شاری ازل شاری ابد – ہارون بلوچ

34

شاری ازل شاری ابد

تحریر: ہارون بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ایک ادنیٰ سا انقلابی جہدکار اور دنیا بھر کی تحریکوں کو پڑھنے کے شوق کی وجہ سے اکثر ایسے انقلابی لمحات تاریخ کے پَنّوں میں دیکھے ہیں جب ایک واقعہ، ایک حادثہ اور ایک لمحہ بڑے بڑے انقلابات کی بنیاد بنے ہیں۔ ایک انفرادی واقعہ نے قوموں کی تقدیریں، سلطنتوں کی بنیادیں حتیٰ کہ عالمی جنگوں کی بنیاد رکھی ہے۔ جبکہ کچھ مقامات پر انفرادی موت، اجتماعی فلسفہ، علم و شعور کی ایجادات کی صورت میں دیکھنے کو آئی ہے۔ شعوری موت ہمیشہ کسی نہ کسی بڑے حادثے کو جنم دینے کا باعث ضرور بنی ہے۔

گوکہ کوئی بھی تاریخ ایک اکیلا انسان نہیں بنا سکتا، بلکہ برسوں کے زمینی حقائق، جدوجہد، سرگرمیاں اور جذبات موجود رہتے ہیں، لیکن ایک کہانی اکثر اسے ایک حقیقت کی شکل یا عملی صورت دینے کا کام کرتی ہے۔ کہتے ہیں کہ جب لاوا پگھل جاتا ہے تو اس کے پھٹنے کے لیے ایک چنگاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ صدیوں کی غلامی، دہائیوں کی لوٹ مار، عرصوں کی بربادی اور ہر لمحے کی تذلیل کے سائے میں زندگی کرنے والے اور گزشتہ بیس سال کی جدوجہد و قربانیوں کے درمیان پیدا ہونے والی شاری وہ کہانی ہے جس نے بلوچ قومی تحریک، بلوچ ریاستی تشکیل کے عمل اور ایک قومی تقدیر کے فیصلے کو ایک قومی عزت، مہر و محبت کے ساتھ زندگی گزارنے کی ابدی حقیقت بنا دیا ہے۔

جس طرح فرانس کے انقلاب کے وقت ایک جیل پر حملے نے عوام کو آخری فیصلہ کرنے کی ہمت دی اور انقلابی خیالات ایک حقیقت میں تبدیل ہوئے، اور فرانس میں انقلاب نے بادشاہت کے خاتمے کے سلسلے کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں جمہوریت کا فلسفہ اور نظام رائج ہوا۔ آج یہی نظام دنیا بھر میں سب سے زیادہ قبول کیا جانے والا اور بہترین طرزِ حکمرانی سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح تاریخ میں ہم نے پڑھا ہے کہ جنگِ عظیم اول کی بنیاد بھی ایک انسان کے قتل سے شروع ہوئی۔ اس جنگ نے پورے یورپ کے نقشے تبدیل کر دیے، دنیا بھر میں کروڑوں انسان قتل ہوئے، کئی انقلابات کا سبب بنی، کئی ریاستیں وجود میں آئیں اور بڑی بڑی سلطنتوں کا خاتمہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں کئی نئے علوم، اخلاقیات اور فلسفیوں نے بھی جنم لیا۔ اسی طرح کا ایک واقعہ عرب اسپرنگ انقلاب کی بنیاد بنا، جب تیونس میں ایک نوجوان نے اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر خود سوزی کی اور اسے سوشل میڈیا پر لائیو شیئر کیا۔ اس ایک واقعے کی وجہ سے کئی عرب ممالک میں انقلابات آئے اور کئی حکومتوں کا خاتمہ ہوا۔

تاریخ کے پَنوں میں واقعات کو تلاش کرنے کے بجائے آئیں، داستان شاری کا ایک ادھورا حصہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ اُن واقعات کو ہم نے سنا ہے یا پڑھا ہے یا سماج پر ان کے اثرات کو انقلابات کی شکل میں تاریخ میں دیکھا ہے، لیکن شاری کو ہم جی رہے ہیں۔ خود سے سوال کرنے کی صورت میں، یا جنگ کو اپنانے کے وقت دلیل کی انتہا تک پہنچنے میں، قربانی کے معیار یا بہانہ بنانے کے اوقات میں، راہ فرار اختیار کرنے سے لے کر جہدِ قومی آزادی کے لیے ہر مقام تک پہنچنے تک، آرام و آسائش کی زندگی اختیار کرنے سے لے کر خاندان و بچوں کو جواز بنانے کی حد تک، شاری ایک حادثہ نہیں جسے ہم پڑھیں، وہ کوئی واقعہ نہیں جس کا ہم نظارہ کریں، بلکہ وہ ہمارے لیے ایک ازلی و ابدی فلسفہ ہے جو ایک حقیقت پسندانہ جذبہ بن چکا ہے۔

اس سے ایک بلوچ کا انکار اپنی وجودی، ذاتی اور اجتماعی حقیقت کے فلسفے سے انکار کرنے کے مترادف ہے۔ ہمارے لیے دنیا بھر کے واقعات و حادثات محض قصے ہیں، جبکہ شاری وہ عملی مثال ہے جو ہر عظیم قوم کی پیدائش یا عظمت تک پہنچنے کے وقت تاریخ کی صورت میں ضرور سامنے آتی ہے، یا وہ کسی قوت کی طرف سے نازل ہوتی ہے، اور ہمارے لیے وہ قوت شاری ہے۔ اب شاری ایک ابدی تاریخ ہے، ابدی احساس ہے، ابدی جذبہ ہے اور ابدی زندگی ہے۔

فلسفہِ ازلی و ابدی یہی ہے جس میں چند چیزیں دنیا میں سچائی، حقیقت اور روحانیت کے اصولوں کے مطابق قائم رہتی ہیں۔ شاری اب ہمارے لیے وہ ازلی و ابدی فلسفہ ہے جس میں ہم مہر، محبت، قربانی، خودداری، زندگی کے فلسفے سے آشنائی، اجتماعیت کو انفرادیت میں قبول کرنے، اجتماعی مقصد میں جینے و مرنے، عظیم قوموں کی بنیاد رکھنے، اخلاقیات کے معیار سیٹ کرنے کے اصول و حقیقت و سچائیوں کو دیکھتے ہیں۔ شاری اس دن انسانی معیار سے نکل چکی تھی جب اس نے تاریخ کا رُخ بدلنے کے لیے انفرادیت کے اُس مقام کو قربان کر دیا جس سے وہ شعوری، فکری، انسانی اور روحانی طور پر آشنا تھی۔ زندگی سے آشنا انسان جب موت کو زندگی میں قبول کر لیتا ہے تو وہ شاری کا ہی معیار ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے پہلے انسانی زندگی میں اجتماعیت کے مفاد میں اس طرح قربانی کا تصور بہت ہی کم دیکھنے کو ملتا ہے۔

شاری کو سمجھنے کا مقام وہ ہے جب تم انسان کے مقام سے الگ ہو کر ایک معنوی اور شعوری مقام تک پہنچتے ہو، جہاں تم دنیا کے تمام بنائے گئے خیالات و علم سے ماورا ہو جاتے ہو، اور شاری کو اپنانے کا مقام ایک ایسا مقام ہے جہاں صرف شاری اور شاری کو دہرانے والے ہی پہنچ سکتے ہیں۔ وہاں عام انسان کے پہنچنے کا تصور بھی ممکن نہیں۔ تاریخ کو بدلتے ہوئے پڑھا ضرور ہے، لیکن اسے جیا شاری کی صورت میں ہے۔ وہاں جب تمام انسانی بہانے، خیالات، مصنوعیت اور بناوٹ ختم ہو جاتی ہے اور انسان کے اندر عمل، عمل کی جستجو اور عمل کا نتیجہ پنپتا ہے، تو یہ وہ مقام ہے جب انسان مادی حالات سے نکل کر انسانی حالات میں سوچنا، فکر کرنا اور اجتماعیت کو سمجھنا اور جینا شروع کر دیتا ہے۔

اجتماعیت کو زندگی و موت کی صورت میں قبول کرنا، فکر و شعور کو عمل کی صورت میں ڈھالنا، اور علم کو کسی نتیجے تک پہنچانے کا مقام وہ ابدی مقام ہے جہاں شاری پہنچتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تاریخ بنائی نہیں جاتی بلکہ دہرائی جاتی ہے، لیکن تاریخ خود بھی اپنے آپ سے نہیں بنتی بلکہ اسے دہرانے کے لیے اس کا ہونا لازمی ہوتا ہے۔ شاری وہ انسان نہیں جو تاریخ کو دہراتا ہے بلکہ وہ مقام ہے جس نے تاریخ کو پیدا کیا ہے۔ ایک ایسی تاریخ کی پیدائش جس نے جنگ کو ایک ایسی خوبصورتی کا مقام عطا کیا ہے جہاں اب صرف کردار پنپتے ہیں، بنتے ہیں، مرتے ہیں اور پھر سینکڑوں کی شکل میں زندہ ہوتے ہیں۔ ہر ایک کردار دوسرے سے بڑا، دوسرے سے معتبر اور اپنے اندر شعوری فلسفے کی نشاندہی کرتا ہے۔ شاری کے بعد بلوچ جنگ میں جہدکار نہیں بلکہ کرداروں کے پنپنے کا آغاز ہوا، اور اب اس کا اختتام دنیا کے اختتام کے ساتھ ہی ممکن ہوگا، لیکن بلوچ کرداروں کا اختتام نہیں ہو سکتا۔

انسان کبھی بھی انفرادی طور پر ایک مکمل جنگ، مکمل تحریک یا مکمل جدوجہد نہیں بن سکتا۔ شاری بھی تن تنہا نہیں، وہ بھی انہی حالات، زمینی حقائق اور اجتماعی علم و فکر کا نتیجہ ہے۔ البتہ تحریکوں میں چند کردار انفرادیت سے ہٹ کر وہ مقام حاصل کرتے ہیں جو تحریک کو مکمل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ میں اکثر کہتا ہوں کہ شاری کی قربانی نے بلوچ قومی تحریک، عظیم قومی تصور اور آزادی کی عملی شکل پر آخری مہر لگانے کا مقام حاصل کیا، جہاں سے اب یہ ایک تسلسل نہیں بلکہ ایک مکمل حقیقت بن چکی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جب تمام کاغذی کارروائیاں ختم ہو چکی ہیں، اب یہ ایک عمل بن چکا ہے، ایک حقیقت۔ کون اسے قبول کرتا ہے اور کون نہیں، یہ انفرادی خیالات ہو سکتے ہیں، البتہ حقیقت نہیں۔ ہماری قومی حقیقت، انقلابی حقیقت، شعوری اور فکری حقیقت اور قربانی کی حقیقت شاری کی شکل میں بن چکی ہے۔ اب اس سے انفرادی طور پر اپنے ذات کو لے کر انکار کیا جا سکتا ہے، مگر اس حقیقت کو جھٹلانا ممکن نہیں۔

اب یہاں سوال یہ جنم لیتا ہے کہ شاری کیسے ایک حقیقت ہے؟ کیا کوئی حقیقت موجود ہو سکتی ہے؟ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ انسانی زندگی میں چند چیزیں حقیقت ہوتی ہیں۔ ایک سیاسی نظام ایک مقام پر آ کر تاریخ بن سکتا ہے، لیکن کیا کبھی جذبات یا احساس ختم ہو سکتا ہے؟ چند چیزیں جب تھیوری سے نکل کر انسانی روح کا حصہ بنتی ہیں، جب وہ اندرونی خیالات پر حاوی ہو جاتی ہیں اور احساس بن جاتی ہیں تو وہ پھر حقیقت کے ایک مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔

شاری ابدی حقیقت اس لیے ہے کیونکہ وہ انفرادی انسان یا ایک سیاسی فکر نہیں بلکہ انسانی احساس کی شکل میں لاکھوں انسانوں کے اندر جیتی ہے۔ قربانی کا معیار، زندگی کا معیار جس حد تک بڑھتا جائے گا، جو مقام حاصل کرتا جائے گا اور جس فلسفے کی شکل اختیار کرتا جائے گا، شاری کا مقام، شاری کی ابدی حقیقت اور شاری کی انسانی حقیقت وقت کے ساتھ ساتھ اسی حد تک بڑھتی جائے گی۔

کیونکہ شاری ابتدا نہیں بلکہ شاری انتہا ہے، اور انتہا تک پہنچنا یقیناً وہ آخری مقام ہے جہاں انسان مکمل ہو جاتا ہے۔ شاری کو جب تم اختتام سمجھ کر سمجھنے کی کوشش کرو گے تو ابتدا کا آغاز کر سکو گے، کیونکہ وہ انتہا ہے۔

آپ ہر انسانی، سیاسی، فلسفیانہ، تاریخی، فکری و شعوری علم کو شاری کی صورت میں معنی دے سکتے ہیں اور اسے بیان کر سکتے ہیں، البتہ کچھ علوم اپنے آپ میں اس مقام تک نہیں پہنچ پاتے جو شاری کے مقام کو سمجھ سکیں یا اسے بیان کر پائیں۔ کیونکہ شاری کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے انسانی معیار کو اس بلندی تک پہنچنا ہوگا جس کے لیے زندگی کا فلسفہ مکمل طور پر اندرونی احساس، جذبات اور اجتماعیت سے وابستہ ہو، کیونکہ اجتماعی علم کے بغیر شاری کو سمجھنا ممکن نہیں۔ شاری کی زندگی اور شعوری مرگ اجتماعی زندگی کے فلسفے کی بنیادی عکاسی ہے۔ انہوں نے اجتماعیت کو مقدم رکھا، اس حقیقت کو سمجھنے کے باوجود کہ انفرادی زندگی کس حد تک معنی رکھتی ہے۔ انہوں نے موت کو انفرادیت سے انکار کی صورت میں نہیں بلکہ انفرادیت کو اجتماعیت کے ساتھ جڑے رہنے کی صورت میں قبول کیا۔ شاری کی موت میں زندگی کی وہ حقیقت اور معنویت موجود ہے جہاں انسانی زندگی کا انفرادی مقصد اپنا مقام مکمل طور پر حاصل کرتا ہے اور وہ اس اجتماعیت کے اندر فنا ہوتا ہے جو اس کا اصل مقام ہے۔

شاری بلوچ جنگ، قومی آزادی، آزاد ریاست، عورت، عورت کی آزادی، قربانی، فکر، شعور، انسانی علم، سیاسی سوچ، انقلاب، انقلابی جذبہ، حوصلہ، ہمت، بہادری، کمٹمنٹ، مہر، محبت، درد، احساس، کیفیت، خیالات، سماج، عظیم قومی تصور اور عظیم انسانی معیار، شاری ان سب کے ہر سوال کا آخری جواب ہے۔ یہاں سے جواز، بہانہ، دلیل، ہٹ دھرمی، خود سے جھوٹ اور فریب، ہر چیز اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔

شاری آزادی ہے، کیونکہ ان کی فکری گہرائی میں آزادی ایک حقیقت کے طور پر نظر آتی ہے۔ شاری قربانی ہے، کیونکہ قربانی کا معیار فکری، شعوری اور علمی طور پر شاری کے مقام پر آ کر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ شاری عشق، مہر اور محبت ہے، کیونکہ جب وہ موت کے آخری لمحے کو پہنچیں تو اس وقت بھی ان کے دل میں اپنے بچوں، شوہر، بھائیوں اور سنگتوں کے لیے مہر برس رہی تھی۔

شاری حقیقت ہے، کیونکہ اس سے بڑھ کر کسی بھی فلسفے میں کوئی اور حقیقت موجود نہیں ہوتی۔ شاری زندگی ہے، کیونکہ جب موت زندگی کا آغاز بن جائے تو اس انسان کا اختتام نہیں رہتا بلکہ وہ ابدی زندگی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ شاری ابدی ہے، کیونکہ وہ ہر انسانی معیار کے مقام پر آ کر انتہا بن جاتی ہے۔

اس سے زیادہ لکھنے کی نہ ہمت ہے اور نہ برداشت کرنے کی صلاحیت، کیونکہ اس سے زیادہ گہرائی شاری کو ابتدا کرنے کا مقام ہے۔ یقیناً شاری کا آغاز بھی مجھ جیسے ایک کمزور دل، بے عمل اور کم علم انسان کے لیے بہت مشکل ہے۔

عام طور پر جب میں کچھ لکھ رہا ہوتا ہوں تو خیالات کا ایک انبار میرے سامنے موجود رہتا ہے اور میں تب تک لکھنا بند نہیں کرتا جب تک کسی نتیجے پر نہ پہنچ جاؤں۔ اور کبھی کبھار یہ سلسلہ بہت طویل ہو جاتا ہے۔ لیکن آج میں اپنی تحریر کو ادھورا چھوڑنا چاہتا ہوں، یا شاید شاری تک پہنچنا یا اس کے نتیجے تک پہنچنے کا مقام میں لکھ نہ پاؤں، کیونکہ وہاں تک پہنچنے کا مقام لکھا نہیں جاتا، وہ عملی صورت میں اختیار کیا جاتا ہے، وہ اپنایا جاتا ہے۔

اس لیے اسے ایک ادھورے خیال کے طور پر سمجھ کر پڑھ لیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔