پسنی: نوجوان تیسری دفعہ پاکستانی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ

74

بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی سے سرتاج ولد صالح محمد کو عید کی رات پاکستانی فورسز نے لاپتہ کر دیا گیا۔

خاندانی ذرائع کے مطابق سرتاج کو ان کے آبائی علاقے پسنی سے نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے، تاہم کئی دن گزرنے کے باوجود ان کے حوالے سے کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ سرتاج ولد صالح محمد اس سے قبل بھی مئی 2025 میں لاپتہ ہوئے تھے، تاہم چند روز بعد وہ بازیاب ہو کر گھر واپس آگئے تھے۔

خاندانی ذرائع کے مطابق سرتاج ولد صالح محمد پہلی بار 28 جولائی 2015 کو اپنے بڑے بھائی مراد بخش ولد صالح محمد کے ہمراہ لاپتہ ہوئے تھے۔ دونوں بھائیوں کو پسنی سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں تقریباً ایک سال بعد سرتاج بازیاب ہو کر گھر پہنچ گئے تھے، تاہم ان کے بڑے بھائی مراد بخش ولد صالح محمد تاحال لاپتہ ہیں اور کئی برس گزرنے کے باوجود ان کے بارے میں کوئی مستند معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

اہل خانہ کے مطابق مراد بخش کی گمشدگی کے بعد گھر کی کفالت اور خاندان کے اخراجات کی ذمہ داری سرتاج ولد صالح محمد کے کندھوں پر آ گئی تھی۔ ان کی حالیہ گمشدگی کے بعد خاندان شدید معاشی مشکلات اور ذہنی اذیت کا شکار ہے۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ گھر کے افراد مسلسل خوف، بے چینی اور غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
متاثرہ خاندان نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور حکام سے اپیل کی ہے کہ سرتاج ولد صالح محمد اور مراد بخش ولد صالح محمد کو فوری طور پر بازیاب کر کے اہل خانہ کی طویل عرصے سے جاری پریشانی کا خاتمہ کیا جائے۔

خاندان کا کہنا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے مسلسل واقعات نے ان کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے اور وہ انصاف اور اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کے منتظر ہیں۔