ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی عارضی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی معاہدے کے لیے جنگ کا “مستقل اور مکمل خاتمہ” ضروری ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران نے اپنا باضابطہ ردعمل ثالثی کے ذریعے امریکا تک پہنچا دیا ہے، جس میں عارضی سیزفائر کی بجائے ایک جامع اور دیرپا حل پر زور دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے جواب میں تقریباً 10 نکات شامل ہیں، جن میں خطے میں تمام جنگی کارروائیوں کا خاتمہ، آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری گزرگاہ کے لیے ضابطہ کار، اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، جنگ سے ہونے والے نقصانات کی تعمیرِ نو جیسے مطالبات شامل ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ تہران نے جنگ بندی تجاویز پر اپنا ردعمل تیار کر لیا ہے اور اسے قومی مفادات کے مطابق ثالثی چینلز کے ذریعے منتقل کیا گیا ہے، جبکہ مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے پہلے ایک 15 نکاتی منصوبہ بھی پیش کیا گیا تھا، جسے ایران نے “غیر حقیقت پسندانہ” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔
ادھر برطانیہ کے اخبار دی گارڈین کے مطابق پاکستان، ترکی اور مصر سمیت مختلف ممالک جنگ بندی کے لیے ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کے بدلے کسی اسٹریٹجک رعایت (جیسے آبنائے ہرمز کھولنا) پر آمادہ نہیں۔
موجودہ صورتحال میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی بدستور برقرار ہے، اور سفارتی کوششوں کے باوجود فوری جنگ بندی کے امکانات غیر یقینی دکھائی دیتے ہیں۔

















































