فیکٹ چیک: سالم بلوچ “لاپتہ شخص” تھا یا بی ایل اے کمانڈر؟

82

بلوچ لبریشن آرمی کے میڈیا ونگ ہکل کی جانب سے آپریشن ہیروف میں مارے جانے والے اپنے ارکان کی تفصیلات جاری کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشہ روز ہکل میڈیا کی جانب سے کمانڈر سالم بلوچ عرف مولم اور فدائی ماجد بلوچ عرف کمانڈو بادل کی تفصیلات جاری کیئے گئے جن میں دونوں ارکان کی تربت میں پاکستانی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مارے جانے کی تصدیق کی گئی۔

پاکستانی فوج سے منسلک اکاؤنٹس کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ کہ پہلے لاپتہ ہونے والے سلیم بلوچ، جنہیں بی ایل اے نے کمانڈر کے طور پر نامزد کیا ہے، کبھی بھی “لاپتہ” نہیں تھا بلکہ ایک طویل عرصے سے عسکریت پسند تھا۔

یہ حقیقت میں غلط ہے، سالم، جو پنجاب یونیورسٹی میں ماسٹرز کا طالب علم تھا، کو 4 جولائی 2023 کو جبری لاپتہ کر دیا گیا تھا۔ اس کا کیس ایمنسٹی انٹرنیشنل، بی بی سی اور دیگر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے دستاویزی رپورٹ کیا تھا۔

ایک ماہ کی غیر قانونی حراست میں رہنے کے بعد، سالم کو اس کے اغوا کاروں نے 9 اگست 2023 کو رہا کر دیا۔ جس کی تصدیق وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز و اس کے اہلخانہ نے کیا۔ اس کے اہل خانہ اور دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ بری طرح سے تشدد کا نشانہ بن کر واپس آیا اور اس نے دوبارہ جبری گمشدہ ہونے کے خطرے میں دن گزارے۔

سالم 29 جنوری 2026 کو تربت میں پاکستانی فورسز کے ساتھ ایک مقابلے میں مارا گیا تھا۔ بی ایل اے نے اس کے عہدے اور وابستگی کی تصدیق واضح طور پر یہ کہتے ہوئے کیا کہ ریاستی حراست سے رہائی کے ایک ماہ بعد سالم نے ستمبر 2023 میں بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی۔

اعتدال پسند اندازوں کے مطابق پچھلے 5 سالوں میں ہزاروں بلوچ نوجوان مسلح گروپوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ اس اضافے کا براہِ راست تعلق بڑھتے ہوئے فوجی کاروائیوں، جبری گمشدگی اور تشدد سے بھی ہیں۔

ایک تجزیہ کار نے ٹی بی پی کو بتایا، “سالم بلوچ کا عسکریت پسند ہونا ریاستی اقدامات کی نشاندہی کرتا ہے جس نے اسے وہاں پہنچایا۔ جب آپ معصوم طلباء کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک کرتے ہیں، تو آپ بالآخر انہیں بالکل ویسا ہی بنا دیتے ہیں۔”