اسلام آباد بلوچ کی خوشحالی سے خوف محسوس کرتا ہے ۔ حق دو تحریک

157

حق دو تحریک بلوچستان (کیچ) کے ضلعی دفتر کا افتتاح کیا گیا. حق دو تحریک بلوچستان کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی. ضلعی دفتر کا افتتاح مولانا ہدایت الرحمان بلوچ، حسین واڈیلہ اور کیچ کے نگران ضلعی چئیرمین حاجی ناصر کے دست سے ہوا۔ افتتاح کے موقع پر ضلع کیچ اور گوادر کے عہدیداران و ذمہ داران کے علاوہ کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔

افتتاح کے موقع پر حق دو تحریک بلوچستان کے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ اور حق دو تحریک بلوچستان کے چیئرمین حسین واڈیلہ نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو وفاداری راس نہیں آتی وہ ہمیشہ اپنے وفاداروں کو دباتی اور آنکھ دکھانے والوں کو عزت دیتی ہے، حق دو تحریک اسلام آباد کی مخصوص مائنڈ سیٹ کے خلاف جدوجہد کررہی ہے، اسلام آباد بلوچ کی خوشحالی سے خوف محسوس کرتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا استحکام بلوچ کی بدحالی میں ہے، وقت ثابت کرے گا کہ واجہ کاروں کا آدمی کون ہے، ہماری جدوجہد صرف اسمبلی کی کسی سیٹ کیلئے نہیں تاہم ہم پارلیمنٹ جانا چاہتے ہیں تاکہ قوم کو معلوم ہوسکے کہ حقیقی قیادت ایسی ہوتی ہے لوگ دیکھیں کہ حسین واڈیلہ اور دیگر نمائندوں میں فرق کیا ہے، حق دو تحریک کا اگر ایک بھی ممبر اسمبلی میں موجود ہو تو پورا بلوچستان کی سرحد کھل جائے گی اور ساحل پر ٹرالرز کا خاتمہ کردیا جائے گا، مکران سے13نمائندے پارلیمنٹ میں تھے مگر کسی نے کبھی آبادیوں کے اندر سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولا، اب جب ان کی مدت ختم ہوچکی ہے تو وہ اب ایک بار پھر انقلابی بن رہے ہیں۔

مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ عوام خوف اپنے دل سے نکال دیں جمہوری مزاحمتی جدوجہد کا حصہ بنیں اپنے حق کیلئے جدوجہد کریں انہوں نے کہاکہ گوادر میں ہمارے گھروں پر ایف سی اور پولیس نے آپریشن کیا، ہمیں زدوکوب کیا گیا، ہمارے گھروں سے اشیاء چرا کر لے گئے مگر سردار اختر مینگل کی جانب سے ایک بیان تک نہیں آیا، کیا گوادر کے عوام بلوچ نہیں ہیں، گوادر میں ٹرالرز یلغارکرتے ہیں ہمارے ماہی گیروں پر حملہ کرتے ہیں کوئی ہڑتال نہیں ہوتی وڈھ میں 10ایکڑ زمین پر جنگ ہے تو گوادر، تربت پنجگور میں ہڑتال کرائی جاتی ہے، ذاتی جنگ کو بلوچ کامسئلہ بناکر پیش کیاجاتاہے،

انہوں نے کہاکہ ساحل اوربارڈر پر ہمیں آزادانہ کام کرنے دیاجائے توہم دبئی سے بھی آگے نکل جائیں گے یہ بارڈر اور ساحل بلوچ قوم کیلئے قدرت کا تحفہ ہیں مگر ہمارے لئے کاروبار کے دروازے بند ہیں کیونکہ اسلام آباد کی مائنڈ سیٹ ہماری خوشحالی سے خوف کھاتی ہے، انہوں نے کہا کہ عنقریب مند، تمپ، دشت، بل نگور، بلیدہ زامران میں جلسے کئے جائیں گے جس کے بعد تربت میں تاریخی جلسہ کیاجائے گا، دلی خواہش ہے کہ ایک لاکھ لوگ کیچ میں جمع کرکے ریاست کوپیغام دیں کہ ہم خیرات نہیں حق مانگتے ہیں، مند میں جلسہ کرکے کترینز روڈ کھولنے کیلئے الٹی میٹم دیں گے دیکھیں گے کہ کیسے ایف سی سڑک نہیں کھولے گی، کترینز روڈ بند کرکے مند اور دشت کے عوام کوبلاوجہ اذیت دی جارہی ہے۔

حق دو تحریک بلوچستان کے چیئرمین حسین واڈیلہ نے کہاکہ حق دوتحریک بلوچ مظلوم، بلوچ مزدور اوربلوچ نوجوان کی تحریک ہے حق دو تحریک فرقہ پرستی اورنظریات سے بالاتر ہے جمہوری جدوجہد کے علمبردار ہیں،سیکورٹی کے نام پر70ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود مستونگ جیسے اندوہناک سانحات کا رونما ہونا لمحہ فکریہ ہے مستونگ سانحہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ان واقعات کے ذمہ دار کب کٹہرے میں لائے جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ دیگر صوبوں کو آبادی کے لحاظ سے فنڈز ملتے ہیں مگر بلوچستان کو رقبہ کے لحاظ سے لاشیں دی جارہی ہیں، بلوچ کابچہ پڑھے تو لاپتہ کردیاجاتاہے نہ پڑھے تومنشیات کی بھینٹ چڑھایاجاتاہے، مند گیاب میں پہاڑ پر سیکورٹی چیک پوسٹ قائم کردی گئی ہے نیچے آبادی ہے، ہماری ماؤں بہنوں کی عزت وحرمت پامال ہورہی ہے زامران، ناصر آباد میں بھی ایسی چیک پوسٹیں ہیں مگرکسی نمائندے کو جرات نہیں کہ وہ پر لب کشائی کرے ہم اپنی ماؤں بہنوں کی عزت کی بات کرتے ہیں چاہے ہمارے سرقلم کردئیے جائیں ، حق دو تحریک اٹھاؤ اورمارو جیسی لاقانونیت کوتسلیم نہیں کرتی، انہوں نے کہاکہ سیاسی پارٹیاں اب باقی نہیں رہے یہ سیاسی کلب بن چکے ہیں جن کے ہاتھ سرزمین اور ساحل وسائل کے سودامیں رنگے ہوئے ہیں عوام ان کے پیچھے ہرگزنہیں چلیں گے انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنے عوام پربھروسہ ہے سہولت کاروں اور قوم کے سوداگروں کوتاریخ میں جگہ نہیں ملے گی، اب یہ جتنے نقاب اوڑھ کرمیدان میں آئیں نوجوان ہوشیار ہیں انہیں پہچان لیں گے، قاضی مبارک زمین زاد تھا قوم نے اسے اپنا لیا، اجتماع سے حق دو تحریک کے مرکزی ترجمان حفیظ اللہ کیازئی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حق دو تحریک بلوچستان کے وارثوں کی تحریک ہے، یہ جمہوری مزاحمت کی تحریک ہے حق مانگنے سے نہیں ملتے بلکہ حق چھیننا پڑتاہے ہماری یکجہتی حقوق کے حصول کا ضامن ہے، حق دو تحریک کیچ کے رہنما صادق فتح نے کہاکہ حق دو تحریک بلوچ کی امید ہے، مولانا ہدایت الرحمن اور حسین واڈیلہ کی قیادت میں یہ تحریک عوام کی تحریک بن چکی ہے، صبغت اللہ شاہ جی نے کہاکہ حق دوتحریک نے بلوچستان میں سالوں سے طاری جمود کو توڑ دیا ہے۔