یونائیٹڈ بلوچ آرمی کے ترجمان مزار بلوچ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے یکم مئی کو شک کے بنیاد پر دورین مری ولد صحبت خان مری کو تحویل میں لیا ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد اسے باقاعدہ حراست میں لے کر تفتیش کا آغاز کیا گیا، جس کے دوران اہم انکشافات سامنے آئے دورانِ تفتیش یہ انکشاف ہوا کہ مذکورہ شخص سنگت شادی گل مری کی شہادت میں ملوث تھا۔ یکم اپریل کو اس نے سنگت شادی گل کو ایک کام کے بہانے اپنے ساتھ لے جا کر مبینہ طور پر اس کی چائے میں نشہ آور ادویات ملا دیں، جس کے نتیجے میں وہ بے ہوش ہو گیا۔ بعد ازاں اسے بے دردی سے قتل کر کے اپنے دیگر ساتھیوں کی مدد سے لاش کو ایک نامعلوم مقام پر دفنا دیا، مزید تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ وہ کئی برسوں سے بلوچ سرمچاروں کے خلاف ریاست کے لیے سرگرمِ عمل تھا۔ اس نے نہ صرف اپنے جرائم کا اعتراف کیا بلکہ اپنے متعدد ساتھیوں کے نام بھی افشا کیے۔
ان شواہد اور اعترافات کی بنیاد پر بلوچ قومی عدالت نے اسے سزائے موت سنائی، جس پر ہمارے سرمچاروں نے عملدرآمد کیا۔
انہوں نے کہا کہ تنظیم اسے تمام عناصر کو سختی سے تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ قابض ریاست کے دلالی اور فوجی چیک پوسٹوں اور ریاستی تمام اداروں سے دور رہیں ورنہ اپنے جان و مال کے ذمہ دار خود ہوں گے۔
ترجمان نے کہا کہ ہم ایسے تمام کارندوں کے متعلق مکمل معلومات و آگاہی رکھتے ہیں جوکہ قابض ریاست کا ساتھ دے رہے ہیں جو کہ مستقل میں ہمارے سرمچاروں کے نشانے پر ہونگے قومی غداروں کے لیے کوئی نرمی نہیں برتی جائے
انہوں نے کہا کہ شہید سنگت شادی گل مری گزشتہ کئی برس سے تنظیم کے ساتھ وابستہ رہے اور اس دوران کوہستانِ مری اور ہرنائی کے محاذوں پر سرگرمِ عمل رہے، جہاں انہوں نے مختلف ذمہ داریاں انجام دیں تنظیم کی جانب سے شہید سنگت شادی گل مری کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں انہوں نے اپنی پوری زندگی جدوجہد کے لیے وقف کر دی۔ ان کی تنظیم سے وابستگی، ثابت قدمی اور خدمات تنظیم کے لیے قابلِ فخر ہیں۔













































