تربت اور نوشکی میں ناکہ بندی، پولیس چوکیوں پر قبضہ، اسلحہ ضبط، فوجی نگرانی کا نظام تباہ اور فوجی قافلے پر مہلک حملہ۔ میجر گہرام بلوچ

68

 
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے گزشتہ روز 9 اپریل 2026 کو شام 6 بجے حکمت عملی کے تحت ایک وسیع اور مربوط و منظم آپریشن شروع کرتے ہوئے تربت شہر کے قریب سی پیک کے مرکزی روٹ M-8 پر ناکہ بندی کی اور کئی گھنٹوں تک شاہراہ پر مکمل عسکری کنٹرول حاصل کر لیا۔
 
ترجمان نے کہا کہ آپریشن کے آغاز میں سرمچاروں کے ایک مستعد دستے نے شاہ داد ہوٹل کے مقام سے پیش قدمی کرتے ہوئے لوڑی جنگجاہ میں قائم پولیس چوکی پر دھاوا بولا اور بغیر کسی مزاحمت کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ وہاں موجود تمام سرکاری اسلحہ اور دیگر عسکری ساز و سامان ضبط کر کے اپنی تحویل میں لے لیا۔ سرمچاروں نے چوکی پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کے بعد شاہراہ پر دو گھنٹے تک سخت اسنیپ چیکنگ کی، جس کا مقصد دشمن کے متوقع ردعمل اور نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور قابض ریاست کی نام نہاد عمل داری کو تہہ و بالا کرنا تھا۔
 
انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوسرے مرحلے میں سرمچاروں نے دشمن کے جاسوسی نظام کو مفلوج کرنے کے لیے تکنیکی حملے کرتے ہوئے دشت شاہ داد ہوٹل کے عقب میں پہاڑی پوزیشنوں پر نصب پاکستانی فوج کے جدید سرویلنس کیمرے، پاور سپلائی کے لیے نصب سولر پینلز اور دیگر حساس آلات کو مکمل طور پر تباہ کر کے ناکارہ بنا دیا۔
 
ترجمان نے کہا کہ علاوہ ازیں، سرمچاروں نے لوڑی جنگجاہ اور ماشاءاللہ ہوٹل کے درمیان واقع موبائل ٹاور کو بھی نشانہ بنایا، جسے دشمن فوج نے سرمچاروں کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے خفیہ کیمروں اور لسننگ ڈیوائسز سے لیس کر رکھا تھا۔
 
انہوں نے کہا کہ سرمچاروں نے اپنے تمام تزویراتی مقاصد کامیابی کے ساتھ حاصل کرنے کے بعد ناکہ بندی ختم کی اور اپنے محفوظ ٹھکانوں کی جانب روانہ ہوئے۔ اسی دوران قابض فوج کے 6 گاڑیوں پر مشتمل قافلے نے پیش قدمی کرتے ہوئے سرمچاروں کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن پہلے ہی سے مختلف اطراف میں پوزیشنوں پر گھات لگائے سرمچاروں کے دستے نے فوجی قافلے پر حملہ کر کے ان کی پیش قدمی کو روک دیا۔ آدھے گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس شدید جھڑپ میں سرمچاروں نے دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ جھڑپ کے دوران قابض فوج نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے سرمچاروں کی نگرانی کرنے کی کوشش کی، جسے فائرنگ کر کے سرمچاروں نے تباہ کر دیا۔
 
ترجمان نے کہا کہ اس حملے میں دشمن کی دو گاڑیاں براہِ راست زد میں آئیں جبکہ تیسری گاڑی کو گولیوں سے شدید نقصان پہنچا۔ سرمچاروں کی عسکری برتری کے باعث حواس باختہ دشمن فوج کو پسپا ہونا پڑا۔ اس کارروائی میں پاکستانی فوج کے متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔
 
ترجمان نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 10 اپریل 2026 کی شام 6 بجے، نوشکی ڈاک میں مربوط حکمت عملی کے تحت شاہراہ کی ناکہ بندی کی اور مسلسل دو گھنٹے تک پورے علاقے کو اپنے مکمل عسکری کنٹرول میں رکھا۔ اس دوران سرمچاروں کے مختلف دستوں نے شاہراہ اور گرد و نواح کے علاقوں میں منظم گشت کیا تاکہ دشمن کی کسی بھی ممکنہ نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔
 
انہوں نے کہا کہ علاقائی گشت کے دوران سرمچاروں کا سامنا پولیس کی ایک موٹر سائیکل گشتی ٹیم سے ہوا، جسے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حراست میں لے لیا گیا۔ کارروائی کے دوران سرمچاروں نے پولیس اہلکاروں کے قبضے سے ایک عدد نائن ایم ایم پستول اور وائرلیس سیٹ قبضے میں لے کر ضبط کر لیا۔ تاہم اپنی روایتی بلوچ قومی اخلاقیات اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مذکورہ اہلکاروں کو رہا کر دیا۔ تاہم انھیں سخت تنبیہ کی کہ بلوچ تحریک آزادی اور عوام دشمنی سے گریز کریں۔
 
انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں، 11 اپریل 2026 کو سرمچاروں نے نوشکی کے علاقے احمد وال مھسسکی میں قائم پولیس چوکی پر دھاوا بول کر اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ سرمچاروں کی تزویراتی برتری اور برق رفتار حملے سے چوکی پر موجود اہلکار مزاحمت کی سکت نہ لا سکے، جس کے بعد سرمچاروں نے بغیر کسی مزاحمت کے چوکی پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔
 
ترجمان نے کہا کہ چوکی کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سرمچاروں نے وہاں موجود اہلکاروں کو غیر مسلح کر دیا اور ان کے قبضے میں موجود سرکاری اسلحہ اپنی تحویل میں لے لیا۔ حراست میں لیے گئے تمام پولیس اہلکاروں کو سخت تنبیہ کے بعد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کر دیا۔
 
ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ یہ واضح کرتی ہے کہ بلوچستان میں دشمن کی کسی بھی فوجی یا معاشی تنصیب کو محفوظ نہیں رہنے دیا جائے گا۔ ہمارے سرمچار جدید جنگی مہارتوں سے لیس ہیں اور وہ دشمن کے ہر دفاعی حصار کو توڑنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ حملے بلوچستان کی مکمل آزادی تک پوری شدت اور نئی جنگی جہتوں کے ساتھ جاری رہیں گے۔