غزوۂ تبوک میں پنہاں تربیتی پہلوؤں پر ایک نظر!
تحریر: مولوی محمد طیب
دی بلوچستان پوسٹ
رجب سن ۹ھ کا واقعہ ہے، جس میں مسلمانوں کے خلاف بنسبت مشرکینِ عرب و یہود کے زیادہ سخت وجنگجو رومن امپائر کی فوج برسر پیکار ہوئی، جنہیں نصف دنیا پر حکمرانیت کا طُرّۂ امتیاز حاصل تھا، جس کی مسلح افواج نے حال ہی میں سلطنتِ ایران کو شکست سے دوچار کیا تھا، جن کی وسعتِ مالی، قوتِ بدنی وعسکری نظام وغیرہ کو پیش نظر رکھ کر مسلمانوں کی حالت کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ایک ’’پرِکاہ‘‘ کا ’’کوہ‘‘ سے مقابلہ ہے۔ علاوہ ازیں عرب عیسائی قبائل لخم، جزام، عاملہ، قبیلہ غسان وغیرہ بھی مقامِ موتہ پر ہونے والی شکست فاش کا بدلہ و انتقام لینے کے واسطے بے چین و بے تاب اُن کے شانہ بشانہ شریک تھے۔ اس کے بالمقابل مسلمانوں کی زبوں حالی کا کچھ یوں حال تھا، جس کی تفصیل سے متعلق مشہور مؤرخ ابن اسحاقؒ رقم طراز ہیں:
’’أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أمر أصحابہٗ بالتھیؤ لغزو الروم، وذٰلک في زمان من عسرۃ الناس، وشدّۃ من الحرّ، وجدب من البلاد، وحین طابت الأثمار، والناس یحبون المُـقام في ثمارھم وظلالھم، ویکرھون الشخوص علی الحال من الزمان الذین ھم علیہ، وکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قلما یخرج في غزوۃ إلا کنی بھا، وأخبر أنہ یرید غیر الوجہ الذي یصمد لہ إلا ماکان من غزوۃ تبوک، فإنہ بیّنھا الناس؛ لبعد الشقۃ وشدۃ الزمان وکثرۃ العدو الذي یصمد لہ لتأھب الناس لذٰلک أھبتہ۔‘‘ (سیرتِ ابن ہشام:۲/۵۱۶)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا جانثار صحابہؓ کو رومیوں کے خلاف جنگ کی تیاری کا حکم دیا، یہ اس وقت کی بات ہے جب لوگ کسمپرسی کی حالت میں، سخت گرمی، قحط سالی کا شکار تھے، جب کہ مدینہ کے نخلستان میں کھجوریں پک رہی تھیں (جس کا شدّت سے انتظار رہتا تھا)، جس پر اُگنے والی کھجوروں اور ان کے زیرِ سایہ بیٹھنے کو ہر چیز سے محبوب جانا جاتا تھا، نیز ان پیش آمدہ حالت میں خود کو دھکیلنا طبیعت پر شاق وگراں معلوم ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتِ شریفہ یہ تھی کہ جس سمت سے جہاد پر روانگی کا قصد فرماتے اس کو عام لوگوں پر مخفی رکھتے، اور اس کے خلاف جہت کو (توریۃً) بیان فرماتےتھے ، مگر غزوۂ تبوک وہ واحد معرکہ تھا کہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافت کی دوری، حالات کی سختی اور فریقِ مخالف کی کثرتِ تعداد کے سبب لوگوں کو صراحتاً سمتِ سفر سے آگاہ کیا، تاکہ لوگ حسبِ حالت زادِ راہ تیار کرلیں۔‘‘
اس معرکہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جاں نثاری اُخوتِ اسلامی کے اُن گراں قدر جذبات کا اظہار کیا کہ اوراقِ تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہیں۔ نیز اس میں قیامت تک کے انسانوں کے واسطے مختلف حیثیتوں سے تربیتی پہلوں نمایا ں ہوتے ہیں، جس کو مشعلِ راہ بناتے ہوئے انسان دینی ودنیاوی ہر اعتبار سے ترقی کی منازل بآسانی طے کرسکتا ہے، جن میں سے چند فوائد ہدیۂ قارئین ہیں:
1:راہِ خدا میں جانی ومالی قربانیاں پیش کرنے کا جذبہ
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نفیرِ عام کا حکم دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف ایک صدا پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک بڑی تعداد کا ضروریاتِ زندگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جہاد کے لیے نکلنا ان کے پاک طینت ہونے کی بیّن دلیل ہے۔نیز اس کسمپُرسی کی کیفیت اور مسلمانوں کی شکستہ حالی کی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عام تعاون کا اعلان کیا اور اس میں صدقہ خیرات کی ترغیبی مہم چلائی، جس پر شمعِ رسالت کے پروانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس میں حضرت ذوالنورین عثمان غنی رضی اللہ عنہ ۹۰۰اونٹ، ۱۰۰ گھوڑے اور ایک ہزار دینار پیش کرکے ’’مجھز جیش العسرۃ‘‘ کے لقب سے سرفراز ہوئے، جبکہ عبد الرحمٰن بن عوف- رضی اللہ عنہ – چالیس ہزار درہم راہ ِخدا میں صرف کرکے مستحقِ اجر ہوئے۔ (سیرتِ ابن ہشام:۲/۵۱۸)
2:نیکی کے کاموں میں منافست ومسابقت مطلوب ہے
حضرت عمر – رضی اللہ عنہ – کا بیان ملتا ہے کہ میں نے سوچا کہ آج کے دن تو میں صدیق اکبر- رضی اللہ عنہ – سے بازی مارسکتا ہوں، چونکہ میری مالی حالت ان سے قدرے خوشحال ہے، اس بنا پر وہ اثاث البیت کا نصف جو ڈھائی ہزار روپیہ پر مشتمل تھا، پیش خدمت کیا، مگر قربان جائیں حضرت صدیق اکبر- رضی اللہ عنہ – کی جانثاری پر، جنہوں نے گھر میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے سوا کچھ بھی باقی نہ چھوڑا، گھر میں جو کچھ تھا، سب خدا کے نام پر نثار کردیا۔ جب یہ منظر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھا تو فرمایا کہ: مجھے معلوم ہوگیا، میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر کبھی بازی نہیں جیت سکتا۔(حیاۃ الصحابہؓ:۲/۱۵، انفاق الصحابۃؓ المال فی غزوۃ تبوک)3: تعداد کی قلت وکثرت پر اعتماد دھوکہ شیطانی ہے
رومن امپائر افواج کی تعداد تقریباً ۴۰۰۰۰ (چالیس ہزار) تھی، جبکہ اس کے بالمقابل مسلمانوں کا تیس ہزار کا لشکر ’’کَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَۃً بِإِذْنِ اللہِ‘‘ کا والہانہ نعرہ بلند کیے عشقِ نبوی سے سرشار وادیوں وبستیوں کو قطع کیے جارہے تھے۔
4:عذر تراشی جرم میں اضافہ کا باعث ہے
مسلمانوں کے ہمراہ منافقین کی ایک بڑی تعداد اس سفر میں شریک ہوئی، مگر ان کی ایک جماعت نے مدینہ ہی میں تراشیدہ اعذار کے انبار لگاکر رخصت کا سوال کیا، جیسا کہ منافق جد بن قیس نے یہ عذر گڑھا کہ میں نہایت حسین وجمیل ہوں، بنو اصفر کی خواتین کو دیکھ کر نفس پر قابو نہیں پاسکتا، لہٰذا اس ابتلاء و فتنہ سے مجھے محفوظ رکھیں، جس کی شناعت وفتنہ میں پڑجانے کو قرآن مجید نے یوں آشکارا کیا: ’’وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّيْ وَلَاتَفْتِنِّيْ أَلَا فِي الْفِتْنَۃِ سَقَطُوْا۔‘‘(تفسیر قرطبی:۸/۱۵۸، سورۃ التوبہ:۴۹)
اس کے علاوہ رئیس المنافقین عبداللہ بن اُبی بن سلول اور اس کے ہمنوا و ہم مشرب افراد مدینہ کے قریب ذُباب پہاڑی تک شریک ہوئے اور پھر موقع کو غنیمت جان کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
5:اجتماعی امورِ دینیہ میں رخنہ ورکاوٹ ڈالنے پر سخت تنبیہ
منافقین کی ایک بڑی تعداد خود تو شرکت سے باز رہی، جبکہ سویلم یہودی کے گھر جمع ہوکر سادہ لوح مسلمانوں کو جہاد جیسے عظیم امر سے روکنے کی مہم کا آغاز کیا، جیسا کہ قرآن مجید نے ان کا جملہ حکایۃً نقل کرکے ان کو سخت ڈانٹ پلائی: ’’وَقَالُوْا لَاتَنْفِرُوْا فِي الْحَرِّ قُلْ نَارُ جَھَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّا۔‘‘(البقرۃ:۸۱)جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو آپ نے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو بھیج کر اس یہودی کے گھر کو نذر آتش کرنے کا حکم دیا۔(سیرتِ ابن ہشام:۲/۵۱۷)
6: فرائض کی تکمیل کےاسباب مہیا نہ ہونے پر غم کا اظہار
ایک طرف تومنافقین نے مختلف اعذار تراشے، اپنے تئیں خود کو جنگی صعوبتوں سے باز رکھا،تو دوسری جانب مالی اعتبار سے پسپاں حال مسلمانوں کی ایک جماعت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اشکبار حالت میں حاضرِ خدمت ہوئی، جس کا نقشہ قرآن مجید نے یوں کھینچا ہے:
’’ولَا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَ امَآ اَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لَآاَجِدُ مَآ اَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ ۪ تَوَلَّوْا وَّاَعْیُنُہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَ‘‘ (البقرۃ:۹۲)
ترجمہ: ’’اور نہ ان لوگوں پر (کوئی گناہ ہے) جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس اس غرض سے آئے کہ تم انہیں کوئی سواری مہیا کردو، اور تم نے کہا کہ: میرے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر میں تمہیں سوار کرسکوں، تو وہ اس حالت میں واپس گئے کہ ان کی آنکھیں اس غم میں آنسوؤں سے بہہ رہی تھیں کہ ان کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں ہے۔‘‘
7: ایک دوسرے کے ساتھ احسان و مالی تعاون
جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے بھی سواری و زادِ راہ کا انتظام نہ ہوسکا تو ان حضرات کا نہایت افسردگی کے عالم میں حضرت ابن یامین بن عمیر- رضی اللہ عنہ – پر گزر ہوا، ان سے رونے کی وجہ معلوم ہونے پر انہوں نے سواری کے واسطے اونٹ اور زادِراہ کے لیے کھجوریں فراہم کرکے امت کو ہمدردی کے جذبات کا ثبوت دیا۔ (سیرتِ ابن ہشام:۲/۵۱۸)
8:سفرِ تبلیغ وجہاد میں روانگی سے قبل اہل وعیال کے واسطے نیابت کا اہتمام
یہ پہلا معرکہ تھا جس میں کسی زوجہ محترمہ کو ہمراہ لیے بغیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عازمِ سفر ہوئے، اس بنا پر اہل وعیال کی دیکھ بھال کے لیے حضرت علی -کرّم اللہ وجہہ- کو اپنا جانشین مقرر کیا، اور سفر پر روانہ ہوئے، مگر منافقین نے ان کو پست ہمت وابتلاء نفاق کے طعنے دیتے ہوئے موردِ الزام ٹھہرایا، جس پر کبیدہ خاطر ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی اپنا رختِ سفر باندھا اور مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر مقامِ جُرف پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قافلے سے جاملے، مگر اطلاع ملنے پر آپ نے انہیں دوبارہ لوٹنے کا حکم دیا، نیز ارشاد فرمایا :
’’اَلَا تَرْضٰی اَنْ تَکُوْنَ مِنِّيْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ، مِنْ مُّوسٰی إِلَّا اَنَّہٗ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِيْ۔‘‘ (صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ تبوک، رقم الحدیث:۴۴۱۶)
’’کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہیں مجھ سے اس نسبت کا شرف حاصل ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ- علیہ السلام – کے کوہِ طور جانے پر (نسبتِ نیابت کا شرف) حاصل ہوا؟۔‘‘
یہ سن کر حضرت علی-کرّم اللہ وجہہ- مطمئن ہوکر واپس مدینہ لوٹ آئے۔نوٹ:اس سے معلوم چلا کہ داماد کو بھی اہل وعیال کی دیکھ بھال کے لیے مقرر کیا جاسکتا ہے، نیز’’اَنْتَ مِنِّيْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی‘‘ کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ بھائی کو بھی اس خدمت پر مامور کیا جاسکتا ہے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ان دونوں حیثیتوں کی جامع شخصیت تھے ۔
9: عذابِ الٰہی کا مظہر بستیوں پر سے گزرتے ہوئے خشیت کے آثار کا ظہور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا قافلہ جب مقام حِجر کو پہنچا، جہاں قومِ ثمود کے کھنڈرات تھے، جہاں ہزاروں برس قبل حضرت صالح علیہ السلام نے توحید کی صدا بلند کی تھی، مگر ان کی دعوت پر لبیک کہنے کے بجائے ظلم وتعدی کی داستان رقم کرنے پر حق تعالیٰ شانہ نے ان پر زلزلے وکڑک کا عذاب مسلط کرکے ان کا نام ونشان تک مٹادیا، البتہ پہاڑوں میں تراشیدہ قصر ومحلات زبانِ حال سے ان کی داستانِ عبرت سنارہے تھے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو تاکید فرمائی: ’’ان ظالم لوگوں کی آبادی ومسکن سے گزرتے ہوئے حق تعالیٰ سے ڈرو، مبادا یہ کہ وہی عذاب تم پر نازل نہ ہوجائے، کوئی شخص بھی یہاں قیام کی کوشش نہ کرے ، یہاں کا پانی استعمال میں نہ لائے، اور جو پانی استعمال کرکے آٹا وغیرہ گوندھا گیا ہو، اسے جانور کے سامنے ڈال دیا جائے۔‘‘(صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ تبوک، رقم الحدیث:۴۴۱۸) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عبرت ناک مقام کو چہرۂ انور پر رومال ڈالے تیزی سے عبور کیا۔حساس اور لطیف مزاج انسان کو عذاب زدہ مقامات پر ہزارہا سال بعد بھی ایک وحشت وغضب اُترتا محسوس ہوتا ہے، حضور علیہ السلام سے بڑھ کر ایسے اثرات کا احساس بھلا کس کو ہوسکتا تھا۔(تاریخ امت مسلمہ، جلداول، ص:۳۶۴)
10: غیرتِ شرعی ایمان کا حصہ ہے
حضرت ابو خیثمہ رضی اللہ عنہ سفرِ تبوک سے گرمی کی شدت کے پیش نظر لوٹ آئے تھے، جب اپنے باغ کے سایہ فگن خیمے میں داخل ہوئے اور اہلیہ کی جانب سے ٹھنڈا پانی پیش کیا گیا تو غیرتِ ایمانی واخوتِ اسلامی نے جوش مارا اور فرمانے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحابؓ سخت گرمی کی تپش سے دوچار ہوں اور ابوخیثمہ یہاں ٹھنڈی چھاؤں وشیریں پانی سے لطف اندوز ہو، ضمیر نے ایسا جھنجھوڑا کی اسی وقت قسم اُٹھائی کہ اس باغ میں قدم بھی نہ رکھوں گا، حتیٰ کہ دوبارہ ان کے ساتھ شریک نہ ہوجاؤں، بہرحال اسی وقت عازمِ سفر ہوئے اورحاضرِ خدمت ہوئے، تاخیر کی وجہ دریافت کیے جانے پر سارا ماجرا بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خوب خیر کی دعاؤں سے نوازا۔ (سیرتِ ابن ہشام:۲/۵۲۱)
11: چھوٹوں کی رائے کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھنا
روایت میں آتا ہے کہ سفر کے دوران بھوک کی شدت کا یہ عالم تھا کہ لوگ اپنے سواری کے جانور ذبح کرکے کھانے پر مجبور تھے، جب یہ سارا منظر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو دربارِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضرہوکر عرض کیا کہ اس عمل سے اصحاب کو روک دیجئے، اس طرح تو سفر سے واپسی میں شدید دِقت پیش آئے گی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر اس کے علاوہ دوسری راہ کیا ہے؟ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زیرکی ودانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ سب کے پاس موجود زاد ِراہ جمع فرمالیں، اور آپ اس پر برکت کی دعا کیجئے، امید ہے کہ اللہ کی طرف سے راہ ہموار ہوجائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ مشورہ پسند آیا، آپ نے اعلان کیا، تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے پاس جو تھوڑا بہت زادِ راہ محفوظ تھا، سب ایک چمڑے کے دسترخوان پر جمع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر برکت کی دعا کی، اور فرمایا: ’’خُذُوْا فِيْ أوْعِيَتِکُمْ‘‘ سب اپنے توشہ دان کو مکمل بھر لو، سب نے توشہ دان کو بھرا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اب تم لوگ کھاؤ۔ راوی کہتے ہیں کہ سب نے خوب سیر ہوکر کھایا، حتیٰ کہ بہت سارا کھانا اب بھی باقی رہا۔
جاری۔۔۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































