3MPO کو سیاسی ہتھیار بنانے کی مذمت، زبیر شاہ آغا کی فوری رہائی کا مطالبہ

15

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ترجمان نے کہا ہےکہ 28 جون بروز اتوار بی وائی سی کے اسیر رہنماؤں کے لواحقین اور آل پارٹیز کی پریس کانفرنس کے فوراً بعد پی ٹی ایم کے رہنما زبیر شاہ آغا کو پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے زبردستی حراست میں لے لیا، اور اب انہیں 3MPO کے تحت گرفتار ظاہر کیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ یہ اقدام ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ ریاست 3MPO جیسے کالے اور غیر جمہوری قوانین کو سیاسی کارکنوں، انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں اور ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت کرنے والی آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

بی وائی سی نے کہا ہے کہ یہ حقیقت واضح ہے کہ 3MPO اب قانون سے زیادہ ایک سیاسی ہتھیار بن چکا ہے، جس کے ذریعے پرامن سیاسی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ جب دلیل کمزور پڑ جائے تو ریاست گرفتاریوں، دھمکیوں اور جبر کا سہارا لیتی ہے۔ ہر گرفتاری دراصل اس خوف کا اعتراف ہے جو طاقتور حلقے سچ بولنے والی آوازوں سے محسوس کرتے ہیں۔

مزید کہاکہ زبیر شاہ آغا ایک پُرامن سیاسی کارکن ہیں جنہوں نے ہمیشہ ظلم، ناانصافی اور جبر کے خلاف آواز بلند کی ہے اور محکوم اقوام کے حقوق، انصاف اور انسانی وقار کی جدوجہد میں مسلسل ان کا ساتھ دیا ہے۔ ان کی گرفتاری کسی جرم کی نہیں بلکہ ان کے سیاسی مؤقف اور حق گوئی کی سزا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ زبیر شاہ آغا کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے اور ان کے بنیادی و آئینی حقوق کا احترام کیا جائے۔