نسیم گروک جسے وقت نے پہچان دیا – ڈیھ یار بلوچ

5

نسیم گروک جسے وقت نے پہچان دیا

تحریر: ڈیھ یار بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ہم اکثر انسانوں کو ان کے ظاہری حالات، لوگوں کی رائے اور ان کے ماضی کی بنیاد پر پرکھ لیتے ہیں۔ کسی کے بارے میں ایک رائے قائم ہو جائے تو پھر ہم اس کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں، احساسات اور کردار کو دیکھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے لیکن زندگی ہمیشہ ہماری بنائی ہوئی رائے کے مطابق نہیں چلتی۔ کبھی ایک ایسا شخص، جسے ہم معمولی سمجھ کر گزر جاتے ہیں، اپنے کسی ایک عمل سے وقت کے معنی بدل دیتا ہے۔ تب احساس ہوتا ہے کہ انسان کی اصل عظمت وہ نہیں جو لوگ اس کے بارے میں سوچتے ہیں، بلکہ وہ ہے جو وقت گزرنے کے بعد اس کے کردار کی گواہی بن کر باقی رہ جاتی ہے۔

وقت انسان کو ایسے مواقع ضرور دیتا ہے جہاں اس کی اصل شخصیت سامنے آتی ہے۔ پھر معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کو ہم معمولی سمجھ رہے تھے، اس کے اندر کتنی صلاحیت، کتنا حوصلہ اور کتنی گہرائی موجود تھی۔

نسیم گروک میرے لیے اسی حقیقت کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ نسیم اور میں ایک ہی شہر میں رہتے تھے۔ میں اسے بچپن ہی سے جانتا تھا۔ وہ بظاہر ایک عام سا انسان تھا؛ سادہ طبیعت، کم گو اور اپنے حال میں مگن رہنے والا۔ وہ حساس دل کا انسان تھا۔ دوستوں سے محبت کرتا تھا اور خوشی کے لمحات کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ بانٹنا جانتا تھا۔ نسیم گروک نے بی ایس سی تک تعلیم حاصل کی تھی۔ ساتھ ہی وہ اپنے علاقے کے بہترین فٹبالروں میں بھی شمار ہوتا تھا۔ جب وہ فٹبال گراؤنڈ میں اترتا تو شائقین کی نظریں اس کے کھیل پر جم جاتیں۔ اس کی مہارت اور کھیلنے کا انداز دیکھنے والوں کو اکثر حیران کر دیتا ۔

لیکن نسیم کی شخصیت کا ایک اور خوبصورت پہلو اس کی گائیکی تھی۔ وہ دوستوں کے محفلوں میں گیت گایا کرتا تھا۔ اس کی آواز میں ایک عجیب سی اداسی اور درد محسوس ہوتا تھا۔ رات کو دوستوں کے درمیان بیٹھتا تو گیت گاتا، محفل میں جان ڈال دیتا اور کبھی کبھی اس کے گیت ختم ہوتے ہی ماحول میں ایک عجیب سی خاموشی چھا جاتی۔

اس کے گیت محض گیت نہیں ہوتے تھے؛ ان میں اس کے احساسات، یادیں اور اپنے دوستوں سے محبت محسوس ہوتی تھی۔ اس کی آواز میں پہلے ہی ایک درد تھا، لیکن شاید اس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ درد اس کے اندر کتنا گہرا ہے۔

انسان کی زندگی ہمیشہ سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتی۔ کبھی حالات، کبھی معاشرہ اور کبھی قومی غلامی جیسے تلخ حقائق انسان کو ایسے راستوں کی طرف دھکیل دیتے ہیں جن پر شاید وہ اپنی مرضی سے کبھی نہ چلتا۔ نسیم بھی ایک عرصے تک کچھ ایسے ہی انجان راستوں میں الجھ گیا تھا۔

انہی دنوں میں میں گھر سے نکلا اور ایک طویل جدوجہد کا حصہ بن گیا، مگر نسیم وہیں اپنے علاقے میں رہ گیا۔ وقت گزرتا گیا۔ اس دوران علاقے کے کسی بھی دوست سے حال احوال نہ ہو سکا۔ ایک عرصے بعد جب علاقے کے ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو باتوں باتوں میں مَیں نے اس سے نسیم کے بارے میں پوچھا۔
اس نے کہا:
“نسیم کا حال آج بھی وہی ہے جو پہلے تھا۔”
یہ بات سن کر میں نے نسیم کے لیے پیغام بھیجا۔
کچھ دنوں کے بعد وہ مجھ سے ایک جگہ ملنے آیا۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے گلے لگا لیا۔ اس کے انداز میں اپنائیت بھی تھی اور ایک پرانی شکایت بھی۔
اس نے کہا:
“سنگت! تم تو ایک قومی مقصد کی خاطر سب کچھ چھوڑ کر چلے گئے شہر میں مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ تم ایک عظیم منزل کے مسافر ہو اگر مجھے پتہ ہوتا تو میں بھی اسی وقت ہی تمہارے ساتھ آ جاتا ۔

نسیم کے اسی ایک جملے سے مجھے اندازا ہوا کہ وہ اپنے دوستوں سے تعلق کو محض تعلق نہیں سمجھتا ۔ بلکہ وہ چاہتا ہے کہ جن لوگوں کو وہ اپنا سمجھتا ہے ، جن کے ساتھ شہر میں ایک عرصہ ساتھ رہا ہے ان کے ساتھ زندگی کے اس اہم سفر میں بھی شریک ہو ۔

مجھے یاد ہے کہ شہر میں نسیم گروک کا اٹھنا بیٹھنا ایسے لوگوں کے ساتھ بھی تھا جو مختلف سماجی برائیوں میں ملوث تھے۔ نسیم کے اسی ایک عمل سے مجھے شدید اختلاف تھا ۔ ذاتی طور پر وہ مجھے بہت اچھا لگتا تھا لیکن اسی ایک بات پر میں اکثر اس سے ناراض ہو جاتا اور کبھی کبھی غصہ میں اسے سخت الفاظ بھی کہہ دیتا میرے سخت الفاظ کہنے کے باوجود بھی وہ مجھ سے بے ادبی و بد اخلاقی سے پیش نہیں آتا ۔ شاید میرے ناراضگی کے پیچھے بھی ایک وجہ چھپی ہوئی تھی کہ نسیم جیسا ایک تعلیم یافتہ و باصلاحیت انسان غلط راستے پر چل کر اپنے صلاحیتوں کو ضائع نہ کر دے ۔

جب وہ مجھ سے پہلی دفعہ ملنے آیا تو رسمی بلوچی حال احوال کے بعد میں نے نسیم کے سامنے یہی بات رکھ دی کہ “گروک جان ! جس راستے پر تم چل رہے ہو، یہ وہ راستہ نہیں جس پہ چل کر تم کوئی مقصد حاصل کر سکو ۔ اصل راستہ وہ ہے جس کی منزل خوبصورت ہو؛ ایسا راستہ جس پر چل کر انسان اپنی ذات سے بلند ہو جائے اور مرنے کے بعد بھی لوگ اسے احترام اور محبت سے یاد کریں۔ ممکن ہے کہ حق کے راستے میں ہمیں مشکلات کا سامنا ہو لیکن پھر بھی ہمیں اپنی قوم کا محافظ بننا ہے، ہماری قوم ہمیں دیکھ کر خوش ہوں، ہم پر اعتماد کریں اور ہمارے قریب آکر خود کو محفوظ سمجھیں۔

نسیم نے میری بات خاموشی سے سنی۔ پھر اس نے جو جواب دیا، اس سے مجھے اندازا ہوا کہ وہ اس راستے کی انتخاب کے لیے پہلے ہی سے شعوری طور پر تیار ہے ۔
اس نے کہا:
“سنگت! میں بھی بہت عرصے سے اسی راستے کی تلاش میں تھا، لیکن مجھے راستہ نہیں مل رہا تھا۔ اسی وجہ سے ناسمجھی میں میرا کچھ غلط لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہوا لیکن سنگت جو غلط راستوں پر چل رہے ہیں وہ بھی تو ہمارے ہی لوگ ہے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ کسی نہ کسی طرح ان کو بھی صحیح راستے کی طرف لے آئیں

نسیم کی یہ بات سن کر میں سوچ میں پڑھ گیا کہ اس نے کتنی گہری بات کہہ دی ۔ اس کا یہ جواب سن کر اسی دن میں نے نسیم کو ایک الگ نظر سے دیکھنا شروع کیا ، اور اس کے جن دوستوں کو میں غلط سمجھتا تھا نسیمِ ان کو برا بھلا کہنے کے بجائے آج بھی انکے لئے فکر مند ہے وہ ان کے لئے برا نہیں سوچتا بلکہ چاہتا ہے کہ شاید وہ بھی کسی دن اپنی زندگی کو درست سمت میں لے آئیں !

نسیم کو صحیح راستہ ملنے میں شاید کچھ وقت لگا لیکن جب اس کو راستہ مل گیا اسی دن سے اس نے اپنے آپ کو بدلنے کا فیصلہ کیا ۔

میں نے جہدو جہد کے سارے مشکلات ایک ایک کرکے اس کے سامنے رکھ دیا کہ جس راہ کے ہم مسافر ہے اس میں مشکلات ہے دکھ ہے تنہائی ہے اپنے ماں باپ بہن بھائی ، رشتہ داروں سے دوری ہے اس جہد میں مختلف مزاج کے دوست ہے بہت سے سخت آزمائشیں ہے اور یہ یقینی ہے کہ ایک دن ہمیں اپنی جان بھی گنوانی پڑی لہذا کوئی بھی جذباتی فیصلہ کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لینا ۔
میں نے سوچا کہ شاید وہ میری باتیں سن کر پیچھے ہٹ جائے ۔
نسیمِ نے میری پوری بات غور سے سنی اور کہا ،کہ سنگت حق کے راستے کی سب سے بڑی نشانی یہی ہے کہ اس میں مشکلات حد سے زیادہ ہے میں آخری حد تک کوشش کروں کا کہ تمام مشکلات کا مقابلہ کر سکوں میرا یہ فیصلہ جذباتی نہیں بلکہ شعوری ہے میں کسی وقتی جذبے یا غصے میں یہ فیصلہ نہیں کر رہا بس صرف یہ دعا کرو کہ ہم اس راہ میں ثابت قدم ہو جب بھی دشمن سے سامنا ہو ہم اس کو پیٹھ دکھانے کہ بجائے اس کا مقابلہ کریں

اسی دن نسیم کی شخصیت کا وہ پہلو بھی میرے سامنے آیا جسے شاید عام زندگی میں میں بھی اپنی کم علمی کی وجہ سے نہیں پہچان سکا ۔ میں نے اس دن محسوس کیا کہ نسیم میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہے ممکن ہے کہ وہ جس بات کا ارادہ کرے اسے آخری حد تک پورا کرے ۔ میں نسیم کو اپنے ساتھ لے کر اوتاک لے گیا باقی سنگت بھی اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے میں اور نسیم رات دیر تک بیٹھے پرانی یادوں اور باتوں کو یاد کرتے رہے ۔

اگلی صبح کو میں اور سنگت الفت نسیم کو لے کر کسی اور اوتاک لے گئے ۔ اوتاک پہنچ کر دوستوں سے حال احوال ہوا بہت سے دوست پہلے ہی سے نسیم کو جانتے تھے اسی دن سے نسیم اپنے کاموں میں لگ گیا نسیم نے کسی پر اپنی موجودگی مسلط نہیں کی۔ وہ خاموشی سے اپنے کام میں لگ گیا اور آہستہ آہستہ اپنے کردار سے اپنی جگہ بناتا گیا۔

کچھ عرصے بعد ایک دن میں نے ایک سینئر دوست سے پوچھا: “کیسا ہے گروک؟
دوست نے جواب دیا: “گروک اب وہ پہلے والا گروک نہیں رہا۔ وہ بہت بدل گیا ہے۔ میں نے اپنی جدوجہد کے دوران بہت کم ایسے انسان دیکھے ہیں جو اتنی تیزی سے اپنے آپ کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ گروک بھی انہی لوگوں میں سے ایک ہے۔”
اس جواب نے مجھے ایک لمحے کے لیے سوچنے پر مجبور کر دیا۔
شاید انسان کی اصل پہچان یہ نہیں کہ وہ ماضی میں کیا تھا، بلکہ یہ ہے کہ شعور کی روشنی ملنے کے بعد وہ خود کو کس قدر بدلنے پر آمادہ ہوتا ہے۔

نسیم نے بھی وقت کے ساتھ اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کی جس نے میرے نزدیک اس کی شخصیت کو ایک نئے معنی دیے۔ کچھ عرصے بعد جب میری اس سے دوبارہ ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا: “نسیم، کیسا لگ رہا ہے یہ سفر؟”
اس نے مسکراتے ہوئے کہا: “سنگت! مجھے صرف اس بات کا افسوس ہے کہ میں پہلے اس جدوجہد کا حصہ کیوں نہ بن سکا۔”
اس مختصر جملے میں نے اس کی پوری کیفیت چھپی ہوئی محسوس کی کہ اسے اگر افسوس ہے تو صرف اس بات کا کہ وہ پہلے کیوں اس جہد کا حصہ نہ بن سکا ۔

نسیم میں ایک اور خوبی وفاداری تھی۔ وہ اپنے دوستوں کو بھولنے والا انسان نہیں تھا۔ جو لوگ اس کی زندگی میں جگہ بنا لیتے، وہ ان کی یاد کو اپنے دل میں محفوظ رکھتا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جدوجہد میں شامل ہونے کے بعد بھی وہ دوستوں کی محفلوں میں اپنے بچھڑنے والے ساتھیوں کے لیے گیت گایا کرتا تھا۔

علاقے میں جدوجہد میں شامل ہونے سے پہلے بھی میں نے اس کے گیت سنے تھے۔ اس وقت بھی اس کی آواز میں ایک درد محسوس ہوتا تھا، لیکن جدوجہد میں شامل ہونے کے بعد جب کبھی اس کی آواز سننے کو ملتی تو یوں محسوس ہوتا جیسے اس آواز میں اب پہلے سے کہیں زیادہ درد اتر آیا ہو۔

جیسے وہ زندگی کو صرف دیکھ نہیں رہا ، بلکہ اسے قریب سے جی بھی رہا ہے؛ جیسے جدوجہد، جدائی اور اپنے ساتھیوں کی یاد نے اس کی آواز کے اندر موجود درد کو مزید گہرا کر دیا ہو۔

وہی آواز جو پہلے دوستوں کی محفل میں گونجتی تھی، اب ایک ایسے انسان کی آواز لگتی تھی جس نے زندگی کے معنی کو پہلے سے زیادہ قریب سے محسوس کیا ہو ۔

اس کی سب سے خوبصورت بات یہ تھی کہ اس نے اپنی تبدیلی کا شور نہیں مچایا۔ اس نے تقریریں نہیں کیں، اپنے بارے میں بڑے دعوے نہیں کیے۔ وہ خاموشی سے کام کرتا رہا اور اپنے عمل سے لوگوں کو اپنی پہچان بتاتا رہا۔

اس کے ساتھی بھی اس تبدیلی کو دیکھ کر حیران تھے۔ وقت گزرتا رہا اور نسیم اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہا۔ جب بھی میں اس علاقے سے گزرتا، دوسرے دوستوں کے ساتھ نسیم سے بھی ملاقات ہوتی۔ کبھی مختصر گفتگو ہوتی، کبھی کچھ دیر بیٹھتے۔ میں اسے دیکھتا تو محسوس ہوتا کہ وہ پہلے والا نسیم نہیں رہا۔

وہی چہرہ تھا، وہی آواز تھی، وہی انسان تھا، مگر اندر سے بہت کچھ بدل چکا تھا۔ پھر ایک دن میں کسی قومی کام کے سلسلے میں سفر پر تھا۔ اسی علاقے سے گزرتے ہوئے باقی دوستوں کے ساتھ ساتھ نسیم سے بھی ملاقات ہوئی۔

ہم نے بات کی، ایک دوسرے کا حال پوچھا اور پھر اپنے اپنے راستے پر چل پڑے۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ نسیم کے ساتھ میری آخری ملاقات ہے۔ کچھ عرصے بعد ایک دن میں موبائل پر خبریں دیکھ رہا تھا اور دوستوں سے حال احوال معلوم کر رہا تھا۔ اسی دوران علاقے میں ایک جھڑپ کی خبر ملی اور ہمارے کچھ ساتھیوں کی شہادت کی اطلاعات آئیں۔

اگلے دن جب شہید ہونے والے ساتھیوں کے نام جاری کیے گئے تو میری نظریں نسیم کے نام پر ٹھہر گئیں:
نسیم گروک۔
ایک لمحے کے لیے میرے ذہن میں اس کی پوری شخصیت سامنے آ گئی۔
وہی سادہ سا نسیم۔
وہی دوستوں سے محبت کرنے والا نسیم۔
وہی گیت گانے والا نسیم۔
وہی ہنسنے اور ہنسانے والا نسیم۔
وہی انسان جس نے کبھی مجھ سے شکوہ کیا تھا:
“کہ سنگت مجھے اپنے ساتھ کیوں نہیں لے گئے؟”

اور پھر وہی نسیم جس نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ اگر انسان کو ایک موقع ملے اور وہ اپنے عزم کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو وہ اپنی زندگی کی پوری سمت بدل سکتا ہے۔

نسیم اور دوسرے جدا ہونے والے دوستوں کی جدائی کا دکھ مجھے صرف اس بات کا نہیں کہ وہ ہم سے جدا ہو گئے، بلکہ اس بات کا بھی ہے کہ ان دوستوں میں ابھی بہت سی صلاحیتیں باقی تھیں، جنہیں وقت مزید نکھار سکتا تھا۔

شاید زندگی کا المیہ یہی ہے کہ بعض انسان اپنی مکمل صلاحیتوں کے اظہار تک نہیں پہنچ پاتے، مگر وہ جتنا سفر طے کرتے ہیں، وہی ان کی اصل پہچان بن جاتا ہے۔ نسیم اور دوسرے جدا ہونے والے دوستوں نے بھی اپنے حصے کا سفر طے کیا، اور ان کے اس سفر کی سب سے قیمتی یاد وہ تبدیلی ہے جو ہم نے ان کے اندر اپنی آنکھوں سے دیکھی۔

اسی احساس کے ساتھ میرے دل میں افسوس سے زیادہ فخر ہے۔ فخر اس بات کا کہ میں نے نسیم کو صرف ایک دوست کی حیثیت سے نہیں دیکھا، بلکہ اپنی آنکھوں کے سامنے اسے بدلتے، سنورتے اور اپنے وجود کو ایک بڑے مقصد کے لیے وقف کرتے دیکھا۔

کبھی وہ اپنی زندگی اور اپنے مستقبل کو ایک مختلف سمت میں دیکھتا تھا، مگر وقت کے ساتھ اس کی سوچ، اس کی ترجیحات اور اس کے کردار میں نمایاں تبدیلی آئی۔ جو شخص کبھی صرف اپنی ذات اور اپنی مصروفیات تک محدود دکھائی دیتا تھا، وہ رفتہ رفتہ دوسروں کے دکھ، اپنے معاشرے اور ایک بڑے مقصد کی فکر کرنے والا انسان بن گیا۔

اس نے اپنے کردار سے وہ مقام حاصل کیا جہاں اس کی زندگی دوسروں کے لیے ایک مثال بن گئی۔ اس کی اصل کامیابی شاید یہی تھی کہ اس نے خود کو بدلنے کی ہمت کی اور پھر اپنی صلاحیتوں کو صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ ایک بڑے مقصد کے لیے استعمال کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ اس نے کبھی کسی سے بحث نہیں کی۔ اس نے صرف وقت آنے کا انتظار کیا اور پھر اپنے عمل سے جواب دیا۔

آج نسیم جسمانی طور پر ہمارے درمیان نہیں، مگر اس کی آواز، اس کے گیت، اس کی یادیں ، اس کا فکرو نظریہ اور سب سے بڑھ کر اس کا بدلا ہوا کردار ہمارے درمیان موجود ہیں۔ میرے لیے یہی اس کی سب سے بڑی یادگار ہے۔ نسیم نے اپنے بارے میں لوگوں کی رائے نہیں بدلی، اس نے اپنے کردار سے خود کو بدل کر دکھایا۔

آج جب میں اسے یاد کرتا ہوں تو میرے سامنے صرف اس کی شہادت نہیں آتی، بلکہ اس کی پوری شخصیت سامنے آتی ہے: ایک سادہ انسان، ایک وفادار دوست، ایک حساس دل رکھنے والا گلوکار، اپنے ساتھیوں سے محبت کرنے والا انسان، اور ایسا شخص جس نے موقع ملنے پر اپنے آپ کو ثابت کر دکھایا۔

نسیم گروک نے اپنے الفاظ سے نہیں، اپنے کردار سے اپنا تعارف کرایا۔ شاید اسی لیے بعض انسانوں کو وقت پہچانتا ہے، اور جب وقت انہیں پہچان لیتا ہے تو پھر ان کی زندگی محض ایک زندگی نہیں رہتی—وہ ایک یادگار کہانی، ایک ان مٹ یاد اور ایک تاریخی مثال بن جاتی ہے۔

نسیم گروک بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھا اور شاید یہی انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ جب وہ دنیا سے رخصت ہو تو اس کے پیچھے صرف اس کا نام نہیں، بلکہ اس کا کردار زندہ رہ جائے اور لوگ اسے یاد کرتے ہوئے کہیں: “ہم جسے عام زندگی میں کچھ نہیں سمجھ رہے تھے، وہ وقت آنے پر ایک عظیم مقصد کا راہی بن کر ہم سب سے بہت آگے نکل گیا۔”


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔