نوشکلی گواڑخ – آجوئی بلوچ

112

نوشکلی گواڑخ

تحریر: آجوئی بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

پہلی مرتبہ قلم اٹھا کر کسی گواڑخ پر کچھ لکھنے جارہی ہوں، سمجھ نہیں آرہی کہ میں کہاں سے شروع کروں: دو اکتوبر 2002 کی شام سے یا 31 جنوری کی صبح سے۔

آج میں چلتن اور دشت کی گواڑخوں کے بارے میں نہیں لکھ رہی ہوں بلکہ اپنی نوشکلی گواڑخ کے بارے میں لکھنے جارہی ہوں۔ جس طرح سے گواڑخوں نے اپنی خوبصورتی سے چلتن کو سجایا ہے، اسی طرح فدائی آصیفہ نے گواڑخ بن کر نوشکل کو سجایا ہے۔ آصفہ وہ گواڑخ تھی جسے نوشکل کو صدیوں سے انتظار تھا۔

فداہی آصفہ کی کردار لفظوں کی محتاج نہیں ہے، اور نہ ہی میں اسے بیان کرسکتی ہوں۔ میں تو کیا، دنیا کی کوئی بھی شاعر، کوئی بھی لکھاری ان گواڑخوں کو بیان نہیں کرسکتی جو وطن کے لیے قربان ہوئے ہیں۔ انہیں تو صرف چلتن کی بلندی، دشت کی گواڑخیں، نوشکل کی صحرا، بولان کی خوبصورتی، شال کی ہوائیں، گوادر کی سمندر ہی بیان کرسکتی ہیں۔

نوشکل کی زمین جہاں شہیدوں کے قدموں کے نشان موجود ہیں، نوشکل کے پہاڑ جہاں ریکوہ سے لے کر مُنجرو تک، خیصار سے لے کر سیاہ کوہ تک صدیوں سے شہیدوں اور غازیوں کی داستانیں سناتے آرہے ہیں، آج ایک بار پھر یہ زمین اپنی وطن زادوں اور وطن زادیوں کی داستانیں سنا رہی ہے۔ آج ایک بار پھر نتّو اور اوتان خوشی سے گنگناتے نظر آرہے ہیں۔

آپریشن ہیروف میں ہمارے شہیدوں اور غازیوں نے جو قربانیاں دیں وہ لفظوں میں بیان نہیں ہوسکتیں۔ ایک ایسا جنگ جس میں ہماری بہنیں اپنے بھائیوں اور مائیں اپنے بیٹوں کے ساتھ کندھا ملا کر جنگ میں بہادری سے لڑ رہے تھے اور تاریخ رقم کر رہے تھے۔ اس جنگ میں ہمارے بزرگ، نوجوان سب شامل تھے۔

آصفہ نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ اصل کردار وہ ہوتے ہیں جو مرنے کے بعد بھی آپ کو زندہ رکھیں۔ آصفہ کے پاس ایک پرآسائش زندگی تھی، خوشیاں تھیں، خون کے رشتے تھے جو دل کے بہت قریب ہوتے ہیں، خواہشیں تھیں، لیکن اس نے ان سب کو قربان کیا اپنی زمین، اپنی قوم اور آنے والی نسلوں کے لیے۔

اس کے پاس زندگی کی وہ تمام آسائشیں موجود تھیں جو ایک انسان کو خوشحال زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ اگر وہ چاہتی تو وہ ایک خوشحال زندگی گزار سکتی تھی، لیکن اس نے مزاحمت کو چنا۔ اس کے سینے میں ایک ایسا درد تھا جو اسے بار بار یاد دلاتا تھا کہ خاموش رہنا ممکن نہیں ہے۔ فدائی آصفہ کے یہ الفاظ کہ: “ہماری غیرت یہ کبھی برداشت نہیں کرسکتی کہ ہماری ماؤں اور بہنوں کو دشمن سڑکوں پر گھسیٹے، انہیں ذلیل کرے۔”

اس نے زندگی میں خواہش نہیں، مقصد رکھا تھا۔ آصفہ نے خود کو قربان کرکے ہمیں زندگی میں آنکھ کھولنے اور آگے بڑھنے کی ہمت دی۔ آصفہ نے دشمن پر وہ ضرب لگائی جسے دشمن کی نسلیں بھی نہیں بھول پائیں گی، جس طرح سے آپریشن ہیروف میں اسلمی کاروان نے دشمن کو بندوق چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کیا، جس طرح سے ایک ایٹمی طاقت کو اس کی کینٹ اور مورچوں کے اندر بے بس کیا۔ “یہ لمحہ دشمن کے لیے ایک ایسا ڈراؤنا خواب ہے جو جاگ کر بھی دشمن کی آنکھوں سے نہ اترے۔”

31 جنوری کی رات جب سب لوگ غلامی کی نیند میں سو رہے تھے تو گودی آصفہ وطن کا بانور بن کر خود کو سجا کر خاموشی سے اپنی منزل کی طرف نکلی۔ اور پھر کچھ ہی لمحے بعد بارود سے بھری سجی ہوئی گاڑی میں بیٹھ کر اور فدائی بن کر دشمن پر وار کیا اور کامیاب ہوئی، اور اپنے ساتھیوں کے لیے راستہ کلیئر کیا اور دشمن کے سپاہیوں، مورچوں کے ساتھ ساتھ دشمن کے غرور کو بھی خاک میں ملا دیا اور خود ہمیشہ کے لیے تاریخ میں امر ہوگئی۔

جس وقت ہم صرف آزادی کے خواب دیکھ رہے تھے، آصفہ اس وقت اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے عملی طور پر آگے بڑھ رہی تھی۔ جب ہم غلامی کے اگلے دن کے انتظار میں تھے تو وہ اپنے ہدف کی طرف جانے کے انتظار میں تھی اور موت کو گلے لگا رہی تھی۔ جس وقت ہم دشمنوں کے خوف میں تھے، اس وقت آصفہ بے خوف ہوکر دشمن پر وار کیا اور دشمنوں کو خوف میں مبتلا کیا۔

آصفہ نام ہے ہمت کی، قربانی کی، شعور کی۔ آصفہ ایک ایسی داستان ہے جس کو ہم صرف سنتے نہیں ہیں، یہ ہر دل میں موجود ہے۔ اور اس کا نام نوشکل کے سینے میں نقش ہے، اور وہ بار بار آئے گی، فدائی کی شکل میں، ہیروف کی شکل میں اور گواڑخ بن کر بہار لے کر آئے گی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔