لاوارث لاش – دی بلوچستان پوسٹ رپورٹ

252

لاوارث لاش

دی بلوچستان پوسٹ رپورٹ

بہزاد دیدگ بلوچ

بلوچستان میں گذشتہ دو دہائیوں سے سیاسی وابستگی رکھنے والے بلوچوں کی جبری گمشدگی ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے، جس کی شدت میں روز افزوں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ان لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے مختلف سیاسی جماعتیں اور خاص طور پر ان لاپتہ بلوچوں کے لواحقین مسلسل احتجاج کررہی ہیں۔ گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے احتجاج کرنے والی لواحقین کی تنظیم “وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز” کے مطابق اس بات کے کھلے ثبوت و شواہد موجود ہیں کہ لوگوں کو لاپتہ کرنے میں پاکستانی خفیہ ادارے ملوث ہیں۔ یہی الزام مختلف بلوچ سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ، مقبول پشتون تحریک، ” پشتون تحفظ مومنٹ” بھی سیکورٹی فورسز پر لگا چکی ہے اور اس ضمن میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز گذشتہ دس سالوں سے علامتی بھوک ہڑتال پر بیٹھی ہوئی ہے۔

ان لاپتہ بلوچوں کی حتمی تعداد کے بارے میں مختلف اعدادو شمار پیش کیئے جاتے ہیں، لیکن انسانی حقوق کے تمام تنظیموں اور تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ یہ تعداد ہزاروں میں ہے۔ بلوچستان میں جاری آپریشن اور دور دراز علاقے ہونے کے باعث تمام لاپتہ افراد کے کوائف ترتیب دینا ممکن نہیں لیکن وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق لاپتہ افراد کی تعداد چالیس ہزار سے زائد ہے اور انکے تنظیم کے پاس اس وقت کم از کم 6335 لاپتہ بلوچوں کے مکمل کوائف موجود ہیں۔ وی بی ایم پی کے مطابق وہ صرف ان لاپتہ افراد کے مکمل کوائف ترتیب دیتے ہیں، جن کے مکمل معلومات دستیاب ہوں اور انکے اہلخانہ بھی فہرست ترتیب دینے پر رضامند ہوں، لیکن بدقسمتی سے اکثریت کے اہلخانہ خوف کی وجہ سے احتجاج نہیں کرنا چاہتے اور اس امید پر چپ بیٹھتے ہیں کہ شاید خاموشی کی وجہ سے انکے پیارے بازیاب ہوجائیں اور بہت سے افراد دور دراز اور دیہی علاقوں میں رہنے کی وجہ سے ان کے تنظیم سے رابطہ نہیں کرپاتے۔ اسی طرح بی این پی مینگل بھی کم از کم پانچ ہزار لاپتہ افراد کے کوائف پارلیمنٹ میں جمع کراچکا ہے۔

لاپتہ بلوچوں کے مسئلے نے اس وقت سنجیدہ شکل اختیار کرلی، جب سنہ 2009 سے ان لاپتہ افراد کی انتہائی تشدد زدہ اور مسخ شدہ لاشیں ملنا شروع ہوئیں، جو ہنوز جاری ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس انسانیت سوز عمل کو ” کِل اینڈ ڈمپ” یعنی مارو اور پھینکو کی پالیسی قرار دیکر اس کی شدید مذمت کی۔

ابتداء میں ان مسخ شدہ و تشدد زدہ لاشوں کے جیب سے شناختی پرچی برآمد ہوا کرتا تھا، جس سے لواحقین شناخت کرکے اپنے پیاروں کی تدفین کرتے تھے لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے ایسی لاشوں کو لاوارث قرار دیکر راتوں رات دفنایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے لواحقین میں تشویش کی ایک لہر پائی جاتی ہے۔

اسی سلسلے میں گذشتہ دن ایدھی رضاکاروں نے کم از کم دس ایسی ہی مسخ شدہ لاشوں کو لاوارث قرار دیکر کوئٹہ سے ملحقہ علاقے دشت تیرہ میل کے قبرستان میں دفن کردیا۔ اس بابت بلوچستان کے انسانی حقوق و سیاسی حلقوں اور لاپتہ افراد کے لواحقین میں یہ تشویش پائی گئی کہ یہ لاشیں لاپتہ بلوچوں کی ہیں، اور بغیر ڈی این اے ٹیسٹ اور شناخت کیلئے کوئی کوشش کیئے بغیر صرف ایک دن لاشیں رکھ کر یوں دفن کرنے کا مطلب یہی ہے کہ کچھ قوتیں نہیں چاہتے کہ ان لاشوں کی شناخت ہو۔ ایدھی ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انکے رضاکاروں نے دس لاوارث لاشوں کو تیرہ میل دشت ایدھی قبرستان میں دفن کردیا ہے۔

اس حوالے سے مزید معلومات کیلئے دی بلوچستان پوسٹ کے نمائیندے نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ سے بات کی تو انکا کہنا تھا کہ ” بلوچستان میں آج تک جتنی مسخ شدہ لاشیں ملیں ہیں، ان میں سے اکثریت لاپتہ بلوچوں کی تھیں، لہٰذا اسی لیئے ہمیں خدشہ ہے کہ تیرہ میل میں دفنائے جانے والی یہ لاشیں بھی لاپتہ افراد ہیں۔ ہمارے ذرائع کے مطابق لاوارث لاشوں کو دفنانے کا یہ سلسلہ راتوں کو بھی جاری رہتا ہے، جب ان لاشوں کے بارے میں دریافت کی جاتی ہے تو انہیں سختی سے کہا جاتا ہے کہ ایدھی رضاکار محض اپنا کام کریں۔”

نصراللہ بلوچ سے جب پوچھا گیا کہ کیا انکی تنظیم نے ان لاوارث لاشوں کی شناخت کیلئے کوئی کوشش کی ہے تو انکا کہنا تھا کہ ” بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت ان لاشوں کی شناخت کیلئے کوئی کوشش نہیں کررہی، ہم نے اپنے تنظیم کی جانب سے 2013 میں سپریم کورٹ میں ایک درخواست دی تھی کہ مسخ شدہ لاشوں کی یوں برآمدگی ایک انسانی مسئلہ ہے، ان کا تعلق چاہے کسی بھی نسل، قوم یا فرقے سے ہو، انکے لواحقین کا حق ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی لاشوں کی خود تدفین کریں، تاکہ انہیں مزید انتظار نا کرنا پڑے لہٰذا ان لاشوں کی شناخت کیلئے ہر ممکن ذرائع استعمال کی جائے۔ اسی ضمن میں 2013 میں سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ جو لاش جس تھانے کے حدود سے برآمد ہو، یہ انکی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ذرائع اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کرکے ان لاشوں کی شناخت کریں، اور کوئی بھی لاش بغیر شناخت کے نہیں دفنائی جائے، اگر کوئی دفناتا ہے تو وہ آئینی طور پر مجرم ہوگا۔ اس حوالے سے صوبائی حکومت نے بھی واضح احکامات دیئے، اس کے بعد 2014 میں ہماری تنظیم نے اور لواحقین نے بہت سے لاشوں کے ڈی این اے نمونے لیئے، لیکن بدقسمتی سے آج تک وہ ڈی این اے رپورٹ نہیں آئے، جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ ان لاشوں کی شناخت چھپانے کی کوشش ہورہی ہے۔ ان لاوارث لاشوں کی وجہ سے لاپتہ افراد کے لواحقین ذہنی اذیت میں مبتلاء ہیں، اگر انکی شناخت ہوتی ہے تو انہیں اس اذیت سے چھٹکارہ مل سکتا ہے۔”

بلوچستان سے نامعلوم لاشوں کا ملنا اور انہیں لاوارث قرار دیکر دفنانا کوئی نئی بات نہیں، اس امر کی جانب وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے گذشتہ سال 13 دسمبر کو اس سنجیدہ مسئلے کے بابت ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” ہمیں واضح ثبوت ملا ہے کہ کوئٹہ سے ملحقہ دشت تیرہ میل کے علاقے میں ایک قبرستان ہے، جس میں لاپتہ افراد کو خفیہ ادارے والے دفن کرتے ہیں۔”

اسی بابت نمائیندہ ٹی بی پی نے ماما قدیر بلوچ سے رابطہ کیا اور گذشتہ دن دشت تیرہ میل میں لاوارث لاشوں کے بابت ان سے دریافت کی تو انکا کہنا تھا کہ ” ابھی تک ہمیں کوئی ایسی مصدقہ معلومات موصول نہیں مل سکیں، جس سے ہم اپنے تنظیم کے فہرستوں میں دیکھ سکتے کہ یہ واقعی بلوچ لاپتہ افراد ہیں یا کسی اور قوم سے ہیں، لیکن بس ایک ہی دن میں لاشوں کو لاوارث قرار دیکر دفنانا سنجیدہ سوال اٹھاتا ہے، یہ تو ایک بہت بڑا مسئلہ ہے کہ دس لاشوں کو آپ بغیر ڈی این اے ٹیسٹ، بغیر شناخت کی کوشش کے بس ایک دن رکھ کر یوں دفناتے ہیں۔ اس بابت میں نے پہلے بھی نشاندہی کی تھی کہ تیرہ میل میں ایک قبرستان ہے جہاں لاپتہ افراد کو دفنایا جاتا ہے، آج انہوں نے خود بھی انکشاف کردیا کہ انہوں نے ان لاشوں کو وہیں دفنایا ہے۔”

بعد ازاں ماما قدیر بلوچ نے میڈیا میں اس معاملے پر تفصیلاً بات کرتے ہوئے کہا کہ “ہم عرصہ دراز سے مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں کہ جو بھی لاوارث مسخ شدہ لاش برآمد ہوجائے، اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ان کی ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے کیونکہ ان میں سے بیشتر مسخ شدہ لاشیں قلی کیمپ و دیگر فوجی مراکز کے قریب سے پائے گئے ہیں۔ یہ صرف آج کی دس لاشوں کا واقعہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی متعدد بار سینکڑوں لاوارث مسخ شدہ لاشوں کو بغیر ڈی این اے ٹیسٹ و کسی شناخت کے تیرہ میل کے قبرستان میں دفنایا گیا اور ہمیں قوی یقین ہے کہ یہ ناقابل شناخت مسخ شدہ لاشیں بلوچ مسنگ پرسنز کی ہی ہیں۔”

بلوچستان میں ناصرف مسخ شدہ لاشیں ملتی رہیں ہیں، بلکہ کئی مقامات پر اجتماعی قبریں بھی دریافت ہوئیں ہیں، جن میں سے سب سے بڑا اجتماعی قبر خضدار کے علاقے مژی توتک سے برآمد ہوئی۔ ایشین ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق 24 جنوری 2014 کو مژی توتک کے مقام پر ایک چرواہے کے نشاندہی پر اجتماعی قبروں کا انکشاف ہوا، جہاں سے 169 لاشیں برآمد ہوئیں تھیں، ان لاشوں میں سے محض دو کی شناخت ہوئی تھی، جو ایک آپریشن کے دوران آوران سے فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہوئے تھے، باقی لاشیں اس قدر مسخ تھیں کے انکا شناخت ممکن نہیں تھا لیکن تمام شواہد سے یہ قوی امکان تھا کہ یہ لاپتہ بلوچوں کی لاشیں ہیں۔ ان تمام لاشوں کو بغیر ڈی این اے ٹیسٹ کے دوبارہ دفن کردیا گیا۔

ان اجتماعی قبروں کے بابت بھی الزامات سیکورٹی اداروں پر لگتے آرہے ہیں، گذشتہ سال 18 جولائی کو بلوچستان کے ضلع پنجگور کے علاقے درگ دپ سے ایک اجتماعی قبر سے چار لاشیں ملی تھیں، ملنی والی لاشوں کی حالت انتہائی خراب ہونے کی وجہ سے لاشیں پہچان میں نہیں آسکیں تھیں، تاہم پنجگور سے 16 جون 2014 کو لاپتہ ہونے والے خیربخش بلوچ نامی نوجوان کے والد کے مطابق ان کو پنجگور ایف سی کیمپ میں بلا کر فرنٹیئر کور کے کمانڈنٹ نے بتایا کہ آپ کے بیٹے کو سات ماہ قبل قتل کرکے پنجگور درگِ دپ میں دیگر 3 لاپتہ بلوچوں کے ساتھ اسی اجتماعی قبر میں دفن کردیا گیا تھا۔

ان لاوارث لاشوں کو بلا شناخت دفنانے پر نمائیندہ دی بلوچستان پوسٹ نے معروف سماجی کارکن اور ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کے رہنما ایڈوکیٹ جلیلہ حیدر سے بات کی تو انکا کہنا تھا کہ “مجھے بہت افسوس ہے کہ ریاست بجائے گمشدہ افراد کے معاملے کو سنجیدگی سے لینے اور لوگوں کی بازیابی میں اپنا کردار ادا کرنے کے، گذشتہ دنوں ایدھی کی جانب سے دس سے زائد مسخ شدہ لاشوں کی شناخت پر اسکی مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ان لاشوں کو ایدھی کے رضا کار لاوارث سمجھ کر دفناتے ہیں، مگر حکمرانوں کی جانب سے اتنی اخلاقی غیرت بھی دیکھنے کو نہیں ملتا کہ انکا ڈی این اے ٹیسٹ کرکے لاشوں کو لواحقین کے حوالے کریں۔”

جلیلہ حیدر کا مزید کہنا تھا کہ “موجودہ ملنے والی لاشیں اور گمشدہ افراد کا مسئلہ ایک سوالیہ نشان ہے اور کہیں پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انکا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ یہ تاریخی انسانی معمے ایک دن حل ہونگے، مگر صد افسوس کہ حکمران طبقات کے نسلیں بھی ان انسان دشمن پالیسیوں پر تاریخ سے نظریں چراتے پھریں گے۔”

لاپتہ افراد کے لواحقین مسلسل اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے احتجاج کررہے ہیں، انکا ایک پرزور مطالبہ رہا ہے کہ اگر ان لاپتہ افراد پر کسی جرم کا شک ہے تو اسے پاکستانی آئین کے مطابق عدالتوں میں ثابت کرکے انہیں سزا دی جائے، اور اگر انکے پیاروں کو مار دیا گیا ہے تو کم از کم انکی لاشیں لواحقین کے حوالے کی جائے، بلوچستان سے روزانہ ناقابلِ شناخت مسخ شدہ لاشوں کا ملنا لواحقین کیلئے مزید تکلیف کا باعث بن رہا ہے۔

اس بابت دی بلوچستان پوسٹ نے انسانی حقوق کیلئے متحرک معروف سماجی کارکن حمیدہ نور سے بات چیت کی تو انکا کہنا تھا کہ ” بلوچستان میں لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشوں کا مسئلہ ایک انسانی المیہ ہے جو گذشتہ کئی دہائیوں سے چلتا آرہا ہے، گذشتہ تین مہینوں سے سیما بلوچ کی قیادت میں لاپتہ افراد کے بارے میں جب ایک نئی تحریک شروع ہوئی، جس میں تمام مکتبہ فکر کے افراد نے شرکت کی خاص طور پر نوجوان کافی عرصے کے بعد باہر نکلے اور اس احتجاج میں شامل ہوئے، تو اس سے ہمیں یہ امید ملی تھی کہ شاید لوگوں کو غائب کرنے کا سلسلہ یہاں رک جائے گا اور ہمیں لاپتہ افراد واپس مل جائیں گے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم جس ریاست میں رہ رہے ہیں وہاں انصاف کی امید نہیں رکھ سکے، اگر ایک شخص بازیاب ہو بھی جاتا ہے تو بدلے میں دس مزید لاپتہ کیئے جاتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے ریاست کتنا سنجیدہ ہے اس مسئلے کو حل کرنے میں۔”

حمیدہ نور نے مزید کہا کہ ” گذشتہ دنوں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لانگو آئے تھے اور انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ ایک ہفتے کے اندر وہ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کردیں گے، ابھی اسکے وعدے میں دو دن باقی تھے کہ ہمیں دس لوگوں کی مسخ شدہ لاشیں ملیں ہیں۔ ان لاشوں کو لاوارث قرار دیکر دفن کردیا گیا، کوئی بھی انسان لاوارث پیدا نہیں ہوتا، سب کا کوئی نا کوئی ہوتا ہے، اگر دیانت داری سے تحقیقات ہوتیں، تو ورثاء کا ضرور پتہ چلتا۔ یہاں ورثاء کو ڈھونڈنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی، جس سے یہ گمان تقویت پاتا ہے کہ یہ وہی لاپتہ افراد ہی تھے، اب انکی لاشیں مسخ کرکے پھینکی جارہی ہیں۔”

نمائیندہ دی بلوچستان پوسٹ کو حمیدہ نور نے مزید بتایا کہ ” جب بھی بلوچوں نے پر امن احتجاج کیا ہے تو بدلے میں انہیں تحفتاً مسخ شدہ لاشیں دی گئیں ہیں، کہ یہ لو اپنے پیاروں کو پہچانو۔”

بلوچستان میں لاپتہ افراد، مسخ شدہ لاشوں کے بعد اب لاوارث لاشیں ایک بہت بڑا مسئلہ بنتی جارہی ہیں، تمام سماجی و سیاسی جماعتوں کے آراء و اشاروں سے ایک شک کو تقویت ملتی ہے کہ جنہیں نامعلوم اور لاوارث لاش قرار دیکر گمنامی سے دفنایا جارہا ہے، وہ نا ہی نامعلوم ہیں اور نا ہی لاوارث بلکہ قوی امکان یہی ہے کہ یہ لاشیں ان لاپتہ افراد کی ہیں جن کے بارے میں الزامات ہیں کہ وہ فورسز کے ماورائے عدالت تحویل میں ہیں۔ بغیر ڈی این اے ٹیسٹ اور دوسرے پہچانی ذرائع کے استعمال کے بغیر لاشوں کی یوں تدفین اس امر کا اظہار ہے کہ یہ چاہا نہیں جارہا ہے کہ ان لاشوں کی شناخت ممکن ہو۔