نوشکِل کے شہداء: حق نواز سے شہید اسد تک
تحریر: درشہوار بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
تاریخ گواہ ہے کہ بلوچستان کی زمین جہاں مکران سے لے کر جھلاوان تک، جھلاوان سے لے کر رخشان تک، ہمیشہ ایسے نوجوان پیدا ہوتے رہے ہیں جو ہر وقت بلوچ قوم اور زمین کا دفاع کرتے رہے ہیں۔ ہر سخت حالات میں وہ اپنے قوم کے ساتھ مخلص رہے اور نو آبادیاتی قوتوں کے خلاف جہدوجہد کرتے رہے۔ چاہے وہ انگریز کی حکومت ہو یا پاکستان کی حکومت، بلوچ فرزندوں نے ہمیشہ سامراج کے خلاف مزاحمت ہی کی ہے۔
بلوچستان کی زمین نوشکل نے بھی ہمیشہ ایسے فرزند پیدا کیے کہ جب بھی دھرتی نے آواز دی تو انہوں نے لبیک کہہ کر اپنے سر وطن پر قربان کر دیا۔ یہ وہ فرزند تھے جنہوں نے جنگ میں قدم رکھتے ہی جنگ کا رخ بدل دیا اور یہ وہ فرزند تھے جنہوں نے اپنے ذات، اپنے خواہشات، اپنے خواب، اپنے مال اور اپنی جان سب قربان کر دیئے، اپنے زمین اور آنے والی نسلوں کے لئے۔ آج نوشکل اپنی صحرا اور اپنی خوبصورتی کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے شہیدوں اور غازیوں کی قربانیوں سے شان سے یاد ہوتی ہے۔ نوشکل وہ دھرتی ہے جہاں سے اس نے اپنے کوکھ سے سرمچار جنم دیئے اور پھر انہی سرمچاروں نے نوشکل کو اپنا جنگی سنگر بنایا۔ آج بھی سیاہ کوہ کی چوٹی اپنے شہیدوں کے لئے گنگناتی ہے۔ آج بھی اوتان اپنے شہیدوں کا نام بار بار لے کر فخر کر رہی ہے۔ جب بھی میں کسی پہاڑ کی چوٹی پر کھڑی ہو کر اپنے نوشکل کو دیکھتی ہوں تو مجھے شہیدوں کا لہو یاد آتا ہے، اور جب بھی میں نوشکِل کی مٹی کو ہاتھ میں اٹھا کر بوسہ دیتی ہوں تو مجھے اس مٹی سے شہیدوں کے خون کی بو محسوس ہوتی ہے اور جب بھی میں نوشکل کی زمین سے کہیں دور جاتی ہوں تو میں ہمیشہ اپنے ساتھ نوشکلی زمین کی مٹی رکھتی ہوں کیونکہ یہ وہ زمین ہے جو ہمیں اپنے شہیدوں کے لہو یاد دلاتی ہے۔
آج میں نوشکل کو مبارکباد دیتی ہوں کہ نوشکل نے صرف سرمچار بیٹے نہیں بلکہ بیٹیاں بھی پیدا کی ہیں اور انہوں نے وہ فرزند پیدا کیے جو اپنے ذات کے لئے نہیں بلکہ اپنے وطن اور قوم کے لئے میدانِ جنگ میں ہیں اور وہ ہر محاذ میں، ہر جنگ میں دشمن کو شکست سے دوچار کر رہے ہیں اور آپ نے وہ لکھاری اور شاعر جنم دیے ہیں جو اپنی محبوبہ کی زلفوں کو نہیں بلکہ اپنے وطن کی مٹی، اپنی زمین میں اجڑے ہوئے گھروں اور اپنے شہیدوں کے قصوں کو قلم بند کر رہے ہیں اور آپ نے وہ بیٹے پیدا کیے جنہیں دس دس سال ہو رہے ہیں کہ وہ دشمن کے ٹارچر سیلوں میں بند ہیں اور ہر طرح کی اذیت برداشت کر رہے ہیں، لیکن آج بھی ان کے حوصلے اتنے ہی بلند ہیں جتنے کل تھے۔
میرا دھرتی کا بیٹا شہید حق نواز جس کا نام 2013 میں نوشکل کے سینے میں نقش ہوا اور جو ہمیشہ کے لئے آزادی کا ستارہ بن گیا، وہ اندھیروں میں ہمیں روشنی دکھاتا رہے گا۔ شہید حق نواز بچپن ہی سے تحریکِ آزادی کے لئے کام کرتا رہا۔ جس عمر میں بچے کھیلتے تھے اسی عمر میں شہید حق نواز بیٹھ کر سوچتا تھا کہ دشمن کو کس طرح شکست دینی ہے، کس طرح اس جنگ کو آگے لے جانا ہے۔ وہ بہت کم عمر میں بی ایس او آزاد سے منسلک ہوا، پھر کچھ ہی وقت کے بعد وہ بی ایل اے میں شمولیت اختیار کر گیا اور پھر مجید بریگیڈ کے صفحات میں اپنا نام شامل کیا۔ وہ دن رات اپنے کاموں میں مصروف تھا اور عملی طور پر میدانِ جنگ میں تھا۔ شہید حق نواز کی ہمیشہ یہ نصیحت رہی کہ جہاں بھی کسی غدار کو دیکھا جائے تو اسے نہیں چھوڑنا، اس کے وجود کو مٹا دینا کیونکہ آج وہ ایک ہے جو اپنے قوم کے ساتھ غداری کر رہا ہے، اگر وہ آج بچ گیا تو کل اس کے ساتھ پورا خاندان غدار ہو گا۔ جہاں بھی شہید کا مقابلہ دشمن سے ہوتا تو دشمن ہمیشہ شکست کھاتا۔ بلوچ زمین بانجھ نہیں ہے لیکن زمین کو شہید حق نواز جیسے سپاہیوں کی ہمیشہ ضرورت تھی اور ہے۔ شہید حق نواز 19 فروری 2013 کو شور پارود کے پہاڑوں میں دشمن سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوا اور ہمیشہ کے لئے تاریخ میں امر ہو گیا اور شہید حق نواز کا بھائی شہید اسحاق جو حق نواز سے بڑا بھائی تھا وہ بھی 5 مارچ 2020 کو قربان ہوا۔ شہید اسحاق کئی سالوں تک تحریکِ آزادی سے جڑا رہا اور ہر طرح کی قربانیاں دیتا رہا، ہر سختی برداشت کرتا رہا اور اپنے بھائی کے نقشِ قدم پر چلتا رہا؛ وہ بھی امر ہو گیا اور ہمیشہ ہر بلوچ کے دل میں زندہ رہے گا۔
شہید عامر، شہید فرید اور شہید سلال بلوچ دھرتی کے وہ فرزند تھے جن کے نظریہ، فکر اور شعور کو دشمن کے اذیت ناک ٹارچر سیل بھی شکست نہ دے سکے۔ جب بھی شہیدوں کا عکس آنکھوں کے سامنے سے گزرتا ہے تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ یہی خیال آتا ہے کہ دشمن نے کس طرح اپنے ناپاک ہاتھوں سے انہیں اذیت دی، لیکن ان کے حوصلے انہی ٹارچر سیلوں میں بھی چٹانوں کی طرح بلند تھے۔ وہ بھی اپنی ماؤں کے لاڈلے بیٹے تھے، ان کے پاس بھی زندگی تھی، اپنے خواہشات تھے لیکن سب کو ایک خوبصورت صبح کے لئے قربان کر دیا، وہ صبح جو ہمیشہ روشن ہوگی، اس صبح جب سورج نکلے گا تو اس کے بعد کبھی شام نہیں ہوگا۔ دشمن نے شہید عامر کو اتنا بے دردی سے شہید کیا تھا کہ اس کا چہرہ بھی ظاہر نہ رہا تھا۔ اور شہید سلال اور شہید فرید کے پورے جسم کو کرنٹ دیا گیا تھا۔ شاید دشمن یہ سب کر کے بلوچ قوم کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن دشمن کو کیا پتہ کہ اس کی یہ تشدد بلوچ قوم کو خاموش نہیں کر سکتی؛ کیونکہ بلوچ کو اس کے شہیدوں کا خون کمزور نہیں بلکہ اور مضبوط کرتا ہے۔ دشمن شہید عامر، شہید فرید اور شہید سلال کو شہید کرتے وقت شاید یہی سوچ رہا تھا کہ اس کے بعد کوئی عامر، فرید یا سلال پیدا نہیں ہوگا، لیکن دشمن یہ بھول گیا تھا کہ شہید کبھی مرتے نہیں۔
دشمن! آپ ایک شخص کو تو مار سکتے ہیں لیکن ایک انقلابی سوچ کو کبھی ختم نہیں کر سکتے۔
شہید ریحان اور شہید نودان 24 ستمبر کو بڈو میں کمانڈر گنجل کے ہمراہ شہید ہوئے۔ اس مقابلے کے جنگ میں نودان اور ریحان کمانڈر گنجل کے ساتھ ایک مورچے میں ہو کر دشمن کو وہ شکست دی جس سے وہ آگے بڑھنے کی ہمت ہی نہیں کر رہا تھا۔ دشمن کے کرائے کے سپاہی جب زمین زادوں کے سامنے مکمل شکست کھا چکے تھے تو میدانِ جنگ سے بھاگنے کے راستے ڈھونڈ رہے تھے۔ شہید ریحان اور شہید نودان دونوں کا بچپن ایک ساتھ ایک شہر اور ایک کلی میں گزرا اور پھر دونوں کی منزل اور مقصد بھی ایک تھا، اور پھر دونوں ایک ساتھ ایک ہی وقت میں بڈّو میں شہید ہوئے اور ہمیشہ تاریخ کے پنوں میں ایک ساتھ رہیں گے۔
فدائی میرین 2 فروری 2022 کو گنجل آپریشن میں بارود سے بھری ہوئی گاڑی دشمن کے کیمپ سے ٹکرا کر دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا اور دشمن کو پیغام دیا کہ آپ جتنا بھی خود کو اپنے مورچوں میں محفوظ سمجھیں، ہم ہی آ کر آپ کو آپ کے محفوظ ٹھکانوں اور قلعوں کے اندر مٹی میں ملا دیں گے۔ فدائی میرین درتی کا وہ فرزند تھا جس نے اپنے وطن کے لئے اپنے بدن کا زِرہ بھی قربان کر دیا۔ وہ جانتا تھا کہ میں ایک ایسے مشن کی طرف جا رہا ہوں جہاں سے واپس سلامت آنا ناممکن ہے، لیکن اس کے باوجود وہ خوش اور مسکراتا ہوا جا رہا تھا جیسے کسی کو دوبارہ زندگی ملنے جا رہی ہو۔ اور میرین واقعی، آپ کی با معنی موت نے آپ کو ایک با معنی زندگی بخشی۔
شہید شہزاد بادینی ایک ایسا سپاہی تھا جو ایک سال تک شہر میں رہ کر دشمن کو کالی ضرب لگاتا رہا اور اپنے وطن کا دفاع کرتا رہا، دشمن کو پیغام دیا کہ چاہے ہم شہر میں ہوں یا پہاڑوں میں ہم ہمیشہ آپ پر وار کرتے رہیں گے۔ شہید شہزاد کو ایک سال بعد جب پہاڑوں کا رخ کرنا پڑا تو پہاڑوں پر چند ہی دن ہوئے تھے کہ مخبلی کے مقام پر ایک ڈرون حملے میں شہید ہوا اور ہمیشہ کے لئے تاریخ میں یاد رہے گا۔
فدائی طیب، احمدوال کا وہ قصہ ہے جو دبئی میں رہ کر بھی اپنے وطن کو نہ بھولا۔ طیب کا ایک ایسا داستان ہے جو مجھ جیسے عام لوگوں کی بس کی بات نہیں کہ ہم پوری طرح بیان کر سکیں۔ فدائی طیب پہلے دشمن کی فوج میں تھا جہاں اس نے ناپاک فوج کے ظلم و ستم دیکھے تو اس نے فوج کی ملازمت چھوڑ دی اور پھر دبئی چلا گیا۔ دبئی میں کچھ وقت رہ کر اس نے واپس اپنے وطن آنے کا فیصلہ کیا۔ جب وہ بلوچستان پہنچا تو ائیرپورٹ سے ہی پہاڑوں کا رخ کیا اور چھ ماہ بعد وہ آپریشن ہیروف-1 میں بیلہ کیمپ کے اندر دشمن سے سارے ظلم و زیادتیوں کا بدلہ لے رہا تھا۔ بقولِ شہید طیب؛ “جب میں ایف سی میں تھا تو ایک دن ہمیں کہا گیا کہ فلاں شخص کے گھر میں چھاپہ لگانا ہے اور اسے لاپتہ کرنا ہے۔ جب ہم سب لوگ اس گھر میں چھاپہ لگانے گئے تو اس نوجوان کو جب زبردستی لے جایا جا رہا تھا تو اس کی ماں روتے ہوئے اپنے بیٹے کے پیچھے آ رہی تھی۔ تو کسی ناپاک سپاہی نے اس بلوچ ماں کو بندوق سے مار دیا۔ وہ ماں گری تو میں جا کر اس ماں کو کہا کہ اماں اٹھو اور اسے اٹھانے کی کوشش کی۔ تو اس ماں نے مجھ سے ایک سوال پوچھا: ‘کیا آپ بلوچ ہیں؟ اگر آپ بلوچ ہو تو کیسے آپ خود آ کر اپنے بلوچ بھائیوں کو لاپتہ کر رہے ہیں اور اپنی ماوں اور بہنوں کو رلا رہے ہیں؟’ شہید طیب کے یہ الفاظ؛ ‘اس وقت میرے پاس اس ماں کو جواب دینے کے لئے الفاظ نہ تھے، میرے آنکھوں کے نیچے تھے، لیکن آج میں اپنے قومی فوج بی ایل اے میں شامل ہونے کے بعد اس ماں کو جواب دے رہا ہوں کہ ہاں اماں، میں بلوچ ہوں۔'”
فدائی شاہ فہد نے اکتوبر میں کراچی میں چینی انجینئروں اور سرمایہ کاروں پر حملہ کر کے استاد اسلم کا پیغام یاد دلا دیا: “کہ بلوچ کی مرضی کے بغیر کوئی بھی ان کی زمین سے کچھ بھی نہیں لے جا سکتا۔” اور اس نے دشمن کو ایک بار پھر شارل کی یاد دلا دی، وہ شارل جو ہر بار فدائی بن کر دشمن پر وار کرتا رہے گا۔ فدائی شاہ فہد بہت خاموش مزاج تھا۔ لیکن اس کی خاموشی میں ایک خوبصورتی تھی؛ وہ زندگی بہت خاموشی سے گزاری لیکن جاتے وقت اس نے ایک ایسا شور مچا دیا جس کی آواز دنیا کے کونے کونے تک پہنچی، دشمن کے قلعوں اور کیمپوں تک گئی، اور وہاں جنرلوں اور کرنلوں کی نیندیں اڑا دیں۔ جو تماشائی بنے بیٹھے تھے ان کی بند آنکھیں کھل گئیں، وہ ضمیر جو سوئے ہوئے تھے ان کو بھی جگا دیا۔
میرے نوشکِل کے گوریلا سپاہی شہید عدنان، شہید نقیب اور شہید جہانزیب دن کو ایک عام انسان کی طرح تھے، ہر کسی سے گل مل کر رہتے تھے۔ راستے میں دشمن کی چیک پوسٹ دس بار بھی آئے تو وہ باقی لوگوں کی طرح اپنا شناختی کارڈ دکھا دیتے، لیکن رات کو وہ وطن کے حقیقی جنگجو بن کر دشمن پر وار کرتے، دشمن کے چیک پوسٹوں کی بنیادیں ہلا دیتے۔ وہ اپنا حقیقی چہرہ دن کو چھپا کر رکھتے تھے۔ دشمن تو کیا، ان کے نزدیک کے لوگ بھی محسوس نہیں کرتے تھے کہ یہی وطن کے حقیقی پاسبان ہیں، راتوں کو دشمن کی نیندیں اڑا دینے والے۔ جب دشمن کو ان پر شک ہوا تو وہ سوچا تھا کہ میں ان کو پکڑ کر لے جاؤں گا اور پھر جیسا چاہے ان کے ساتھ کر سکوں گا، لیکن ایک کرائے دار فوج کو کیا پتا کہ یہ کسی کرائے دار فوجی کے سپاہی نہیں بلکہ اپنے قوم اور زمین کے محافظ ہیں۔ ان کی تربیت حاسم منیر جیسے دو ٹکے کے کرائے دار فوجی نے نہیں بلکہ استاد اسلم جیسے انقلابی کردار نے کی تھی۔ جب دشمن نے ان کو پورے شہر میں ڈھونڈا تو وہ دشمن کے ہاتھوں خود کو دینے کے بجائے موت کو ترجیح دے کر اپنے گھروں کو اپنی کھرچ بنا لیا اور آخری گولی تک جنگ جاری رکھی اور دشمن کے درجنوں فوجیوں کو زمین بوس کر دیا۔
اگر کسی کو دوستی کا اصل مطلب تلاش کرنا ہو تو شہید ہارون اور شہید یاسین کی دوستی کی داستان پڑھے، اگر کسی کو وطن سے بے پناہ محبت کی داستان چاہیے تو وہ داستان آپ کو شہید جنید اور شہید نبیل میں ملے گی۔ شہید ہارون، شہید یاسین، شہید نبیل اور شہید جنید یہ صرف نام نہیں بلکہ انقلابی کردار ہیں۔ یہ صرف میرے وطن کے سپاہی نہیں بلکہ میرے وطن کے گوراخ و گلاب ہیں۔ یہ وہی سرمچار ہیں جنہوں نے بلوچستان کی زمین کو ایک نئی اور خوبصورت رنگ بخشی ہے۔ یہ میرے وطن کے وہ سپاہی ہیں جو اپنے ہاتھوں اور قربانیوں سے اپنی قوم کی تاریخ لکھ رہے ہیں۔ یہ وہ شہداء ہیں جنہوں نے اپنے خون سے ہمیں راستہ دکھایا۔
31 جنوری کی صبح جب آپریشن ہیروف-2 کا آغاز ہوا تو اسلمی سپاہی اور ہیرفی لشکر نے پورے بلوچستان کی زمین میں دشمن کے لئے ایسا آگ لگا دی کہ دشمن جل کر اپنی پوری وجود ہی ختم ہو گیا۔ ہیروفی جنگ نوشکِل کی زمین میں چھ دن تک جاری رہا اور ہر طرف سے دشمن شکست کھا چکا تھا۔ نوشکِل کی زمین میں جہاں بھی دشمن نے اپنے لئے ٹھکانے بنائے تھے وہ سب دشمن کے لئے غیر محفوظ ہو چکے تھے۔ آپریشن ہیروف کے آغاز میں نوشکِلی گوراخ فدائی آصیفہ اور فدائی فیضان نے بارود سے بھری گئی گاڑیوں کو دشمن کے کیمپوں سے ٹکرا کر دشمن کی نیند حرام کر دی اور دشمن ششدر رہ گیا۔ دشمن کو لرزا دینے والے اس حملے کے بعد زمین زادوں نے ہر طرف سے دشمن کو گھیر لیا اور ہر طرف سے دشمن پر کالی ضرب لگائی گئی۔ اس تاریخی جنگ میں نوشکِل کے بارہ فرزند شہید ہوئے۔ جب جنگ کا اعلان ہوا تو فدائی نثار بلوچ، فدائی سہیل بلوچ، فدائی اللہ نور جمالدینی، شہید آصیف جمالدینی، شہید فدا حسین جمالدینی، شہید فہد بادینی، شہید حیراس بادینی، شہید سہیل گرگناڑی، شہید ارسلان بلوچ، شہید عاطف شاہ، شہید عصمت بلوچ دشمن کے کیمپوں کے اندر گھس کر انہیں ایک ایک کر کے خاک میں ملا دیا۔ وہی دشمن سرفراز بگٹی جو آج بیٹھ کر کہتا ہے کہ میں رحمان گل اور بشیرزیب سے نہیں ڈرتا، لیکن 31 جنوری کو وہی دشمن رو رہا تھا۔ وہی دشمن مرید اور بشیرزیب جیسے انقلابی کمانڈروں اور سرمچاروں کے خوف سے کینت کے اندر چھپا ہوا تھا۔ آپریشن ہیروف ایک تاریخی جنگ تھی جہاں دشمن سرمچاروں کو دیکھ کر میدانِ جنگ سے بھاگ رہا تھا اور ہر طرف سے دشمن مکمل طور پر ٹوٹ چکا تھا۔
شہید اسد جمالدینی عمر میں تو چھوٹا تھا لیکن کم عمری میں ایک عظیم نظریہ کا مالک تھا اور اپنے چنے ہوئے راستے پر مکمل یقین رکھتا تھا کہ ہم ایک نہ ایک دن ضرور سرخرو ہوں گے۔ وہ ایک ایسا بہادر سرمچار تھا کہ وہ اکیلے دشمن کے سو کرائے دار سپاہیوں سے بلا خوف مقابلہ کر سکتا تھا۔ نوشکِل کی زمین سے اٹھنے والا اس عظیم سرمچار آخر تک ثابت قدم رہا اور اپنے ہی شہر نوشکِل میں شہید ہوا اور تاریخ میں اپنے ساتھیوں سمیت سرخرو ہوا۔
شہداء اس زمین کی مٹی ہمیشہ گواہ رہے گی آپ لوگوں کی قربانیوں کی۔ یہ قوم ہمیشہ یاد رکھے گی کہ آپ لوگوں نے کس طرح بہادری سے اپنے سر قربان کیے اس قوم اور زمین کے لئے۔ اور یہ قوم اپنے آنے والی نسلوں کو بتا دے گی کہ آپ لوگوں نے کس طرح اپنے آج کو اس قوم کے آنے والے کل کے لئے قربان کیا۔ سلام میرے وطن کے ان تمام شہداء کو جنہوں نے اپنی ذات، اپنے خواہشات، اپنے خواب سب قربان کیے بلوچ قوم اور بلوچستان کی آزادی کے لئے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































