عاجزی اور خامشی میں مورچہ بند رہنماء – انقلابی ورثہ

278

عاجزی اور خامشی میں مورچہ بند رہنماء

تحریر: ڈاکٹر شاہ محمد مری

دی بلوچستان پوسٹ

بے شک اختلاف رکھ کر پڑھیے مگر یہ سوچ کر پڑھیے کہ یہ ایک عام فرد اور ایک عام لیڈر کی انٹرویو نہیں ہیں۔ یہ بلوچستان سے انٹرویو ہیں‘ بلوچستان کی حالیہ تاریخ سے انٹرویو ہیں۔ اس لئے کہ یہ بند رعباس سے لے کر تونسہ تک کے بلوچوں کے مقبول ترین اور معتبرترین شخص سے انٹرویو ہیں۔ بلوچوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان کی سیاست، اہداف اور حکمت عملی کی بہت ساری جزئیات سے متفق نہ ہوتے ہوئے بھی انہی کی طرح سوچتی ہے۔ یہ ایسے شخص کے انٹرویوز ہیں جس کی قیادت پر اُن تمام لوگوں کو اعتماد ہے جنہیں ایک چیلنج درپیش ہے؛ انقلابی پراسیسوں اور آزادی پہ یقین رکھنے والا چیلنج۔ اور اس شخص نے اُن لاکھوں انسانوں کے اعتماد کو ابھی تک صحیح سالم رکھا ہوا ہے۔ وہ بھی بلوچستان میں‘جہاں الیٹ طبقہ اور سردار حب الوطنی کے کسی بھی احساس سے محروم ہیں اور جو خود ہی اپنے مادرِ وطن کے خلاف عمل کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اُس طبقے سے خود کو جدا رکھنا اور ایک دو نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کے اعتماد کو برسوں تک قائم رکھنا غیر معمولی کام ہوتے ہیں۔ خیر بخش ایک غیر معمولی انسان ہے۔ اس کے انٹرویوز اسی لئے غورسے پڑھنے چاہئیے۔

اُن کے دادا خیر بخش مری (اول) بلوچوں میں بہت مقبول ہیں۔ وجہ سامراج دشمنی ہے‘ ظلم کے سامنے، حملہ آور غنیم کے سامنے، ڈٹ جانا ہے۔ جبکہ موجودہ خیر بخش کا نام، شہرت و ناموری، عوام الناس کے دلوں کی گہرائی میں موجود ہے۔ حالانکہ نہ تو وہ اپنے علاقہ میں عوام الناس کے بیچ رہے‘ نہ کوئی بڑی دعوتیں، جرگے منعقد کئے‘ نہ وسیع دسترخوان و لنگر رکھا‘ نہ سرداری رعب و دبدبہ اور کرو فرد کھایا‘ نہ کوئی بڑی ولی اللہ ای دکھائی…… لوگوں میں کتے، مرغے لڑانے والے اور مخالفین کو قتل کروانے والے کے بطور مشہور کئے گئے‘ اور یہ کہ وہ عام آدمی سے ہاتھ ملانے کے بعد پٹرول سے اپنے ہاتھ دھوتا ہے…… مگراس سب کے باوجود ایسی لاثانی مقبولیت، ایسا گہرا عقیدہ، ایسا بے کراں اعتماد!! گو کہ اس کے قبیلے کے بزرگ سن لوگ عقیدہ کے بطور انہیں ولی اللہ اور خدائی اوصاف کا مالک گردانتے ہیں مگر میں یہ بات اُن کے قبیلے تک محدود و مخصوص کر رہا ہوں اور نہ بوڑھے لوگوں کی بات کر رہا ہوں‘ میں عام بلوچ اور بالخصوص نوجوانوں میں اُن کی بے پناہ مقبولیت اور معتبری کی بات کر رہا ہوں اور اگر کوئی کہے کہ عوام جاہل ہوتے ہیں تو کم از کم بلوچوں کی حد تک ایسا درست نہیں۔ وہ تو اپنی ایک ایک بھیڑ کے ایک چھٹانگ اون تک کے بارے میں باشعور اور حساس ہے۔ وہ پچاس برس تک ایک ایسے شخص کو پوجنے کی حد تک چاہتے ہوں تو کوئی نہ کوئی سبب تو ہوگا‘ کوئی بات تو ہوگی۔ لوگوں کو وہی لوگ اچھے لگے ہیں جو عام رجحانات کی عکاسی کرے‘ جو ظالم سے ٹکر لے‘ جو نابرابری اور نا انصافی سے بھڑ جائے‘ جو جبر کی آنکھ میں آنکھیں ڈالے…… اور خیر بخش سے ہزار اختلاف رکھئے‘ انہوں نے یہ تینوں کام تو کئے ہی ہیں۔

نواب خیر بخش ہمیشہ سے پاکستان میں حزبِ اختلاف میں رہے۔ جب ایسا ہو تو یہاں ”فوج مخالف“ تو رہنا ہی پڑتا ہے کہ دو تہائی عرصہ فوجی حکومت رہی ہے۔ اور چونکہ وہ بلوچ عوامی قومی تحریک سے وابستہ رہے اس لئے کثیر القومی ریاست ان کا سب سے مستحکم نظریہ رہا ہے۔ اس طرح وہ اُس پورے فلسفہ کے مخالف رہے جس کے تحت اس ملک کوایک قومی ملک قرار دیا جاتا رہا ہے۔ چنانچہ ”مسلمان ایک قوم ہیں“ انہیں کبھی بھی قبول نہیں رہا۔ حزبِ اختلاف کا آدمی حکمران کے تمام دوستوں کے خلاف رہا۔ یعنی امریکہ، سعودی، سنٹو، سیٹو، نیٹو…… دلچسپ ہے کہ یہ سب سامراجی ادارے اور ممالک ہیں۔
اِن تمام تلخ ترین مگرمدلل انٹرویوز میں نواب خیر بخش مری کے فقرے بہت نفیس اور نہایت ہی نپے تلے ہیں۔ اُن کی گفتگو میں آپ کو بہت سارے نا مانوس اور کبھی کبھی مروج سے زیادہ دُرشت باتیں ملیں گی مگر اُن میں کہیں بھی آپ کو کوئی گھن گھرج نہیں ملے گی، بلکہ لطیف الفاظ بھاری پن میں گندھے ملیں گے۔ کوئی بڑے بول نہیں‘ کوئی بلند بانگ دعوے نہیں۔ عاجزی اُن کے ایک ایک جملے سے چھلکتی ہے۔ اس عاجزی کو نواب مری نے اپنی پوری زندگی کو اوڑھا دیا ہے؛ لباس میں عاجزی‘ پاپوش میں عاجزی‘ پورے طرزِ زندگی میں عاجزی۔ سچی بات یہ ہے کہ اس محتاط و عجز بھرے شخص نے کبھی فتوے بازی کی ہی نہیں اور خود کو کسی بھی فتوے سے آج تک بچائے رکھا۔ بلوچی زبان پر ناقابلِ یقیں حد تک عبور حاصل ہے۔ اُن کا ہر جملہ نپا تلا ہوتا ہے۔ خود تنقیدی اُن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اُن کے ہر انٹرویو میں آپ کو یہ تنقیدی نکتہ نگاہ ملے گا‘ ایک تجزیاتی طرز ملے گا۔ انہوں نے بھاری بھاری بھرکم اصطلاحات کی بجائے سادہ عوامی زبان میں بات کی ہے۔ اُن کا لہجہ بہت دھیما مگر بے حد مضبوط ہے۔

نواب خیر بخش مری اپنی تحریک کو ہر لحاظ سے شہزادہ عبدالکریم کی تحریک کا مترقی اور ترقی یافتہ تسلسل سمجھتے ہیں۔
اِن انٹرویوز میں اُن کی فکر کے پانچ پہلو نمایاں ہیں؛
1۔پہلا پہلو نظریاتی ہے۔ آسمان کو چھوتی ہوئی انفرادیت پسندی، بے لگام کنزیومرزم، خودپسندی، بے حسی، بیگانگی، حرص، بیزاری والے سرمایہ دارانہ نظام کو بہت قریب سے دیکھ کر اس بہت ہی محتاط شخص نے سوشلزم کو اپنے اور اپنی قوم کیلئے حتمی منزل قرار دیا ہے۔
2۔دوسرا پہلو سیاسی ہے۔ گرم و سرد چشیدہ اس بزرگ نے اپنے وطن اور عوام کے لئے آزادی کا انتخاب کر لیا ہے۔
3۔تیسرا پہلوطرز ِ سیاست کا ہے۔ نواب خیر بخش مری (قلم اور جلسہ جلوس کے ذریعے کو ساتھ ملا کر) گوریلا طرزِ جدوجہد کو منتخب کرچکے ہیں۔
4۔نواب مری امریکی سامراج کو پاکستان کا پشت پناہ اور مربی گردان کر اُس کی زبردست مخالفت کرتے ہیں۔ وہ ایک ایسی دنیا میں بلوچ عوام الناس کے جذبات کے ترجمان ہیں جب دنیا عالمی سرمایہ داری نظام کے عظیم ترین بحران سے گزر رہی ہے‘ بد ترین معاشی تنزل سے اور بہیمانہ سامراجی جارحیت سے گزر رہی ہے۔ لہٰذا سامراج دشمنی اُن کے طرزِ فکر کا ایک اہم ستون ہے۔
5۔وہ دنیا بھر کے مظلوموں کے اکٹھے مل کر جدوجہد کرنے کی بات کرتے ہیں۔ مگر دوسروں کا انتظار نہیں کرتے۔ اپنی جدوجہد کو اُن کے منظم ہونے تک کے لئے ملتوی نہیں کرتے۔
یہ سارے پہلو نہ صرف بہت وضاحت مانگتے ہیں بلکہ اِن سے اختلاف بھی کیا جاتا رہا ہے۔ بہت زیادہ بحثوں میں پڑے بغیر، بے تکبر انداز میں، دھیمی رفتار سے چلتے ہوئے نواب مری برسہا برس ثابت قدمی سے غیر محسوس انداز میں اور بغیر بڑی بڑی باتوں کے ایک ایسی تحریک منظم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو اپنی سرشت میں سامراج دشمن، فیوڈل مخالف اور آزادی پسند ہے۔ ایک ایسی تنظیم جس کی محسوس کی جاسکنے والی ایک فالوئنگ موجود ہے۔ ظاہر ہے ایسی خفیہ انقلابی تنظیموں کی جڑیں اور ان کا ڈھانچہ خفیہ ہی رہتا ہے۔ نچلے ورکر سے لے کر اعلیٰ ترین لیڈر تک سب کچھ خفیہ ہوتا ہے۔ مگر عوام الناس کے اندر ایسی تنظیموں کے اعمال و اقدامات کی پذیرائی بتاتی ہے کہ یہ تحریک گذشتہ ساٹھ سالوں میں برصغیر کی اچھی خاصی مضبوط تنظیموں میں سے ایک کے بطور سامنے آئی ہے۔ واضح رہے کہ برصغیر اور تنظیم سازی بالکل ہی الٹ مظہرہیں۔مگر، نواب خیر بخش نے انقلابی خطوط پر ایک قبائلی اور بعد ازاں بین القبائلی تنظیم کھڑی کر کے ہم سب کے اندازے غلط کر دیے۔ اُن کو تاریخ جن باتوں پہ یاد رکھے گی اُن میں سے ایک، عوام کی تنظیم سازی ہے۔

انہوں نے ایسی باتوں سے ابتدا کی تھی جن میں فلسفہ تو نہ تھا مگر جو زُود فہم تھیں۔ ”تیل نکالنے نہ دوں گا، زیر زمین دولت سارے بلوچوں کی ہے، ہم سرکاری چھاؤنی بننے نہ دیں گے۔“ سچی بات یہ ہے کہ عوام کی سمجھ میں، یہ باتیں آسانی سے آجاتی ہیں۔ اسی تضاد سے وہ اُس فلسفے کی جانب جائے گا ہی جسے مارکسزم کہتے ہیں۔ مکمل طور پر قبائلی لوگ جن میں ذرا ذرا قوم پرستی اور آفاقی انصاف کے اجزا شامل تھے۔

بلوچ قومی عوامی تحریک کے پاس کوئی اخبار‘ کوئی ٹی وی نہیں ہے۔ حتیٰ کہ اس کے پاس کوئی ایف ایم ریڈیو تک موجود نہیں ہے۔ یہ حتمی طور پر بلوچ قبائلی انداز میں چلنے والی تحریک ہے۔ شہر، شہریت اور شہری لوگ اس کا مخاطب نہیں رہے ہیں۔ اطلاعات، خبروں، اور نظریاتی تعلیم کا اس کا اپنا متبادل نظام بن چکا ہے‘ جو بلوچ قبائلی طرز پر مبنی ہے۔ کبھی کبھار کسی ٹی وی چینل یا اخبار کو انٹرویو دے کر نواب خیر بخش مری اپنی تحریک کی نظریاتی اور فلسفیانہ سمت کا اعادہ کرتے رہتے ہیں۔
انقلابی تحریکوں کی کامیابی کا ڈیٹ اور ٹائم دینا نا صرف نا ممکن ہے بلکہ نا معقول بھی۔ لیکن یہ بات حتمی ہے کہ نواب کے اپنے بقول ”ابھی طفلی مرحلے پر موجود“ اس تحریک کو اب برباد نہیں کیا جاسکتا۔ بلاشبہ ایک طویل سیاسی پراسیس میں سے وجود میں آنے والی یہ تحریک جو ابھی تک ان کے بقول ”ناپختہ“ ہے‘ سیاسی عمل کے دوران اپنی وضع، طرز اورصورت تبدیل کرتی رہے گی۔ ”ایک قدم آگے دو قدم پیچھے والا“ انقلابی داؤ پیچ تو خیر لازمی ہوتا ہی ہے۔ اس کے علاوہ زیرِ زمین سے سطحِ زمین تک کی آمدورفت بھی جاری رہ سکتی ہے‘ مگر بیخ سے اسے اکھاڑنا‘ اب نا ممکن ہے۔ اور جو بھی شکل عوامی تحریک اختیار کرے گی، اس کے خمیر کا بڑا حصہ اسی تنظیم و فلسفہ سے ہوگا۔

ہمارا خطہ انقلابات اور اتھل پتھل کے لحاظ سے دنیا کے ہر گوشے سے زیادہ تجربہ رکھتا ہے۔ نواب مری (پیدائش کاہان، 28 فروری 1929ء) ابھی دودھ پیتے بچے تھے کہ والدہ کا انتقال ہوگیا۔ کنیزوں اور سوتیلی ماؤں کے دودھ اور دیکھ بحال کی بدولت مرنے سے بچے رہے۔ اُن کا نام ان کے دادا کے نام پر رکھا گیا جو ایک زبردست سامراج دشمن سردار تھے۔ 1933 ء میں ابھی محض چار سال کے تھے کہ والد (سردارمہر اللہ خان) کا انتقال ہوگیا۔ قبیلہ دودا خان کی قائم مقام سرداری میں چلا گیا اور کم سن خیر بخش دوہری یتیمی کی گود میں۔ انگریز نے اس توقع سے (چیفس کالج لاہورمیں) تعلیم و تربیت کی کہ دادا (خیر بخش اول) کے برعکس ایک ”سدھرا نواب“ میسر ہوگا۔ مگر یہ نوجوان (1950 ء میں سردار بنا۔ سردار جو قبیلے کا سماجی، معاشی، آئینی اور سیاسی سربراہ ہوتا ہے) انگریز کے کام بھی نہ آیا۔ اور انگریز کے بعد کے جاں نشینوں کو تو یہ شخص بہت مہنگا پڑا۔

یہ سردار ایوب دور تک قومی سطح کی سیاست سے دُور محض ایک سردار رہا۔ ایک مشرقی بڑے قبیلے کی مخصوص حکمران والی خوش مزاجی‘ خوش خوراکی‘ خوش لباسی‘ خوش سواری۔ اور پھر ایوب کو پٹرول پینے کا شوق چڑھا‘ مری نے بلا مشروط ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ ڈائن ایوب نے ایک بار پھر بلوچستان کو فوج اور فوجی کاروائی سے آشنا کر دیا۔ اور یوں ایک بے پرواہ اور مست نوجوان سردار سیاست میں دھکیلا گیا۔ جو غم، تکلیف اور برداشت کا جہنم ہوتی ہے، اُس آگ میں تپ کر وہ لااُبالی نوجوان سردار گرم و سرد چشیدہ ہو گیا۔ یہ سیاسی شخص اپنے آج کے فیصلے تک یونہی نہیں پہنچا بلکہ سیاست کے سفر کے ندی نالوں، پیچ و خم اور اونچ نیچ کی چکی میں پس کر موجودہ سیاسی موقف تک آگیا۔

نواب خیر بخش مری اپنے بلوچ سیاسی رفیقوں اور غیر بلوچ آٹھ سیاسی پارٹیوں کے متحدہ محاذ میں پاکستانی سیاست کے نشیب و فراز سے گزرے۔ اس کے ہر ذائقہ اور رنگ سے تجربہ لیتے رہے۔ پارلیمنٹ ممبر رہے۔ اور ایسے نتائج حاصل کرتے رہے جو خالصتاً اُن کے اپنے تھے۔ بالخصوص1960 ء کی دہائی کے آخری نصف اور 1970ء کی دہائی کے پہلے نصف پر مشتمل اُن کی زندگی کے دس سال بہت تیز رفتار اور بنیادی فیصلوں کے سال رہے۔ گوریلا جنگ اُن فیصلوں میں سے ایک تھا۔ یہ گوریلا جنگ ہے تو کیوبا، کاسٹرو اور چے گویرا سے متاثر لیکن اِس کا طرز کیوبا اور ویت نام دونوں جیسا رہا ہے۔ یہ دلچسپ ہے کہ آج کا بلوچ نوجوان کیوبا کو پڑھتا ہے، ویت نام کو نہیں۔

فوجی کاروائیوں، مارشلاؤں، جیلوں، مذاکرات، بحثوں اور مطالعہ نے نواب مری کی معلمی کی۔ گو کہ انہوں نے ووٹ اور پارلیمنٹ کی سیاست کبھی ترک نہ کی مگر اُسے واحد حل جاننے سے وہ دُور ہی ہٹتے گئے۔ حتیٰ کہ مشرف کے آخری الیکشن میں انہوں نے پارلیمانی سیاست کو حتمی طور پر بے کار قرار دیتے ہوئے اس میں اپنی طرف سے کوئی امیدوار کھڑا نہ کیا۔
چنانچہ ”ون یونٹ توڑ دو“ سے سیاست شروع کی‘ (آج پشیمانی سے اُس کا تذکرہ کرنے کے باوجود) نیپ میں سیاست کرتے رہے۔ حیدر آباد سازش کیس بھگتا۔ فرانس، برطانیہ اور افغانستان جلا وطن رہے۔ سرخ و سفید چہرہ اور مثالی صحت پہ داڑھی سفید ہوگئی‘ پیر نے لاٹھی کے سہارے کا بنادیا‘عمر 90 سال کی حد میں داخل ہوگئی‘ تب ہوتے ہوتے وہ حتمی طور پر ایک ”آزاد بلوچستان“ کے نکتے تک پہنچے۔

ظاہر ہے سیاست پیری فقیری کی بجائے پیہم جدوجہد اور تجربات کا نام ہے۔ سیاست میں لیڈر اور عوام الناس دونوں سیکھتے رہتے ہیں۔ او راس سیکھے ہوئے تجربے کو مزید تجربات میں جھونک کر مزید سیکھتے رہتے ہیں۔ اس طرح کر کرکے نظریات، سیاست، اور تنظیم تینوں واضح تر ہوتے جاتے ہیں، شفاف ترہوتے جاتے ہیں…… یہی کچھ بلوچ تحریک کے ساتھ ہوا۔

نظریاتی تدریس و تعلیم کا اُن کا انداز بھی خالصتاً مقامی، بلوچی اور قبائلی ہے۔ قبیلہ کے سردار کی حیثیت میں دو چار، دس بارہ حاضرین اپنے ذاتی مسائل اور تنازعات کے تصفیے کے لئے ہمہ وقت موجود ہوتے ہی ہیں۔ اُن کی شنوائی بھی ہوئی اور ساتھ میں سٹڈی سرکل بھی لے لیا۔ بعد میں انہوں نے اسے باقاعدہ شکل دی اور ایک کتاب لے کر اس کے دو چار صفحات پر بحث و مباحثہ کیا۔ اسے ”بلوچ حق توار“ کا نام بھی دیا گیا۔ لیکن یہ زیادہ کامیاب نہ ہوا تو انہوں نے پہلا والا طریقہ دوبارہ شروع کیا۔ وہ محفل میں موجود آٹھ دس افراد پر مشتمل حاضرین سے خود سوال کرتے ہیں‘ خود جواب دیتے ہیں۔ حاضرین آدھے اونگھ رہے ہوتے ہیں، آدھے آنکھوں میں چمک لیے سنتے جاتے ہیں۔ اُن کی پوری بات کوئی بھی نہیں سمجھ پاتا۔ لیکن بات کی جست پلے باندھ ہی لیتا ہے۔ اسی لیے وہ ”فلاسفر“، ”کنفیوز“ اور حتیٰ کہ ”جان بوجھ کر کنفیوژ“ کے القابات پاتے رہے ہیں۔

نواب خیر بخش مری سیاست میں معلمی والا کام کرتے رہے۔ عوامی جلسے اُن کی دھیمی فطرت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ گوکہ جلسے جلوسوں اور تقریروں کی ضرورت سے انکار نہیں کرتے مگر ایک قبائلی معاشرے میں انہوں نے قبائلی طرز ہی رکھی جس میں ایک خاص بھاری پن موجود ہے۔ اُن کے پاس پہلے سے موجود قبائلی تنظیم موجود تھی جسے انہوں نے نصف صدی لگا کر، بے شمار کمر توڑ غلطیاں کر کرکے، بہت سی پسپائیاں کھا کھا کر، بالآخر ایک ایسی تنظیم میں ڈھال دیا جس کی ترکیبِ عناصر، نظریاتی اساس اور دائرہ کار قبائلی سے بڑھ کر اب نیم قبائلی نیم انقلابی اور نیم قومی بن گئے۔

نواب خیر بخش مری کی زبان بہت ڈسپلن میں رہتی ہے۔ اس نصف صدی میں روس، چین مناقشہ ہوا‘ یہ رہنما خاموش تھا‘ بھٹو، ضیا الحق بن کر لیغاری اور تارڑ بنا مگر نواب مری پریس اور پبلک میں چپ ہی رہے‘ افغانستان میں انقلابی کرسی کے صدر نشیں بدلتے رہے مگر یہ لیڈر کچھ نہیں بولا…… اِس لیڈر پر سوشلزم کے چوغے میں سرداری نظام کو قائم رکھنے کا الزام لگا تب بھی یہ کچھ نہیں بولا‘ اپنے قبیلے کو علم و ترقی سے روک کر اپنی سرداری مستحکم رکھنے کی جگر بُر تہمتوں پہ بھی وہی خاموشی جاری رکھی اور انقلاب و آزادی کے نام پر مخالفین کو قتل کرتے رہنے کی عام کھسر پھسر کے سامنے بھی وہ گویا نہ ہوئے۔

ایک پر تجسس خاموشی!! کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ یہ شخص اصل میں ہے کیا؟ کیا وہ ایک فیوڈل لارڈ ہے؟، سرداری نظام کا سب سے بڑا دفاع کرنے والا ہے؟، وار لارڈ ہے؟، انارکسٹ ہے؟، یا پھر ایک مارکسسٹ ہے؟۔ بس ایک زمانے میں اُن کا اپنی واسکٹ پہ ایک طرف لینن اور دوسری طرف ماؤزے تنگ کا بیج لگانا ہمیں یاد ہے‘ وہ بھی پچھلی صدی میں ستر کی دہائی کے اوائل میں۔ یا پھر سوبھو گیان چندانی کی یہ گواہی (اور وہ بھی چند افرادتک محدود) کہ He is one of the finest revolutionaries of the world۔ ملتی رہی۔۔۔۔ اور یا پھر سائیں کمال خان شیرانی کا یہ فقرہ چند افراد کو لفاظیوں بھری قیاس آرائیوں سے بچاتا رہا؛ میڑہ مڑکہ مڑانہ مہ پُٹوہ (’بہادر کو بے شک قتل کر دو مگر اس کی بہادری کو نہ چھپاؤ‘) اُس کے بعد مکمل خاموشی۔

نواب مری ناواقف سے بہت دیر بعد گھل مل جاتے ہیں۔ صحافی، لکھاری، بحثی سے تو بہت محتاط رہتے ہیں۔ وہ اپنا متبادل نظام قائم کر کے اسی پر چلتے رہنے میں قانع اور ثابت قدم رہتے ہیں۔

گو کہ نواب خیر بخش اپنی سیاست کے متعین کردہ ہر نکتے پر حساس ہیں مگر انہیں سب سے زیادہ فکر اس وقت ہوتی ہے جب قوم پرستی کے ہی نام پر، انقلاب کے ہی نام پر، اور سوشلزم کے ہی نام پر الجھاؤ اور کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش ہو۔ وہ بے رحمی سے ایسی کوششوں کو ناکام کرتے ہیں۔ بلوچستان کی ساری بورژوا سیاسی پارٹیاں نواب کی شدید ترین تنقید کے نشانے پر رہی ہیں۔

نواب مری نے اپنے تلخ مقدر کے ساتھ کہیں نہ کہیں ایک معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں۔ اور وہ دونوں اس معاہدے پر سختی سے کار بند چلے آ رہے ہیں۔ نواب کا عہد یہ تھا کہ وہ منہ سے کچھ نہیں بولے گا‘ اس کا مسلسل عمل ہی اُس کی زبان ہو گی۔ غیر دوستانہ مقدر نے انہیں اپنے ہم سیاست دوستوں اور مخالفوں کی بہ نسبت لمبی عمر اور اچھی صحت عطا کر کے دانشوروں اور سیاسی ورکروں کو اُن کے مسلسل عمل کے گرد جمع کر ڈالا۔ اور آج صورت یہ ہے کہ دل میں درجنوں سوالات و تحفظات رکھتے ہوئے بھی نظریاتی طور پر شیر اور بکری دونوں اُن کے فلسفے کے گھاٹ سے پانی پیتے ہیں۔

خاموشی کے بے شمار مورچوں میں بند اِس رہنما نے اب کہیں جاکر موجودہ اشاعت میں شامل آخری انٹرویو میں کھل کر مستقبل کے بلوچستان میں سوشلزم کے نظام کے نفاذ کی بات کی۔ اسی انٹرویو میں انہوں نے سرداری نظام کے احیا کے امکانات کو دفن کر دیا۔ اور امریکی سامراج کی بھر پور مخالفت کی۔ اسی حوالے سے وہ تنظیم یا پارٹی میں شخصیات کی بہ نسبت نظریے کو اولیت دینے کی بات کرتے ہیں۔

اسی طرح ان انٹرویوز میں نواب مری نے قلم و کاغذ، تقریر و تحریر اور جلسہ جلوس کی اہمیت کو بھی گوریلا طرز ِجدوجہد میں جگہ دی ہے۔

اس قدر مقبول اس شخص کی ایک بہت بڑی صفت یہ ہے کہ وہ خود پہ کبر و تکبر سوار ہونے نہیں دیتے۔ نہ وہ اپنے نام کے ساتھ ”استاد“ لگانے دیتے ہیں، نہ وہ ”بابو“ ہیں، نہ پیر و مرشد ہیں۔ وہ نہ تو کسی کو پیر چھونے دیتے ہیں، نہ ہاتھ کو بوسہ دینے دیتے ہیں اور نہ ہی وہ ”شیرِ بلوچستان“ ہیں۔ وہ انتہائی حلیم الطبع، منکسر المزاج، سادہ اور قابل ِ رسائی شخص ہیں۔

سچ ہے کہ فیوڈل (فرد اور ادارہ) جتنی بھی کوشش کرے سوشلسٹ اخلاقیات نہ تو اختیار کر سکتا ہے اور نہ اس کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ بورژوازی کی سیاسی اور عسکری شکست کے لئے انقلابی کو اپنی اخلاقی برتری ہمیشہ قائم رکھنی پڑتی ہے۔ سوشلسٹ اخلاقیات اور بورژوا اخلاقیات (سامراجی، سرمایہ دارانہ، فیوڈل، یا ما قبل جاگیر داری) اُتنے ہی مختلف و متضاد ہیں جتنا کہ نظریہ‘ جتنا کہ سیاست۔

کم سنی کی یتیمی سے لے کر لاوارث بلوغت تک اور بلوغت سے لے کر بڑھاپے کی جدوجہد تک اس شخص نے بہت کم خوشی خود تک آنے دی ہے۔ اب اس بزرگ سنی میں تو حد ہی ہوگئی۔ درد کے تقدس کا ایک بہت ہی تلخ‘ اور بڑا پیالہ اُن کے حصے میں آیا۔ ابھی 20 نومبر 2007 ء کو چھ بیٹوں میں سے ایک‘ گھر سے، ڈاکٹر سے، عیادت سے، جنازہ سے اور (شاید) مستقل قبر سے محروم، زندہ نہ رہا۔ اندازہ ہوسکتا ہے کہ جگر کے ٹکڑے کو چیر کر الگ کر دینے سے کتنی تکلیف پہنچی ہوگی۔ اس بوڑھے دانانے بقول مارکس؛ ”ہر طرح کی بد قسمتی دیکھی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مجھے ابھی تک پتہ نہ تھا کہ دکھ کیا ہے، اب مجھے معلوم ہوا کہ دکھ یہ ہے۔ “بیٹے کی موت نے اس کی روح و بدن لرزا دیے ہیں۔ تکلیف‘ جو ہرگھڑی ساتھ رہتی ہے۔۔۔۔ درد جو عدم تک روح کا حصہ رہتا ہے۔۔۔۔ اشرف المخلوقاتی خصوصیت (آنسو) رکتے نہیں رکتی۔۔۔۔ غم جس کی طوالت نہ ناپی جا سکتی ہے اور نہ تولی جا سکتی ہے۔۔۔۔ دُکھ جو ہالہ بنائے زندگی بھر ساتھ رہے گا!۔


حوالہ: پیش لفظ، نواب خیربخش مری کے انٹریوز، مرتب سلام صابر، 2011


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔