بی وائی سی قیادت کے اہلِ خانہ اُن کے قید و بند، قانونی تقاضوں اور صحت کے حوالے سے پریس کانفرنس کرنا چاہتے تھے۔
تفصیلات کے مطابق کوئٹہ پولیس اور انتظامیہ نے کوئٹہ پریس کلب کو گھیرے میں لے کر ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگر گرفتار رہنماؤں کے اہلِ خانہ کو پریس کانفرنس کرنے سے روک دیا۔
لواحقین کے مطابق پریس کلب کے باہر پریس کانفرنس کی کوشش پر بھی پولیس کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔
بی وائی سی کی زیرِ حراست قیادت کو ایک سال مکمل ہوچکا ہے کوئٹہ پریس کلب کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ماہ رنگ بلوچ کی ہمشیرہ اور دیگر اہلِ خانہ نے بتایا کہ آج ہم بی وائی سی رہنماؤں کے کیسز اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی صحت سے متعلق پریس کانفرنس کرنا چاہتے تھے، لیکن صبح سے ہمیں پریس کلب کے سامنے ہی روک رکھا گیا اور کہا گیا کہ پہلے ڈی سی سے این او سی لے کر آئیں۔
لواحقین کے مطابق ہمارے سامنے کئی افراد کو پریس کانفرنس کرنے کی اجازت دی گئی، لیکن جب ہم نے پوچھا کہ اُن سے این او سی کیوں نہیں مانگا جا رہا جبکہ ہم سے مانگا جا رہا ہے، تو جواب دیا گیا کہ ‘اوپر سے آرڈر ہے’ کہ یہاں صرف اُن فیملیز کو پریس کانفرنس کی اجازت ہے جن کے بچے پہاڑوں پر گئے ہیں یا جن کا تعلق منشیات کے کیسز سے ہے، اس کے علاوہ لاپتہ افراد کی فیملیز یا سیاسی جماعتوں کے لوگوں کو اجازت نہیں دی جائے گی۔
ماہ رنگ بلوچ کی ہمشیرہ کے مطابق مجبوراً ہم نے پریس کلب کی سیڑھیوں کے سامنے بیٹھ کر اپنی پریس کانفرنس شروع کی، مگر اسی دوران پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی اور صحافیوں کو وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی گئی تاکہ وہ ہماری پریس کانفرنس ریکارڈ نہ کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں نااہل حکومت کی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب بولنے اور سوال کرنے کی بھی اجازت نہیں رہی۔
واضح رہے کہ ماہ رنگ بلوچ کی قید کے حوالے سے اطلاعات ہیں کہ ان کی طبیعت ناساز ہے اور انتظامیہ مبینہ طور پر حکومتی احکامات کے تحت انہیں طبی معائنہ فراہم کرنے سے انکاری ہے۔
مزید برآں بی وائی سی قیادت کے کیسز بھی حکومتی دباؤ کے باعث عدالتی تعطل کا شکار ہیں، لواحقین کا کہنا ہے کہ عدالتیں میرٹ کے بجائے سیاسی دباؤ کے تحت کارروائیاں روک رہی ہیں جس سے کیسوں کی پیش رفت مکمل طور پر متاثر ہوئی ہے۔
ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی قیادت کی گرفتاری ماہ رنگ بلوچ کی بگڑتی صحت پر بلوچ سیاسی تنظیموں، رہنماؤں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت انتقامی کارروائیاں بند کرتے ہوئے سیاسی رہنماؤں کو فوری انصاف فراہم کرے۔



















































