شال اور ھیروفی لشکر ۔ شیراک بلوچ

237

شال اور ھیروفی لشکر 

تحریر: شیراک بلوچ 

دی بلوچستان پوسٹ 

ہیروف فیز ون کے حملوں سے ریاستی ادارے ابھی تک سر پر ہاتھ رکھے پریشان تھے کہ یہ سب کیا اور کیسے ہوا۔ چونکہ اس قابض ریاست کو شاید اپنے سستے فوجیوں کی جانوں کے ضیاع پر اتنا رنج نہ ہو، مگر اسے بے حد تکلیف بلوچ مسلح جدوجہد اور قومی آزادی کی تحریک کے عالمی سطح پر زیرِ بحث آنے سے تھی۔ اسی لیے وہ اب تک یہ تمام تر کوششیں کر رہے تھے کہ اس حملے کی بحث کو محدود اور منیپولیٹ (Manipulate)  کیا جائے۔ اسی دوران یہ اعلان بھی ہوتا ہے کہ ہیروف ٹو ہوگا، اور ہیروف ون سے کہیں زیادہ شدید نوعیت کا ہوگا۔

اسی اعلان نے شروع دن سے ہی پاکستانی فوج اور اس کے دیگر اداروں کے لیے خوف کا ماحول پیدا کر دیا تھا۔ رفتہ رفتہ یہ کیفیت خود بھی اور پورے بلوچ سماج میں بھی ایک شدید نوعیت کے حملے کے انتظار میں بدل گئی۔ یہ ہیروفی لشکر کی حملے سے پہلے نفسیاتی فتح تھی کہ پورے سماج میں ایک ایسا سماں قائم ہو چکا تھا کہ قابض ریاست کے تمام ادارے اسی کیفیت میں تھے کہ ایک انتہائی شدید حملہ ہونے والا ہے۔ سماجی ماحول بھی یہی محسوس کروا رہا تھا کہ ریاست اور اس کے ادارے حملے سے پہلے ہی نفسیاتی طور پر ہار چکے ہیں۔

اور بالآخر وہی ہوا جس کا سب کو انتظار تھا، یعنی ہیروف فیز ٹو، 31 جنوری کی صبح طلوع کے ساتھ۔

چونکہ ہیروف ٹو کے عملی حملے سے پہلے ذہنی طور پر یہ ماحول بنایا جا چکا تھا کہ ایک بڑی نوعیت کا حملہ ہوگا، اسی کیفیت کے ساتھ 31 جنوری کی صبح شال میں ہیروفی لشکر کی طوفانی صدائیں گونجنے لگیں۔ فجر کی نماز کے فوراً بعد ایک ایسا زور دار دھماکہ ہوا کہ پورا شال لرز اٹھا۔ میں نے بھی اس کی شدت محسوس کی اور یوں لگا کہ کوئی بہت بڑی نوعیت کا دھماکہ ہوا ہے۔ اسی اثنا میں ساتھ سوئے ہوئے دوست نے بھی فوراً آنکھ کھولی۔ اس کے بولنے سے پہلے ہی میں نے کہا: “کچھ ہوا ہے۔”

اسی دھماکے کے ساتھ لشکر کا شال پر حملہ شروع ہوا اور ہر طرف فائرنگ اور جنگ کا عالم تھا۔

کچھ لمحوں بعد معلوم ہوا کہ شال کی پُرکیف صبح ہیروفی لشکر کی آمد کے ساتھ طلوع ہو رہی ہے۔ اس خبر نے ایسی کیفیت پیدا کی کہ صرف گرم کمرے میں بیٹھ کر میڈیا پر یہ نظارہ دیکھنا مشکل محسوس ہونے لگا۔ سماج کی رونق سے یہ صاف محسوس ہو رہا تھا کہ لشکر کی آمد کے ساتھ ہر فرد کی یہی کیفیت ہے کہ وہ ہیروفی لشکر کے جلوے اور روشنی کو گلیوں اور محلوں میں اپنی آنکھوں سے دیکھے۔

ہم ابھی باہر نہیں نکلے تھے کہ سوشل میڈیا پر ہیروفی لشکر نے اپنی آمد کا اعلان کر دیا۔ سب سے بڑھ کر تیزی سے شیئر ہونے والا پیغام لشکر کے کمانڈر انچیف چئیرمین بشیر زیب کا تھا، جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ خود باقاعدہ ہیروفی حملوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس اعلان نے پورے سماج کو اپنی طرف متوجہ کر لیا اور بلوچ سماج میں جشن کا سماں طاری ہو گیا، جبکہ قابض ریاست کے فوجیوں کے لیے خوف کی فضا قائم ہو گئی۔

ہم نے کوشش کی کہ باہر جانے سے گریز کریں، مگر کیفیت ہی ایسی تھی کہ خود کو روک نہ سکے۔ ہم نے اس سماں کو دیکھنے کے لیے سب سے پہلے سریاب کا رخ کیا۔ باہر نکلتے ہی یوں محسوس ہوا جیسے ایک انتہائی شدید نوعیت کی جنگ کا آغاز ہو چکا ہو۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں پہلی بار ایسا ماحول دیکھا: ہر طرف بم دھماکوں سے زمین لرز رہی تھی، گولیوں کی بوچھاڑ تھی، الغرض ایک شدید جنگ کا عالم تھا۔

ماحول حسبِ معمول کے بالکل برعکس تھا۔ تمام دکانیں بند تھیں اور سڑکوں پر ٹریفک کی روانی مکمل طور پر رکی ہوئی تھی۔ میرے لیے سب سے زیادہ حیران کن اور خوشی کی بات یہ تھی کہ اس جنگی ماحول، گولیوں اور فائرنگ کے سماں میں بھی لوگ اپنے گھروں سے باہر نکلے ہوئے تھے اور انتہائی خوشی کے جذبات کے ساتھ یہ منظر دیکھ رہے تھے۔

چونکہ ہم نے شروعات سریاب سے کی تھی، اور سریاب کی پُرکشش فضا اور جلوہ پہلے ہی اپنی مثال آپ ہے، مگر اس دن اسلمی کاروان کی آمد سے سریاب اس قدر پررونق اور معطر تھا کہ دل کو عجیب سا سکون محسوس ہو رہا تھا۔ اس پررونق سماں میں تسکین کی کیفیت یہ تھی کہ جنگ کے ساتھ ساتھ خوشی کا جشن بھی جاری تھا۔ لوگ اسلمی کاروان کے ساتھ اس طرح شانہ بشانہ تھے کہ ہیروفی لشکر اور عوام میں فرق کرنا مشکل ہو گیا تھا۔

پورے سریاب میں پولیس تھانوں، ٹریننگ سینٹرز، بینکوں، الغرض  لشکر نے اپنے ٹارگٹ کے تمام ریاستی اداروں کو باآسانی اپنے کنٹرول میں لیا ، اور عوام ساتھ ساتھ تھے۔ پورا دن جنگی عالم اور جشن کے ماحول میں گزرا۔ پنجاب کو چونکا دینے والی بات یہ تھی کہ اس پورے دن میں پاکستان کے سستے فوجی دور دور تک نظر نہیں آئے۔

سریاب کے بعد ہم نے ڈبل روڈ سے گزرتے ہوئے بازار کا رخ کیا، جہاں سیکریٹریٹ چوک کا راستہ کنٹینرز لگا کر بند کیا گیا تھا۔ مگر اسلمی کاروان پہلے ہی ریڈ زون میں داخل ہو چکا تھا اور اپنے ٹارگٹس پر عمل کر رہا تھا۔ بازار میں بھی وہی جنگی کیفیت تھی: دکانیں بند، ٹریفک معطل، مگر لوگ اپنی دکانوں کے شٹر بند کر کے سامنے کھڑے جنگی سماں کا نظارہ کر رہے تھے۔

اسی ماحول میں سب کی یہی رائے تھی کہ ریاستی فوج ہار چکی ہے، جو اس جنگی عالم میں کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔ پورے شال شہر کا بند ہو جانا خود اس بات کی گواہی ہے کہ ہیروفی لشکر اپنے اہداف میں کامیاب رہا، اور اس نے قابض فوج اور اس کے کٹھ پتلی نمائندوں کے “سیف سٹی کوئٹہ” کے دعوے کو خاک میں ملا دیا۔

ہیروفی لشکر نے صرف پاکستانی فوج کی نمائشی طاقت کو زیر نہیں کیا، بلکہ فوج، اس کے کٹھ پتلی کارندوں اور اداروں کے ایک منظم بیانیے کو بھی خاک میں ملا دیا۔ وہ بیانیہ جسے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بڑی محنت اور منظم انداز میں پیش کیا تھا، تین گھنٹوں سے زائد کی پریس کانفرنس، حملوں کا ماہانہ موازنہ، اسکرپٹڈ ویڈیو کلپس، نمائشی فوجی کارروائیاں، گراف اور تصویری ڈیٹا کے ذریعے فوجی برتری کے دعوے، اور سب سے بڑھ کر یہ بات بار بار انتہائی اعتماد سے دہرائی گئی کہ بلوچستان میں اگست کے بعد مسلح حملوں میں کمی آئی ہے۔

وہ یہ بیانیہ گھڑنے کی کوشش کر رہے تھے کہ بلوچ مسلح جنگ بیرونی زمین سے آپریٹ ہو رہی ہے اور افغانستان بارڈر بند کر کے اسے روکا جا سکتا ہے۔ مگر لشکر کے ان جانبازوں نے اس ساری محنت اور بیانیے کو خاک میں ملا دیا، اور واضح پیغام دیا کہ بلوچ جنگ کسی بیرونی طاقت پر انحصار نہیں کرتی بلکہ ایک خالص آرگینک (organic) جنگ ہے، جس میں بلوچ سرزمین کے باسی اور بلوچ عوام خود پیش پیش ہیں۔

اس مقدس جنگ کے عظیم لشکر کے صرف ایک جانباز فدائی کی قربانی، ڈی جی آئی ایس پی آر، سرفراز، انوار کاکڑ اور سستے میڈیا کارندوں کے پورے سال کی محنت سے گھڑے گئے بیانیے سے کہیں زیادہ مضبوط اور توانا ہے۔ مقدس خون کا ایک قطرہ پورے سال کے جھوٹ اور پروپیگنڈے سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔

تاریخِ جہان کی جنگوں کی حقیقت بھی یہی ہے کہ قربانی کا مقدس خون ہی مقدس کاز (cause) کا اصل عکس ہوتا ہے، جسے جھوٹے بیانیوں سے چھپایا نہیں جا سکتا۔ اور یہی عوامی طاقت ہوتی ہے جو جنگوں کی کامیابی کا فیصلہ کرتی ہے۔ جیسا کہ ویتنام کے جنرل گیاب نے ویتنام جنگ کے بارے میں کہا تھا:

“اس جنگ میں ویتنامیوں کو کامیابی ملی کیونکہ یہ انصاف پر مبنی قومی آزادی کی جنگ تھی، جس میں ویتنام کے لوگوں نے بڑے شوق، دلیری، قربانی اور جنگی جذبے سے حصہ لیا۔ ویتنامیوں کو کامیابی ملی کیونکہ یہ جنگ خالصتاً ویتنامیوں نے لڑی، ویتنام کے لیے، ویتنام کے لوگوں کے لیے۔”

ہیروفی لشکر نے اب تک پاکستانی فوج کو زمینی طاقت میں بھی شکست دی ہے، نفسیاتی طور پر بھی شکست سے دوچار کیا ہے، اور سب سے بڑھ کر پاکستانی ملٹری اور اداروں کے لیے سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ میڈیا، پروپیگنڈا اور بیانیے کی سطح پر بھی شکست دی ہے۔ وہ بیانیے جو طوطے کی طرح ہر جگہ، ہر بار دہرائے جاتے تھے کہ بلوچستان میں فوج کی ضرورت نہیں، یہ صرف ایک ایس ایچ او کی مار ہے؛ بلوچستان میں کوئی قومی جنگ نہیں، یہ صرف 1500 جنگجو ہیں؛ بلوچ جنگ افغانستان بارڈر کی بندش سے کنٹرول ہو چکی ہے، یہ سب ہیروفی لشکر نے خاک میں ملا دیے۔

ہیروفی لشکر نے بلوچ قومی جنگ کو عالمی سطح پر ایک سنجیدہ مباحثے تک پہنچا دیا ہے، جہاں آج حملے کے چھٹے دن بھی مسلسل عالمی سطح پر بلوچ قومی جنگ پر بحث جاری ہے، جو پاکستان کے لیے نہایت پریشان کن حقیقت بن چکی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔