بیانیے کی تبدیلی: بلوچستان کا موقف اور ریاست کی نفسیاتی پسپائی.
تحریر: ہانی بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
تاریخی طور پر ریاستیں اپنے جغرافیے اور مفادات کے تحفظ کے لیے بیانیے (Narratives) تخلیق کرتی ہیں، لیکن جب کسی ریاست کا بیانیہ وہی زبان بولنے لگے جو اس کے مخالفین برسوں سے بول رہے ہوں، تو اسے سیاسی اور نفسیاتی شکست کا پیش خیمہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ بلوچستان کے تناظر میں آج کل یہی صورتحال ابھر کر سامنے آ رہی ہے۔
عرصہ دراز سے بلوچ سیاسی و فکری حلقوں کا یہ موقف رہا ہے کہ ان کی جدوجہد محض حقوق یا زمین کی جنگ نہیں، بلکہ اس پورے خطے کو اس “عسکری دہشت گردی” سے نجات دلانے کی کوشش ہے جس نے دہائیوں سے سرحدوں کے دونوں طرف انسانیت کو لہولہان کر رکھا ہے۔ بلوچ تحریک کے حامیوں کا دعویٰ رہا ہے کہ خطے میں انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کی نرسریاں دراصل ایک مخصوص ریاستی ڈھانچے کی پیداوار ہیں اور جب تک یہ ڈھانچہ تبدیل نہیں ہوتا، امن ایک خواب رہے گا۔
حالیہ دنوں میں پاکستان کے عسکری ترجمان اور ریاستی اداروں کی جانب سے جو زبان استعمال کی جا رہی ہے، وہ حیران کن طور پر بلوچ بیانیے سے مماثلت رکھتی ہے۔
جب ایک طاقتور عسکری ریاست وہی الفاظ استعمال کرنے پر مجبور ہو جائے جو اس کا حریف استعمال کرتا ہے، تو یہ اس بات کا اعتراف ہوتا ہے کہ: ریاست کا پرانا بیانیہ (Narrative) اب عوام اور عالمی برادری کے لیے قابلِ قبول نہیں رہا۔
ریاست اخلاقی اور منطقی بنیادوں پر دفاعی پوزیشن میں آ چکی ہے۔
بیانیے کی اس تبدیلی کو محض الفاظ کا ہیر پھیر سمجھنا غلطی ہوگی۔ یہ ایک گہری نفسیاتی شکست کی علامت ہے:
جب ریاست اپنے ہی بنائے ہوئے “اثاثوں” یا پالیسیوں کو دہشت گردی قرار دینے لگے، تو اس کے اندرونی ڈھانچے میں ٹوٹ پھوٹ واضح ہو جاتی ہے۔
سیاسی طور پر یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جبر و استبداد کے ذریعے عوامی آواز کو دبانے کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے، اور اب ریاست کو اپنی بقا کے لیے مخالف کے منطقی بیانیے کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔
بلوچستان کی جدوجہد کو اب صرف ایک صوبائی مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اگر ریاست کا عسکری ترجمان وہی زبان بول رہا ہے جو بلوچوں کی ہے، تو یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ سچائی اب دیواروں سے باہر آ چکی ہے۔ یہ محض ایک فوجی تضاد نہیں بلکہ ایک ایسی فکری شکست ہے جس کا تدارک گولی سے نہیں بلکہ زمینی حقائق کو تسلیم کرنے سے ہی ممکن ہے۔بلوچستان کا یہ مقدمہ کہ “ریاستی عسکریت پسندی خطے کے لیے کینسر ہے”، آج افغانستان کی صورتحال اور وہاں پر ھونے والے دہشت گردی کے خطرات کی صورت میں ایک تلخ حقیقت بن کر سامنے آ رہا ہے۔ جب ہم اس تناظر میں پاکستان کی سیاسی اور نفسیاتی شکست کا ذکر کرتے ہیں، تو اس کے پیچھے دہائیوں پر محیط وہ پالیسیاں ہیں جنہوں نے پورے خطے کو بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے۔
پاکستان کی عسکری ریاست نے جس “دہشت گردی” کو ایک سٹریٹجک ہتھیار کے طور پر افغانستان میں استعمال کیا، آج وہی آگ خود اس کے اپنے گھر تک پہنچ چکی ہے۔ بلوچ سیاسی حلقوں کا یہ موقف کہ “دہشت گردی کی نرسریاں سرحد نہیں دیکھتیں”، آج درست ثابت ہو رہا ہے۔ ریاست نے جن گروہوں کو افغانستان میں مداخلت کے لیے پالا، اب وہی گروہ ریاست کے اپنے کنٹرول سے باہر ہو کر پورے خطے کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
ماضی میں ریاست نے دہشت گردی کو دو خانوں میں بانٹ رکھا تھا، گڈ اور بیڈ لیکن آج جب عسکری ترجمان دہشت گردی کے خلاف دہائی دیتا ہے، تو یہ دراصل اس سٹریٹجک ڈیپتھ (Strategic Depth) کی پالیسی کا جنازہ ہے جو افغانستان کو اپنی پانچویں کالونی سمجھ کر بنائی گئی تھی۔
افغانستان میں عدم استحکام پیدا کر کے جو “کامیابی” سمیٹی گئی تھی، وہ آج پاکستان کی معیشت اور سیکیورٹی کے لیے نفسیاتی بوجھ بن چکی ہے۔
ہمسایہ ممالک اب پاکستان کے “دہشت گردی مخالف بیانیے” پر یقین کرنے کے بجائے اسے شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، کیونکہ ماضی کے حقائق اس کے برعکس رہے ہیں۔
ریاست کا موجودہ بیانیہ کہ “ہم دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہیں”، دراصل اپنی ہی گذشتہ 40 سالہ افغان پالیسی کی ناکامی کا اعتراف ہے، جسے اب وہ ایک نئی “مظلومیت” کے لبادے میں چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
پاکستان کی یہ نفسیاتی شکست اب بین الاقوامی سطح پر بھی واضح ہے۔ حتی کہ آج کوئی بھی ہمسایہ ملک پاکستان کے سیکیورٹی بیانیے پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بلوچوں کا یہ دیرینہ موقف کہ “یہ ریاست خود دہشت گردی کا مرکز ہے”، اب عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ حقیقت بنتا جا رہا ہے۔
ریاست کا عسکری ترجمان آج جس دہشت گردی کا رونا رو رہا ہے، وہ دراصل اس کے اپنے بوئے ہوئے کانٹے ہیں۔ بلوچستان کی آزادی کا بیانیہ دراصل اس انتہا پسندانہ مائنڈ سیٹ سے آزادی کا نام ہے جس نے افغانستان کو تباہ کیا اور اب پورے خطے کو نگلنے کے درپے ہے۔ یہ بیانیہ اب صرف بلوچوں کا نہیں، بلکہ خطے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کی خاموش زبان بن چکا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































