اسما جتک کا انصاف اور تحفظ کے لیے درد بھرا پیغام، ’’ہمیں انتقام نہیں، انصاف چاہیے۔ اسما جتک

6

بلوچستان کے ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والی اسما جتک، جنہیں فروری 2025 میں رشتے سے انکار کے تنازعے پر اغوا کیا گیا تھا، لواحقین اور عوام کے احتجاج کے بعد بازیاب ہوئی تھیں۔ اسما جتک اور ان کے خاندان کا معاملہ اس وقت مزید سنگین صورت اختیار کر گیا جب ان کے منگیتر، دیگر قریبی رشتہ داروں اور بعد ازاں ان کے والد ماسٹر عنایت اللہ جتک کی ہلاکت کے واقعات سامنے آئے۔ ان واقعات کے بعد اسما جتک مسلسل انصاف، جان و مال کے تحفظ اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
اپنے تازہ بیان میں نے واضح کیا ہے کہ ان کے خاندان کی جدوجہد کسی ذاتی دشمنی، انا یا قبائلی غیرت کا معاملہ نہیں، بلکہ انصاف کے حصول کے لیے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کا کسی سے کوئی ذاتی تنازع نہیں اور ان کا واحد مطالبہ انصاف ہے۔

انہوں نے تمام قبائلی عمائدین، علمائے کرام، سیاسی و سماجی شخصیات اور دردِ دل رکھنے والے افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے خاندان کا ساتھ دیں، انہیں درپیش خطرات کا نوٹس لیں اور ان کے معاملے کو ذاتی انا یا گروہی تنازعے کی نظر نہ ہونے دیں۔

اسما جتک نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اور ان کے خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے، دھمکیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے اور تمام واقعات کی شفاف تحقیقات کرکے قانون کے مطابق انصاف یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے اپنے والدِ محترم کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہادت سے قبل کسی کے لیے بددعا نہیں کرتے تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے مخالفین کے لیے ہدایت کی دعا مانگتے تھے۔

اسما جتک کے مطابق، ان کے والد کی یہی تربیت آج بھی ان کے لیے مشعلِ راہ ہے اور وہ نفرت و انتقام کے بجائے انصاف کی خواہاں ہیں۔

اسما جتک نے کہا کہ اگر انہیں دنیا میں انصاف نہ ملا تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کریں گی، جہاں نہ طاقت چلے گی، نہ سفارش اور نہ ذاتی انا، بلکہ فیصلہ حق اور انصاف کی بنیاد پر ہوگا۔

انہوں نے معاشرے کے تمام باشعور افراد سے اپیل کی کہ وہ ان کی آواز بنیں اور ان کے خاندان کو تنہا نہ چھوڑیں۔

اسما جتک کا مؤقف ہے کہ ان کے خاندان کو انتقام نہیں، انصاف چاہیے؛ دشمنی نہیں، قانون کی حکمرانی چاہیے، اور ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔