بلوچ ریپبلکن گارڈز کے ترجمان دوستین بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی آر جی کے گوریلا شہری یونٹ پرویز اربن وارئیرز نے بلوچستان اور سندھ کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 6 مارچ کو پرویز اربن وارئیرز نے رات کے وقت ٹنڈو مستی خان، خیرپور سندھ کے مقام پر مال گاڑی اور ریلوے ٹریک کو آئی ای ڈی بم سے نشانہ بنا کر اڑا دیا، جس کے نتیجے میں مال گاڑی پٹڑی سے اتر گئی اور ریلوے ٹریک شدید متاثر ہوا۔
ترجمان نے کہا کہ 5 مارچ کی رات بلوچ ریپبلکن گارڈز کے یونٹ پرویز اربن وارئیرز نے سبی کے قریب گلو شہر کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ سرمچاروں نے شہر میں قائم قابض پاکستانی پولیس تھانے سمیت دیگر سرکاری عمارتوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرمچاروں نے گلو شہر کے پولیس تھانے میں موجود تمام اہلکاروں کو گرفتار کر لیا جبکہ اسلحہ اور دیگر فوجی سازوسامان ضبط کر لیا۔ بعد ازاں گرفتار پولیس اہلکاروں کو بلوچ ہونے اور انسانیت کے ناطے متنبہ کر کے چھوڑ دیا گیا۔ سرمچاروں نے وہاں موجود سرکاری گاڑی کو جلا کر ناکارہ بنا دیا جبکہ اسلحہ، موٹر سائیکلیں اور دیگر فوجی سازوسامان اپنے ساتھ لے گئے۔
ترجمان نے کہا کہ اسی دوران سرمچاروں نے تھانے کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد لونی روڈ پر ناکہ بندی کر کے گاڑیوں کی مکمل تلاشی لی۔
دریں اثناء سرمچاروں نے ناڑی گاج روڈ پر بھی ناکہ بندی کی اور اسنیپ چیکنگ کرتے ہوئے آنے جانے والی گاڑیوں کی مکمل تلاشی لی۔
انہوں نے کہا کہ اسی دوران سرمچاروں نے سبی کے قریب ناڑی گاج کے مقام پر ریلوے ٹریک پر بارودی مواد نصب کر کے اسے دھماکے سے تباہ کر دیا۔
ترجمان نے کہا کہ اسی طرح بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے ڈھاڈر تا گنداواہ روڈ پر بھی ناکہ بندی کر کے آنے جانے والی گاڑیوں کی تلاشی لی گئی۔
انہوں نے کہا کہ 4 مارچ کی رات سرمچاروں نے سبی کے علاقے لمجی میں قابض پاکستانی فورسز کی ایک چیک پوسٹ کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ اس دوران گرنیڈ لانچر کے گولے بھی داغے گئے جو متعلقہ ہدف پر لگے، جس کے نتیجے میں سات دشمن اہلکار ہلاک ہوئے۔
ترجمان نے کہا کہ اسی دوران سرمچاروں نے بائی پاس پر مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے آنے جانے والی گاڑیوں کی مکمل تلاشی لی۔
انہوں نے کہا کہ 4 مارچ کی رات سرمچاروں نے نصیر آباد کے مرکزی شہر ڈیرہ مراد جمالی میں ایس پی ہائی وے آفس کے قریب ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو اہلکار شدید زخمی ہوئے۔
ترجمان نے کہا کہ 3 مارچ کی رات بلوچ ریپبلکن گارڈز کے پرویز اربن وارئیرز نے بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے شہر ڈیرہ مراد جمالی میں قابض پاکستانی فورسز کے مرکزی کیمپ کو ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ حملہ کافی دیر تک جاری رہا۔ اس دوران متعدد گرنیڈ لانچر گولے فائر کیے گئے جو کیمپ کے اندر اہم اہداف پر گرے، جس کے نتیجے میں پانچ فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ اسی رات سرمچاروں نے نصیر آباد کے علاقے چھتر کے قریب سونواہ کے مقام پر پاکستانی فورسز کی قائم چیک پوسٹ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس میں چھ اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
اسی رات سرمچاروں نے سبی کے مقام مٹھڑی کے قریب بائی پاس پر ناکہ بندی کر کے آنے جانے والی گاڑیوں کی تلاشی لی۔
اسی دوران پاکستانی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر انتہائی قریب سے حملہ کیا گیا اور بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے۔ سرمچاروں نے گرنیڈ لانچر اور آر پی جی کے متعدد گولے فائر کیے جس سے کیمپ کے اندر کھلبلی مچ گئی۔ اس کارروائی میں دشمن کے 9 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
3 مارچ کی رات سرمچاروں نے سبی کے علاقے بختیار آباد شہر میں پاکستانی فورسز کے مرکزی کیمپ پر ایک بڑا حملہ کیا۔ اس دوران متعدد گرنیڈ لانچر اور آر پی جی گولے فائر کیے گئے جو کیمپ کے اندر گرے، جس کے نتیجے میں دشمن کے پانچ اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس کے بعد حواس باختہ دشمن فوج نے عام آبادی پر بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا۔
اسی رات سرمچاروں نے سبی شہر میں ڈی آئی جی کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا جس سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا، تاہم جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
اسی رات سرمچاروں نے کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں لوکل گورنمنٹ دفتر کے قریب پولیس کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔
1 مارچ کو سرمچاروں نے بلوچستان کے ضلع سبی میں ارنڈ کے مقام پر قابض پاکستانی لیویز تھانے پر قبضہ کر کے تمام سرکاری سازوسامان اپنے قبضے میں لے لیا اور لیویز اہلکاروں کو گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں انہیں بلوچ ہونے اور انسانیت کے ناطے متنبہ کر کے چھوڑ دیا گیا۔
اسی دوران مدد کے لیے آنے والی قابض پاکستانی فورسز نے پیش قدمی کی تو پہلے سے گھات لگائے سرمچاروں نے تین گاڑیوں کے قافلے میں شامل ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی کے ذریعے دھماکے سے تباہ کر دیا، جس میں سوار پانچ اہلکار ہلاک ہوئے۔ جبکہ باقی دو گاڑیوں کو بھی انتہائی قریب سے نشانہ بنا کر جانی نقصان پہنچایا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچ ریپبلکن گارڈ کے گوریلا شہری یونٹ پرویز اربن وارئیرز نے مختلف مقامات پر 19 کارروائیوں کا مشن کامیابی سے مکمل کیا اور تمام سرمچار بحفاظت اپنے ٹھکانوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ ریپبلکن گارڈ ان تمام حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ بلوچستان کی آزادی تک دشمن فوج کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

















































