بلوچ یکجہتی کمیٹی نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 18 مارچ سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن کے بعد سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کرکے درجنوں مقدمات درج کیے گئے، جن میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماوں سمیت دیگر کئی افراد کے نام شامل ہیں۔ دوران احتجاج لوگوں کو گرفتار کرنے کے بعد انہیں مختلف ایف آئی آرز میں نامزد کیا گیا جن میں سے کچھ کو بعد ازاں ضمانت پر رہا کیا گیا، جو مسلسل جیل ٹرائل میں پیش ہوتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود، اب تک کم از کم دو افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ گزشتہ ہفتے معراج، جو گریشہ کا رہائشی ہے، کو کوئٹہ سے جبری گمشدہ کیا گیا، جبکہ وہ مسلسل عدالت میں پیش ہو رہا تھا۔ اسی طرح دو روز قبل عبدالغفار کھیازئی کو بھی جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا، جو انہی کیسز میں پیشیوں پر جا رہا تھا۔ یہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ ایسے افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا جو خود کو قانون کے حوالے کر چکے ہیں اور عدالتی کاروائیوں میں پیش ہورہے ہیں،ریاست کے از خود اپنے عدالتوں کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا ہے کہ مزید برآں، بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر اراکین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ متعدد افراد کو فورتھ شیڈول، نیکٹا اور دیگر قوانین کے تحت ان کے نقل و عمل محدود کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جبکہ بعض کارکنان کے اہلِ خانہ کو حراست میں لے کر انہیں دباؤ میں لایا جا رہا ہے تاکہ وہ تنظیم سے علیحدگی اختیار کریں یا جبری بیانات دیں۔
مزید کہا کہ اس کے علاوہ، ان مقدمات میں دفاع کرنے والے وکلاء کو بھی مسلسل ہراسانی اور دباؤ کا سامنا ہے۔ حالیہ عدالتی پیشیوں کے دوران وکلاء اور ان کے ساتھیوں کو ہراساں کیا گیا، ان کی ذاتی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، اور انہیں دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
بیان میں کہا ہے کہ کل تنظیم کے رہنماؤں نے ہدہ جیل میں جیل ٹرائل کے دوران اس امر کے خلاف بھر پور احتجاج کرتے ہوئے پیشی سے بائیکاٹ کیا،اور جج کی سامنے یہ واضح کیا کہ قانونی طور پر ضمانت پر ہونے کے باوجود معراج اور عبالغفار کے جبری گمشدگی آپکے لیے باعث شرمندگی ہونی چاہیے، اور یہ آپکی زمہ داری ہے کہ آپ جبری گمشدگیوں میں ملوث فوج اور خفیہ اداروں کے خلاف ایکشن لے۔
جبری گمشدگیوں اور بلوچ نسل کشی کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کا جدوجہد ہر صورت جاری رہے گا۔ اس جدوجہد سے ہمیں روکنے کے لیے ریاست کا ہر حربہ گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ ناکام ہوتا رہے گا، بلوچ یکجہتی کمیٹی اس جدوجہد کو ہر صورت جاری رکھے گی اور جب تک جبر کے قوانین تبدیل نہیں ہوتے ہم کسی صورت خاموش نہیں ہونگے۔













































