وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ 6148ویں روز میں داخل، لاپتہ افراد کے کیسز پر کمیشن سے رابطہ

19

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج 6148ویں روز میں داخل ہو گیا۔

آج وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے جبری لاپتہ افراد کے کیسز کے سلسلے میں کمیشن کے ڈپٹی رجسٹرار عبد الحمید سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران جبری لاپتہ طالب علم رہنما شبیر بلوچ، نسرینہ بلوچ اور ذیشان کے کیسز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ شبیر بلوچ کا کیس سماعت کے لیے کمیشن کے سامنے پیش نہیں کیا جا رہا، جبکہ نسرینہ بلوچ کے کیس پر اعتراض عائد کر کے اسے واپس تنظیم کو بھیج دیا گیا تھا۔ اسی طرح ذیشان کے کیس کو چار ماہ گزرنے کے باوجود بھی تاحال سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا۔

ملاقات کے دوران نصراللہ بلوچ نے تینوں کیسز کو فوری طور پر سماعت کے لیے مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر کمیشن کے ڈپٹی رجسٹرار نے یقین دہانی کرائی کہ نسرینہ بلوچ اور ذیشان کے کیسز کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا، جبکہ شبیر بلوچ کے کیس کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اسے کس بنیاد پر بند کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کیسز سے متعلق پیش رفت سے وی بی ایم پی کو آگاہ کیا جائے گا، اور انہیں دوبارہ ملکی آئین و قانون کے مطابق آگے بڑھانے پر بھی غور کیا جائے گا۔

چیئرمین نصراللہ بلوچ نے امید ظاہر کی کہ کمیشن نہ صرف ان کیسز کو فوری سماعت کے لیے مقرر کرے گا بلکہ تمام جبری لاپتہ افراد کی بازیابی میں بھی مؤثر کردار ادا کرے گا۔