میں نہیں، بلکہ یہ میرے اندر کے کسی ایسے حصے کی آواز ہیں جسے میں خود بھی پوری طرح نہیں جانتا۔ یہ تحریر شاید ایک سوچ نہیں، بلکہ سوچوں کا ایک بہاؤ ہے۔بے ترتیب، بے سمت، مگر سچا۔ جیسے کوئی دریا جو اپنے راستے کا خود تعین نہیں کرتا بلکہ زمین کی ساخت، پتھروں کی سختی اور وقت کی رفتار اسے راستہ دیتی ہے۔
ویسے ہی میں بھی اس لمحے میں بہہ رہا ہوں، الفاظ کی صورت میں، احساسات کی صورت میں۔ میرے کمرے کی کھڑکی سے چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جھانک رہا ہے۔ اس کی روشنی میں ایک عجیب سی کشش ہے۔ نہ صرف روشنی بلکہ ایک خاموش مکالمہ، جیسے وہ کچھ کہنا چاہتا ہو مگر الفاظ کے بغیر، چاندنی کمرے میں پھیل کر ایک ہلکی سی نیلگوں روشنی پیدا کر رہی ہے، جو ہر چیز کو حقیقت سے تھوڑا سا دور اور خواب کے قریب لے جاتی ہے۔ آسمان پر ہلکے بادل نمودار ہو رہے ہیں۔ وہ کبھی چاند کو چھپا لیتے ہیں، اور کبھی اس کے گرد ایک ہالہ سا بنا دیتے ہیں۔ یہ منظر مجھے ہمیشہ یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ حقیقت بھی شاید ایسی ہی ہوتی ہے۔ کبھی صاف، کبھی دھندلی، اور اکثر ادھوری۔ ہم جو دیکھتے ہیں، وہ مکمل نہیں ہوتا، بلکہ صرف ایک جھلک ہوتا ہے۔
میں اپنے بستر پر لیٹا ہوں۔ کمرے میں خاموشی ہے، مگر میرے اندر ایک شور ہے۔ خیالات کا، یادوں کا، سوالوں کا۔ کانوں میں ہیڈفون لگے ہوئے ہیں، اور ایک دُھن مسلسل میرے اندر اتر رہی ہے۔ رحمین بلوچ کی آواز میں ایک ایسا درد ہے جو الفاظ سے آگے جا کر روح کو چھوتا ہے۔ یہ موسیقی صرف سنی نہیں جاتی، بلکہ جھیلی جاتی ہے۔ جیسے ہر سُر ایک زخم ہو، اور ہر لفظ ایک یاد۔ مولم چراگ کے اشعار میرے ذہن میں گونج رہے ہیں“پدا بیا”(معنی، پھر آجاو) ۔ یہ الفاظ سادہ ہیں، مگر ان کے اندر ایک گہرا سمندر چھپا ہوا ہے۔ یہ صرف کسی کو واپس بلانے کی خواہش نہیں، بلکہ وقت کے خلاف ایک بغاوت ہے۔ ایک ایسی خواہش جو حقیقت کو ماننے سے انکار کرتی ہے۔ یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے۔ کیا انسان واقعی ماضی سے آزاد ہو سکتا ہے؟ یا وہ ہمیشہ اپنے ماضی کا اسیر رہتا ہے؟ نطشے کہتا ہے کہ انسان کو اپنے ماضی کو قبول کرنا چاہیے اور اسے اپنی طاقت بنانا چاہیے۔ جبکہ بدھ مت یہ سکھاتا ہے کہ وابستگی ہی دکھ کی جڑ ہے، اور نجات اسی میں ہے کہ ہم چھوڑنا سیکھیں۔ مگر حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں ہے۔ ہم نہ مکمل طور پر چھوڑ سکتے ہیں، نہ مکمل طور پر تھام سکتے ہیں۔ مولم چراگ جن لوگوں کو یاد کرتے ہیں، وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔ مگر کیا واقعی وہ ختم ہو گئے؟ اگر وجود صرف جسم کا نام نہیں، تو شاید نہیں۔ وہ اپنے اثرات میں زندہ ہیں، اپنی یادوں میں زندہ ہیں، اور سب سے بڑھ کر اس درد میں زندہ ہیں جو ان کے جانے کے بعد باقی رہ جاتا ہے۔ درد ایک عجیب چیز ہے۔ یہ تکلیف بھی دیتا ہے، مگر یہی ہمیں زندہ ہونے کا احساس بھی دلاتا ہے۔ اگر انسان درد محسوس نہ کرے، تو شاید وہ ایک مشین بن جائے۔ بے حس، بے روح
آج دوپہر میں نے فدائی نوتک کی کتاب “آجوئیں مرگ ءِ تلب” پڑھی۔ یہ کتاب صرف ایک آبیتی نہیں، بلکہ ایک تجربہ ہے۔ ایک ایسا تجربہ جو قاری کو بدل دیتا ہے۔
نوتک کی زندگی ایک عام بچے کی طرح شروع ہوتی ہے۔ وہی بچہ جو ہر صبح اپنے والد کے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر اسکول جاتا ہے، جس کے خواب چھوٹے مگر سچے ہوتے ہیں۔ مگر زندگی ہمیشہ سادہ نہیں رہتی۔ حالات بدلتے ہیں، اور ان کے ساتھ انسان بھی بدل جاتا ہے۔ نوتک کا سفر ایک معصوم بچے سے ایک باشعور نوجوان تک کا سفر ہے۔ یہ سفر آسان نہیں، بلکہ مشکلوں، سوالوں اور تضادات سے بھرا ہوا ہے۔ وہ ہر مرحلے پر کچھ کھوتا ہے اور کچھ پاتا ہے۔ یہاں ایک مثال بہت موزوں لگتی ہے کیٹرپلر اور تتلی کی۔ ایک سنڈی جب تتلی بنتی ہے، تو وہ صرف بڑھتی نہیں، بلکہ مکمل طور پر بدل جاتی ہے۔ اس کا پرانا وجود ختم ہو جاتا ہے، اور ایک نیا وجود جنم لیتا ہے۔ نوتک کا سفر بھی ایسا ہی ہے ایک تبدیلی، ایک ارتقاء۔ یہ کتاب صرف نوتک کی کہانی نہیں، بلکہ ایک تحریک کی کہانی ہے۔ ایک ایسی تحریک جو وقت کے ساتھ پروان چڑھی، جس نے قربانیاں دیکھیں، اور جس نے اپنے اندر بے شمار کہانیاں سمو رکھی ہیں۔
یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا تحریکیں افراد کو بناتی ہیں، یا افراد تحریکوں کو؟ شاید جواب دونوں ہیں۔ ایک فرد تحریک کو جنم دے سکتا ہے، مگر تحریک اسے شکل دیتی ہے۔ جیسے آگ اور ایندھن دونوں ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں۔ یہ کتاب خاص طور پر بلوچ نوجوانوں کے لیے نہایت اہم ہے۔ کیونکہ یہ انہیں نہ صرف ماضی سے جوڑتی ہے، بلکہ حال کو سمجھنے اور مستقبل کا تعین کرنے کا شعور بھی دیتی ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ جدوجہد صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ ایک ایسا راستہ جس میں قربانی دینی پڑتی ہے، صبر کرنا پڑتا ہے، اور سب سے بڑھ کر خود کو سمجھنا پڑتا ہے۔
رات اب مزید گہری ہو چکی ہے۔ چاند اب بھی موجود ہے، مگر اس کی روشنی میں ایک ہلکی سی تھکن آ گئی ہے۔ شاید یہ میرا وہم ہو، یا شاید یہ میری اپنی کیفیت کا عکس ہو۔ میں اب بھی لکھ رہا ہوں۔ الفاظ اب بھی بہہ رہے ہیں۔ مگر اب ایک فرق ہے اب میں صرف لکھ نہیں رہا، بلکہ سمجھنے کی کوشش بھی کر رہا ہوں۔ انسان کیوں لکھتا ہے؟ شاید اس لیے کہ وہ بھولنا نہیں چاہتا۔ شاید اس لیے کہ وہ سمجھنا چاہتا ہے۔ شاید اس لیے کہ وہ اکیلا نہیں رہنا چاہتا۔ الفاظ انسان کا سب سے بڑا سہارا ہیں۔ یہ وہ پل ہیں جو ماضی کو حال سے اور حال کو مستقبل سے جوڑتے ہیں۔
یہ تحریر بھی شاید ایک پل ہے میرے اور میرے اندر کے درمیان، میرے اور اس دنیا کے درمیان۔ آخرکار، زندگی ایک سوال ہے جس کا کوئی مکمل جواب نہیں۔ ہم سب اس سوال کو اپنے اپنے طریقے سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوئی لکھ کر، کوئی پڑھ کر، کوئی لڑ کر، اور کوئی خاموش رہ کر۔ اور میں؟ میں شاید لکھ کر سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ رات کے اس سناٹے میں، جب دنیا سو رہی ہے، میں جاگ رہا ہوں اپنے سوالوں کے ساتھ، اپنے احساسات کے ساتھ، اور ان الفاظ کے ساتھ جو شاید میرا واحد سچ ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































