بی ایل اے کا نیا سمندری یونٹ: تاریخی حوالہ اور موجودہ حکمتِ عملی۔ ٹی بی پی رپورٹ
تحریر: آصف بلوچ
13 اپریل کی شام 5 بج کر 21 منٹ پر بلوچستان میں سرگرم بلوچ مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے آفیشل چینل پر 2 منٹ 22 سیکنڈ پر مشتمل ایک مختصر ویڈیو جاری کی گئی۔ ویڈیو کے ابتدائی مناظر میں چار مسلح افراد کو سمندر کے کنارے ایک عام کشتی کے سامنے کھڑے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ بلوچ مزاحمت سے متعلق گفتگو کرتے ہیں۔ اسی ویڈیو میں سمندری حدود میں پاکستان کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں پر حملے کے منظر صاف دکھائی دیتے ہیں۔
اس ویڈیو کے اجرا سے تقریباً پچاس منٹ قبل بی ایل اے کی جانب سے ایک تحریری بیان بھی سامنے آ چکا تھا، جس میں تنظیم نے 12 اپریل کی صبح بحرِ عرب میں پاکستانی سمندری فورسز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ایک نئے سمندری ونگ کے قیام کا اعلان کیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ کو “حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس” کا نام دیا گیا ہے۔
قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ بی ایل اے ماضی میں بھی مختلف یونٹس اور اسکواڈز تشکیل دیتی رہی ہے، اور عمومی طور پر ان کے نام اپنے جانبحق اراکین سے منسوب کرتی آئی ہے۔ مثال کے طور پر تنظیم کا نمایاں فدائی یونٹ “مجید بریگیڈ” اس کے ایک سینئر رکن مجید لانگو (دوم) کے نام سے منسوب ہے، جبکہ “فتح اسکواڈ” بھی ایک سابق ساتھی فتح قمبرانی عرف چیئرمین کے نام پر رکھا گیا تھا۔
تاہم اس بار تنظیم نے اپنی روایت سے ہٹ کر ایک مختلف راستہ اختیار کیا ہے اور نئے یونٹ کا نام کسی اپنے ساتھی کے بجائے ایک تاریخی شخصیت سے منسوب کیا ہے۔ یہ تبدیلی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے آخر “حمل” کون تھا، جس کے نام پر اس نئے یونٹ کو قائم کیا گیا؟ اور بی ایل اے نے حمل کا نام کیوں چنا؟
اس رپورٹ میں انہی سوالات کا جائزہ لینے کی کوشش کی جائے گی۔
حمل کون تھے؟
حمل ہوت، جو بلوچی لوک روایت میں “حمل جیئند” کے نام سے معروف ہیں، بلوچستان کے ساحلی خطے مکران سے تعلق رکھنے والی ایک تاریخی شخصیت تھے، جن کا زمانہ سولہویں صدی عیسوی بتایا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں روایت ہے کہ جب پرتگالی طاقتیں بلوچستان کے ساحلی علاقوں پر حملہ آور ہوئیں تو حمل نے ان کے خلاف مزاحمت کی قیادت کی۔ مختلف معرکوں میں انہیں کامیابی بھی حاصل ہوئی، تاہم بالآخر وہ پرتگیزیوں کے ہاتھوں گرفتار ہو کر قتل کر دیے گئے۔
حمل کے کردار اور اس دور کے حالات کو سمجھنے کے لیے وسیع تاریخی تناظر کو دیکھنا ضروری ہے۔ بلوچ مورخ حمید بلوچ اپنی کتاب مکران: عہدِ قدیم سے عہدِ جدید تک میں لکھتے ہیں کہ سولہویں صدی میں پرتگالی مہم جو پہلی بار احمد بن ماجد نجدی کی رہنمائی میں واسکو ڈی گاما کے ساتھ مکران کے ساحلی شہر پسنی پہنچے۔ اس ابتدائی آمد کے بعد پرتگالی قوتیں تسلسل کے ساتھ مکران کے ساحل پر آتی رہیں اور متعدد حملوں کے ذریعے اس خطے کو نقصان پہنچاتی رہیں۔
عزیز محمد بگٹی اس دور کے عالمی سیاسی پس منظر کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ خلافتِ عباسیہ کے زوال کے بعد کوئی مضبوط طاقت باقی نہیں رہی تھی جو یورپی بحری قوتوں کا مقابلہ کر سکتی۔ برصغیر کے حکمرانوں نے بھی بحری طاقت کو نظرانداز کیا، جس کے نتیجے میں پرتگالی بحریہ کو بحرِ ہند اور خلیج کے تجارتی راستوں پر غلبہ حاصل ہوگیا۔ پرتگالی جہازوں نے تجارتی قافلوں کو لوٹنا شروع کیا، اور اسی تناظر میں بلوچستان کے ساحلی علاقے خصوصاً پسنی، گوادر اور جیونی بارہا حملوں کی زد میں آئے۔
حمید بلوچ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ پرتگالیوں کو جب عثمانی بحری بیڑے کی موجودگی کی اطلاع ملی تو وہ اس کی تلاش میں نکلے، مگر ناکامی کے بعد مکران کے ساحل پر آ کر ٹھہر گئے۔ اس دوران انہوں نے آس پاس کے علاقوں میں لوٹ مار کی اور آخرکار پسنی شہر کو آگ لگا دی۔
پرتگالیوں کے بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں آمد اور وہاں مقامی مزاحمت کے بارے میں مختلف تاریخی ماخذوں میں واضح اشارے ملتے ہیں۔ پرتگالی مورخ مانوئیل ڈی فاریا ای سوسا اپنی کتاب “پرتگال ہندوستان” میں لکھتے ہیں کہ سولہویں صدی کے آغاز میں، پرتگالیوں نے ہندوستان کی طرف اپنے بحری سفر کے دوران بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے بعض حصوں پر قبضہ کیا۔ تاہم ان کے اندرونِ بلوچستان تک پیش قدمی کے شواہد نہیں ملتے۔ اس دوران انہیں خاص طور پر کلمتی قبائل کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ روایات کے مطابق گوادر اور پسنی کے قریب دو قدیم توپیں موجود ہیں، جنہیں اس مزاحمت اور پرتگالیوں سے چھینی گئی توپوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔
اسی حوالے سے عزیز محمد بگٹی اپنی کتاب بلوچستان شخصیات کے آئینے میں بیان کرتے ہیں کہ کلمت کے حاکم حمل نے غیر ملکی حملہ آوروں کے مقابلے میں اپنے علاقے کے دفاع کا عزم کیا۔ انہوں نے قوت یکجا کیا اور پرتگالی افواج کو ساحلی علاقوں سے پسپا کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس دوران حمل اور پرتگالیوں کے درمیان متعدد جھڑپیں بھی ہوئیں، جن کے بعد بالآخر دونوں فریقین کے درمیان ایک صلح نامہ طے پایا، جس کے نتیجے میں پرتگالیوں نے اپنی عسکری کارروائیاں روک دیں۔
اسی دور میں بلوچی لوک داستانوں میں حمل جیئند کا کردار نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ معروف بلوچ رہنما اور مورخ گل خان نصیر کے مطابق حمل جیئند مکران کے ایک بڑے سردار ہونے کے ساتھ ساتھ پیشہ ور سمندری تاجر بھی تھے، جو مکران کے ساحل سے زنجبار، عدن اور بصرہ تک سفر کرتے تھے۔ چونکہ ان سمندری راستوں پر پرتگالیوں کی اجارہ داری قائم ہو چکی تھی اور وہ مقامی قوتوں خصوصاً عثمانی سلطنت کے قریب سمجھے جانے والوں کو برداشت نہیں کرتے تھے، اس لیے حمل اور پرتگالیوں کے درمیان جھڑپیں معمول بن گئیں۔ ان معرکوں میں کئی مواقع پر پرتگالیوں کو پسپائی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
تاہم حمل کا انجام مختلف روایات میں قدرے مختلف انداز میں بیان ہوا ہے۔ بلوچی کی معروف کتاب میراث کے مطابق ایک موقع پر جب حمل سمندری سفر پر تھے تو ان کا قافلہ طوفان کی زد میں آ گیا۔ جب وہ عمان کے قریب پہنچے تو پرتگالیوں نے انہیں گھیر لیا۔ لڑائی چھڑنے پر ان کے ساتھی منتشر ہو گئے اور حمل تنہا مقابلہ کرتے رہے، مگر بالآخر زندہ گرفتار کر لیے گئے۔
بعد ازاں انہیں یا تو عمان یا گوا (Goa) منتقل کیا گیا اس حوالے سے تاریخ میں اختلاف پایا جاتا ہے جہاں قید کے دوران انہیں قتل کر دیا گیا۔
لوک روایت یہ بھی بتاتی ہے کہ قید کے دوران حمل کو جان بخشی کے بدلے مختلف پیشکشیں کی گئیں، مگر انہوں نے تمام تر پیشکشیں مسترد کر دیں اور مزاحمت کی علامت بن کر ابھرے۔
حمل جیئند کی شخصیت تاریخ اور لوک داستان کے سنگم پر کھڑی ایک ایسی علامت ہے، جو مکران کے ساحل پر بیرونی بحری قوتوں کے خلاف مقامی مزاحمت کی نمائندگی کرتی ہے۔
حمل کیوں؟
یہ سوال بارہا ذہن میں ابھرتا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اپنے نئے یونٹ کے لیے “حمل” کا نام کیوں منتخب کیا؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے جب بلوچ قوم پرست حلقوں سے رجوع کیا گیا تو تقریباً ہر جگہ ایک مشترکہ مؤقف سامنے آیا۔ “حمل” مزاحمت، ساحلی دفاع اور قومی وقار کی تاریخی علامت ہے۔
قوم پرست حلقوں کے مطابق بی ایل اے کے نئے یونٹ “حمل میری ڈیفنس فورس” کا سمندر سے وابستہ ہونا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک تاریخی اور نظریاتی تسلسل کا اظہار ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق حمل نے اپنے دور میں بلوچستان کے ساحلوں کو بیرونی حملہ آوروں، خصوصاً پرتگالیوں، سے بچانے کے لیے مزاحمت کی راہ اختیار کی تھی۔ اسی تناظر میں بلوچ مزاحمتی حلقے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جس طرح ماضی میں بلوچ ساحل بیرونی قوتوں کے قبضے اور دباؤ کا شکار تھے، آج بھی حالات کچھ مختلف نہیں۔
بی ایل اے نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں اس نام کے انتخاب کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس مخصوص نیول یونٹ کا نام عظیم بلوچ مزاحمتی کردار حمل جیئند بلوچ کے نام سے منسوب کیا ہے۔ حمل جیئند بلوچ تاریخ کے وہ جری فرزند ہیں جنہوں نے سولہویں صدی میں اس دور کے جدید ترین پرتگالی استعمار کے خلاف بحری مزاحمت کی بنیاد رکھی اور اپنی عسکری بصیرت سے غیر ملکی قابضین کو شکست دی۔ حمل جیئند کا کردار بلوچ قومی یادداشت میں غیرت، جرات اور سمندری دفاع کی ایک لازوال علامت کے طور پر نقش ہے۔ انہوں نے ثابت کیا تھا کہ وسائل سے لیس استعمار کے مقابلے میں قومی جذبہ اور گوریلا حکمتِ عملی ہمیشہ فتح یاب ہوتی ہے۔ بی ایل اے نے اس نام کا انتخاب اس عزم کے اعادہ کے لیئے کیا ہے کہ ہماری موجودہ مزاحمت اسی معتبر تاریخی ورثے کا تسلسل ہے۔ جس طرح حمل جیئند نے پرتگالیوں کے توسیع پسندانہ عزائم کو خاک میں ملایا، اسی طرح حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس دورِ حاضر کے قابضین کو بلوچ سمندروں سے نکال باہر کرے گی۔
اسی سوال پر جب کراچی سے تعلق رکھنے والے بی ایس او آزاد کے ایک سابق رہنما سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ حمل بلوچ قومی تاریخ کا ایک اہم کردار ہے، جو مزاحمت اور قومی غیرت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ان کے بقول بلوچ سماج میں حمل صرف ایک تاریخی شخصیت نہیں بلکہ قومی شعور کا حصہ ہے۔ بلوچ مائیں اپنے بچوں کو لوریاں دیتے وقت حمل کے نام سے منسوب اشعار سناتی ہیں تاکہ نئی نسل میں مزاحمت، آزادی اور قومی شناخت کا شعور اجاگر ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچوں کو بچپن سے یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ حمل کے وارث ہیں، اور ان کی تاریخ بیرونی حملہ آوروں کے خلاف مزاحمت سے عبارت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی حمل کا نام بلوچ قوم پرستی میں فخر اور جدوجہد کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
بلوچ تاریخ اور قوم پرستی کے اس پہلو پر عزیز محمد بگٹی بھی اتفاق کرتے ہیں۔ وہ اپنی کتاب ،بلوچستان شخصیات کے آئینے میں ، لکھتے ہیں کہ “جس زمانے میں بلوچ قیادت، خصوصاً امیر چاکر اور گہرام، اپنی باہمی رقابتوں میں بلوچ قوت کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر رہے تھے، اسی دور میں مکران میں ہوت قبیلے کا نوجوان سردار میر حمل بلوچستان کے ساحل پر پرتگالی حملہ آوروں کے خلاف برسرپیکار تھا۔”
یہ حوالہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ میر حمل بلوچ تاریخ میں قومی مزاحمت کی ایک روشن علامت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ یہی تاریخی اور علامتی حیثیت بی ایل اے کے لیے اس نام کے انتخاب کی بنیادی وجہ بنی۔
حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس” کے نام کا انتخاب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حمل جیئند کو بلوچ روایت میں مزاحمت اور ساحلی شناخت کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور اسی تناظر میں اس نام کو موجودہ سمندری ونگ سے منسوب کی گئی ہے۔یہ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچستان میں جاری مزاحمتی عمل صرف عسکری یا سیکیورٹی نوعیت کا نہیں بلکہ تاریخی یادداشت، شناخت اور بیانیے کی سطح پر بھی گہری جڑیں رکھتا ہے، جہاں ماضی کی علامتیں حال کے سیاسی تناظر کے لیے نئے معنی اختیار کرتی جا رہی ہیں۔
















































