شفیع نہیں شفیع بلوچ کہو
تحریر: سنگت ھانلی
دی بلوچستان پوسٹ
وہ سترا جون دو ہزار گیارہ کی شام تھی جب سب گاڑی میں بیٹھ کر سبی کی جانب روانہ ہوئے۔ شال کی حدود ابھی مکمل طور پر پیچھے نہیں چھوٹی تھیں کہ اچانک اُن کے ایک ساتھی کا فون بج اٹھا۔ فون سننے والے کے لہجے میں عجیب سا اضطراب تھا۔ وہ ہکلاتے ہوئے صرف اتنا کہہ سکا:
“ہاں… نکل چکے ہیں…”
سب کو حیرت ضرور ہوئی، کہ روانگی کی بات محدود رکھنے کا فیصلہ خود واجہ شفیع نے کیا تھا۔ مگر شاید تعلق کی مضبوطی اور برسوں کی رفاقت نے اُنہیں مزید سوال کرنے سے روک دیا۔ لک پاس کے قریب اچانک ایک سیاہ گاڑی نے اُن کی گاڑی روک دی۔ چند اہلکار گاڑی کے قریب آئے۔ اُن میں سے ایک نے سوال کیا:
“تم میں سے شفیع کون ہے؟”
شفیع نے خود جواب دیا:
“شفیع نہیں… شفیع بلوچ کہو۔”
شفیع کے ساتھ اُس ساتھی کو بھی گاڑی سے اتارا گیا جسے کچھ دیر قبل فون آیا تھا، مگر چند فاصلے کے بعد اُسے دوبارہ چھوڑ دیا گیا۔ جبکہ واجہ شفیع کو ساتھ لے جایا گیا۔
اور وہ لمحہ آخری تھا جب باقی ساتھیوں نے واجہ شفیع کو حیات دیکھا۔
خیر اگر واجہ شفیع کی زندگی کو برسوں پیچھے جا کر دیکھا جائے تو اُن کا تعلق تلّی سے تھا، تاہم تعلیم کے سلسلے میں وہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ سبی میں مقیم تھے۔ ڈگری کالج سبی میں وہ بی اے کے طالبِ علم تھے اور اُس وقت وہ بی ایس او آزاد کے مرکزی سینئر جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے پر فائز تھے۔
اُن کی آخری جبری گمشدگی سے چند ماہ قبل کا ایک منظر سنگت بیاں کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بیٹھک کے بیرونی حصے میں رکھی ایک چارپائی پر واجہ شفیع بیٹھے تھے۔ اُن کی گود میں ایک چھوٹی سی بچی تھی، جو بار بار ہنستے ہوئے اُن کے گلے سے لپٹ رہی تھی واجہ شفیع بھی بے تکلفی اور شفقت کے ساتھ اُسے ہنسا رہے تھے۔ اور بچی کو کہہ رہے تھے۔۔
“نی دیر ہُس”
( تم کون ہو)
جواباً بچی کہہ رہی تھی
“نا شیرزال”
(آپکی شیرزال)
غالباً اُس بچی کو اُنہوں نے سمجھایا ہوا تھا۔۔۔
کچھ ہفتوں بعد وہ اپنے چند قریبی ساتھیوں کے ہمراہ بولان کے پہاڑی علاقے کی طرف گئے۔ وہاں اُن سب نے پکنک کا اہتمام کیا تھا۔ جب کھانا تقسیم ہوا تو واجہ شفیع نے سب ساتھیوں میں بانٹنے کے بعد اپنے لیے دیگچی میں تھوڑا سا چھوڑا اور وہیں بیٹھ کر کھانے لگے۔ اسی دوران ایک ساتھی نے ہنستے ہوئے اُن سے کہا:
“شفیع، بس کرو واجہ، کچھ دن بعد تمہاری منگنی ہے، پھر شادی ہوگی۔ ایسے نہ ہو کہ بارش والے دنوں میں ہمیں تم تک پہنچنا بھی نصیب نہ ہو۔”
واجہ شفیع نے قہقہ مارتے ہوئے کہا۔۔
“سنگت ہماری قسمتوں میں یہ کہاں لکھا جاتا ہے کہ شادیوں میں بارشیں ہمارے لیے برسیں۔ ہمارے نصیبوں میں تو اکثر یہی ہوتا ہے کہ جس روز ہم مارے جاتے ہیں، اُسی روز بارش ہوتی ہے۔”
وہاں موجود تمام لوگ ہنس پڑے۔ اور شاید کسی نے بھی اُس جملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
اور پھر، انجام نے بعینہٖ وہی صورت اختیار کی جس کا اشارہ شفیع نے چند ماہ قبل بولان کی اُسی پہاڑی میں کیا تھا جہاں بعد ازاں اُن کی لاش پہنکی گئی۔۔
سترا جون دو ہزار گیارہ کو اُنہیں جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا اور تئیس جون کی شام، مغرب کی اذان سے کچھ ہی لمحے قبل، اُن کے بھائی داد محمد کو ایک نا مانوس نمبر سے کام موصول ہوئی۔
دوسری جانب ایک اجنبی آواز تھی۔
“یہاں ایک لاش پڑی ہوئی ہے۔ اُس کے اوپر ایک پرچی رکھی گئی ہے جس پر ‘شفیع بلوچ’ لکھا ہے، اور نیچے یہ نمبر درج ہے۔ اگر تم لوگ اُسے جانتے ہو، تو آ کر لاش لے جاؤ۔”
مقام مچھ، بولان کا ایک ویران کنارہ بتایا گیا تھا اور اتفاق یہ کہ اُس روز وہاں بارش بھی ہو رہی تھی۔
جب وہ مقامِ وقوعہ پر پہنچے تو وہاں موجود مقامی افراد ایک لاش کے گرد کھڑے تھے۔ یہ کہانی اب پندرہ سال بعد ضیعف داد محمد نے اپنی نیم بصارت والی آنکھوں سے آنسوں صاف کرتے ہوئے بتائی کہ مُجھ میں اتنی ہمت نہ تھی کہ آگے بڑھ کر کپڑا ہٹا سکتا۔
تو اُن کے ایک سنگت آگے بڑھے۔ جب اُنہوں نے کپڑا ہٹا کر چہرہ دیکھا، تو واپس آ کر داد محمد کی طرف دیکھا اور شکستہ آواز میں کہا:
“ِلاش ءِ ارفنگ نا تیاری کین ایلم، پِر تیز مننگ ء”
(لاش کو اٹھانے کی تیاری کریں بھائی بارش تیز ہورئی ہے”)
اور داد محمد چِلانے لگا۔۔
“شفُل ۔۔۔ ہم شفُل کو ہار چکے ہیں۔ یہ جنگ بھی ہم ہار چکے ہیں۔۔۔”
یہ کہتے ہوئے وہ خود بچوں کی مانند پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ اُن کے ساتھ کھڑے دوسرے لوگ بھی ضبط برقرار نہ رکھ سکے۔
بعد ازاں واجہ شفیع بلوچ کی میت تلّی لائی گئی تو
جب غسل کے لیے اُن کے جسم سے کپڑے ہٹائے گئے تو وہاں موجود لوگوں کے مطابق کرب ناک تشدد کے آثار ناقابلِ بیان تھے۔ پاؤں کے نیچے گہرے نیل، جسم پر سگریٹ سے جلائے جانے کے نشانات، آنکھوں کے گرد سیاہی مائل دھبے، اور پورے بدن پر تیز دھار آلے سے لگائے گئے وار کے آثار دکھائی دیتے تھے۔
اور پھر اُن کے سینے میں پیوست گولیاں ۔۔۔
گویا صرف ایک انسان کو قتل کرنا مقصود نہ تھا، بلکہ اُس فکر، اُس مزاحمت اور اُس خواب کو بھی عبرت بنانا مطلوب تھا جسے واجہ شفیع اپنی زندگی کے آخری دن تک اپنے ساتھ اٹھائے رہے۔
ایک انسان شاید موت کو کسی حد تک قبول کر لے، مگر یہ تصور کہ کوئی شخص چند روز قبل تک آپ کے ساتھ بیٹھا، ہنسا، گفتگو کرتا رہا ہو، اور پھر اچانک کسی سنسان وادی میں اُس کی تشدد زدہ لاش پھینک دی جائے ۔۔۔ یہ احساس انسان کے باطن میں ایک مستقل ویرانی چھوڑ جاتا ہے۔
لیکن ان تمام واقعات سے زیادہ حیران کن بات ہمیشہ میرے لیے یہ رہی کہ آخر یہ لوگ کس مٹی سے بنے ہوتے ہیں؟ یہ کیسا یقین، کیسی فکری استقامت، اور کیسا غیر معمولی ایقان ہوتا ہے جو انسان کو اپنی ممکنہ موت کا شعور ہونے کے باوجود بھی اُس راستے سے ہٹنے نہیں دیتا۔
آج بھی جب بعض لوگ نہایت سطحی انداز میں یہ کہتے ہیں کہ “وہ پڑھا لکھا تھا، قابل تھا، اُسے اِن معاملات میں پڑنے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ اپنی زندگی بناتا، کاروبار کرتا، سکون سے رہتا”
تو میں اکثر سوچتی ہوں کہ آخر اِن لوگوں کو زندگی کے مفہوم سے کس نے آشنا کیا ہے؟
کیا صرف سانس لیتے رہنا زندگی ہے؟
کیا خوف کے ساتھ سمجھوتہ کر لینا زندگی ہے؟
کیا ظلم کو معمول مان کر خاموش رہنا زندگی ہے؟
اس موقع پر ابصار جان کی نظم سے کچھ اشعار یاد آتے ہیں کہ
“زندہ مننگ ءِ نی زندگی پاسہ یار ؟
بس گڑا کسکُنے تہہ ہنا نا ضمیر
دا غلام آتے اُر زندہ و لاش ءُ کُل
زندگی اوفتا اس افس ہم زندہ او”
آج اُن کی شہادت کو پندرہ برس بیت چکے ہیں، مگر شاید یہی اُن کی زندگی کا حاصل تھا کہ آزادی کا وہ تخم ، جو اُنہوں نے بویا تھا، آج اُن کے کسی ساتھی، کسی طالب علم ، یا اُس بچی کے دل میں نمو پا رہا ہے۔
کیا یہ اثر ایک عام انسان چھوڑ سکتا ہے؟
تم زندہ ہو، اپنے فکر میں ، اپنے شعور میں ، اپنے وطن کے ساتھ ضدی محبت میں۔
تم زندہ ہو شفیع !
تم زندہ رہوگے شفیع!
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































