وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا ہے کہ عبدالروف ولد حاجی عبدالرزاق، ولد ملک باز محمد، قوم یوسفزئی، عمر 38 سال، جو پیشے کے لحاظ سے زمیندار ہیں، کو 29 مئی 2026 کی شب تقریباً تین بجے ضلع چاغی کے علاقے امین آباد سے ایف سی اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
اہلخانہ کے مطابق اس واقعے کے بعد سے عبدالروف کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جارہی ہیں، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی اذیت اور بے چینی کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ عبدالروف کو اس سے قبل بھی 8 ستمبر 2018 کو سیکورٹی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا، اور وہ تقریباً ڈھائی سال تک لاپتہ رہنے کے بعد بازیاب ہوئے تھے۔ اب ایک مرتبہ پھر ان کی جبری گمشدگی نہ صرف اہلخانہ بلکہ انسانی حقوق کے حلقوں کے لیے بھی شدید تشویش کا باعث ہے۔
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان کا آئین ہر شہری کو آزادی، تحفظ اور منصفانہ قانونی عمل کا حق فراہم کرتا ہے، جبکہ کسی بھی فرد کو عدالت میں پیش کیے بغیر حراست میں رکھنا آئین اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عبدالروف کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے، ان کی باحفاظت بازیابی یقینی بنائی جائے، اور اگر ان پر کسی قسم کا کوئی الزام موجود ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کرکے اپنے دفاع کا مکمل حق دیا جائے۔
انہوں نے وفاقی و صوبائی حکومت، عدلیہ، انسانی حقوق کے اداروں اور کمیشن آف انکوائری آن انفورسڈ ڈس اپیئرنسز سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لے کر عبدالروف کی بازیابی کے لیے عملی اقدامات کریں اور بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں کے سلسلے کو روکنے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بناننے کے لیے اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریاں ادا کریں۔














































