پاکستانی فورسز کی جانب سے نوشکی کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن مزید تیز، کرفیو جاری ہے۔
نوشکی سے موصول اطلاعات کے مطابق پاکستانی فورسز کی بڑی تعداد علاقے میں پہنچ گئی ہے اور شہریوں کو گھروں میں رہنے اور بازار بند رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
اس دوران فورسز کے مسلح ٹینک شہر کے مختلف مقامات پر تعینات ہیں۔
اطلاعات کے مطابق رات گئے پاکستانی فورسز نے نوشکی کے احمد وال علاقے میں درجنوں گھروں پر چھاپے مارے اور موبائل فونز اور دیگر گھریلو سامان کی تلاشی لی۔
فورسز اہلکاروں نے اس دوران رہائشیوں سے بلوچ لبریشن آرمی کے سربراہ بشیر زیب بلوچ کے ٹھکانے کے حوالے سے بھی پوچھ گچھ کی ہے۔
یاد رہے کہ نوشکی کے احمد وال بی ایل اے سربراہ بشیر زیب کا آبائی علاقہ ہے، جہاں گذشتہ روز پاکستانی فورسز نے ان کے آبائی گھر کو بارودی مواد لگا کر دھماکے سے تباہ کردیا تھا۔
اسی دوران پاکستانی فورسز نے نوشکی کے قاضی آباد میں موجود ایک خالی گھر کو بھی بارودی مواد لگا کر تباہ کردیا، مذکورہ گھر حاجی عبدالصمد نامی شخص کا تھا جو 2009 میں ایک حادثے میں جانبحق ہوئے تھے، جبکہ ان کا خاندان کئی سالوں سے خلیجی ممالک میں مقیم ہے۔
واضح رہے کہ 31 جنوری کو بلوچ لبریشن آرمی نے آپریشن ھیروف کے تحت دیگر اضلاع کی طرح نوشکی پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا تھا، جہاں وہ چھ روز تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
بی ایل اے نے چھ روز بعد آپریشن کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران انہوں نے پاکستانی فوج کے متعدد کیمپس اور آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا، جبکہ چھ روزہ جھڑپوں میں درجنوں پاکستانی فورسز اہلکار ہلاک ہوئے۔
بی ایل اے آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلے کے اختتام کے بعد پاکستانی فورسز کی بھاری نفری کی نوشکی آمد کا سلسلہ جاری ہے جبکہ متعدد گرفتاریوں و جبری گمشدگیوں کے بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔













































