اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں کے دوران اس کے چار فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ ہلاکتیں جمعرات کی شب کارروائیوں کے دوران ہوئیں۔
اسرائیلی فوج کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جمعے کی صبح ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کے ایک ریزرو افسر شدید زخمی جبکہ تین ریزرو نان کمیشنڈ افسران اور ایک نان کمیشنڈ افسر معمولی زخمی بھی ہوئے۔
لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی نے بھی جمعے کو بتایا ہے کہ ملک کے جنوب میں واقع قصبوں شرقیا، حروف، کفر رمان، کفر جوز اور کفر صیر پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کی متعدد کھلی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔ ’حزب اللہ نے بارہا یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی پابند نہیں بلکہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔‘
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گیور نے جمعے کے روز لبنان میں اسرائیلی فوج کی جانب سے اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کے اعلان کے بعد کہا کہ ’پورے لبنان کو جلا دینا چاہیے۔‘
انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’امریکیوں کے احترام کے ساتھ، اسرائیل کو پوری دنیا پر یہ واضح کر دینا چاہیے کہ ہمارے بچوں کے خون اور ہمارے شہریوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ پورے لبنان کو جلا دینا چاہیے۔‘
حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد میں نے فوج کو تمام تر طاقت کے ساتھ حملہ کرنے کا حکم دیا: نیتن یاہو
52ویں آرمرڈ بٹالین کے کمانڈر اور ملکی فوج کے تین سپاہیوں کی ہلاکت کے ردعمل میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر امید ظاہر کی کہ ان کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔
نیتن یاہو نے حزب اللہ کے حملے کو جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی کہا اور لکھا: ’پچھلی رات میں نے اسرائیلی فوج کو حکم دیا کہ وہ اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ حزب اللہ پر حملہ کرے۔‘
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے 80 سے زیادہ ٹھکانوں پر حملہ کر کے تنظیم کے درجنوں ارکان کو ہلاک کر دیا ہے۔
انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسرائیل اپنے فوجیوں یا سرزمین پر حملوں کو برداشت نہیں کرے گا اور ان حملوں کی قیمت حزب اللہ کو بہت بھاری پڑے گی۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ آج صبح انھوں نے اپنے ملک کے وزیر دفاع اور چیف آف جنرل سٹاف کے ساتھ جنوبی لبنان میں کارروائیوں کی صورتحال کا جائزہ لیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ ’جب تک شمالی بستیوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہو، اسرائیل جنوبی لبنان میں سکیورٹی زون میں رہے گا۔‘


















































