شہید ظفر جان
تحریر: شاری بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ظالم کے ظلم نے حق و آزادی کی آواز کو دبانے کی کوشش کی ہے، شہداء کے لہو نے مزاحمت کی نئی داستان رقم کرتے ہوئے قربانی کے فلسفے کو روشن کیا ہے۔ ہمارے قومی شہداء نے اپنے عزم، حوصلے اور قربانی سے یہ ثابت کیا کہ نظریات کو قید نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی قربانیوں کی یاد کو مٹایا جاسکتا ہے۔ شہداء کا لہو قوم کو ثابت قدم اور مستقل مزاج بنا دیتا ہے۔
شہداء صرف ماضی کی یاد نہیں، بلکہ قوم کے ضمیر، شعور اور استقامت کی زندہ علامت ہیں۔ ان کے نقشِ قدم ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ عزت، انصاف اور آزادی کی جدوجہد صبر، ثابت قدمی اور قربانی کا تقاضا کرتی ہے۔
بلوچستان ایک ایسی سرزمین ہے جہاں قابض قوتوں نے ہمیشہ اس خطے کو غلام بنانے کی کوشش کی ہے، مگر وہ ہر بار ناکام رہی ہیں۔ جب پرتگالیوں نے ساحلی پٹی پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو حمل جیئند ان کے سامنے پہاڑ کی مانند کھڑا ہوا۔ جب انگریز نے پیش قدمی کی کوشش کی تو محراب خان نے اپنی سرزمین کے لیے اپنا خون پیش کیا۔
آج ایک ایسا دشمن، جو انگریز کا پیداوار ہیں، اس خطے پر قابض ہو کر ہمیں اپنی ہی سرزمین سے بے دخل کرنا چاہتا ہے۔ مگر اسے شاید یہ معلوم نہیں کہ اسی سرزمین نے کماش غفار، استاد اسلم، ریحان اسلم، سگار، مجید اور لالی سگار سمیت ہزاروں ایسے رہنما پیدا کیے ہیں جنہوں نے اپنی دھرتی کے دفاع کے لیے ہر قربانی دی ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ہم اپنی سرزمین کی خاطر اپنے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کر سکتے ہیں اور کررہے ہیں۔ شاید وہ اس حقیقت سے بھی ناواقف ہیں کہ سمعیہ، ہتم ناز، بانڑی، بیبو اور گل بی بی سمیت کئی جدوجہد کرنے والی کئی بلوچ عورتیں اس سرزمین سے جنم لئیے ہیں اور اپنی جانوں کو اپنے زمین کےلے ٹکڑے ٹکڑے کئیے ہیں۔
شہداء کی اسی روشن لڑی میں رحیم اللہ عرف ظفر جان کا نام بھی شامل ہے، جنہوں نے اپنے خون سے اس سرزمین کا دفاع کیا۔ انہوں نے سالوں تک ایک ہی جوڑے کپڑوں میں اپنی قومی شناخت کی حفاظت کی اور اپنی آخری سانس تک وطن کا نغمہ گنگناتے رہے۔ آپ کی قربانیوں کو چند الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ لہو کی داستان لفظوں سے نہیں، بلکہ لہو ہی سے لکھی جاتی ہے۔
آپ صرف ایک فرد نہیں تھے بلکہ ایک رہنما تھے۔ آپ اپنی ذات تک محدود نہیں تھے، بلکہ جو بھی ہنر سیکھتے، اسے اپنے تمام ساتھیوں کو سکھاتے۔ بولان کی گود میں آپ نے دشمن پر حملے کرتے ہوئے آپریشن مشکاف میں دشمن کے کئی اہلکاروں کو ہلاک کیا۔ بعد ازاں شال میں ہیروف کی تیز طوفان میں بھی دشمن کے ٹھکانوں پر حملوں میں شریک ہوکر دشمن پر کاری ضربیں لگائی۔ آج شال کی گلیاں آپ کی خوشبو کو کو ترس رہی ہیں، بولان کے پہاڑ آپ کو اپنے دامن میں تلاش کررہے ہیں، اور سرمچار ساتھی آپ کی یادوں میں کئی برس پیچھے لوٹ کر ایک بار پھر آپ کے ساتھ ہونے کی آرزو کرتے ہیں۔
بچپن ہی سے شہید ظفر جان نہایت ذہین اور ہنرمند تھے۔ آپ نے اپنی ذہانت اور صلاحیتوں کو ذاتی زندگی تک محدود نہیں رکھا، بلکہ انہیں قومی بقا کی جدوجہد کے لیے وقف کر دیا۔ اخلاص، دیانت داری، ہنرمندی اور مستقل مزاجی آپ کے اندر خود ہی ضم ہوجاتیں۔ جب آپ شہر میں تھے تو پورا دن تحریک کے لیے نئے ہنر سیکھتے، اس کی حکمتِ عملی پر غور کرتے، آرٹ کا کام سیکھتے، بال بنانا، موٹر سائیکل کو پرزہ پرزہ کھول کر دوبارہ جوڑنا، اور ہتھیاروں کے استعمال سمیت مختلف عملی مہارتیں حاصل کرتے رہے۔
جب آپ پہلی بار پہاڑی محاذ پر پہنچے تو دیکھا کہ کئی ساتھیوں کے بال اور داڑھیاں بڑھ رہے ہیں۔ آپ نے نہایت نرم آواز سے کہا: “مجھے بال اور داڑھی بنانا آتی ہے، جسے بنوانی ہو، آ جائے۔” یہ سن کر تمام ساتھی خوش ہوئے اور آپ کے پاس آ گئے۔ آپ نے مسکراتے ہوئے مذاق ست کہا کہ: “پہلے سب اپنا سر دھو لیں ویسے میں نہیں بناؤں گا،” یہ سن کر ساتھی مزید خوش ہوئے اور حیران بھی کہ یہ ان کا پہلا دن ہے، مگر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے برسوں سے ہمارے درمیان رہتے ہوں۔ آپ کے اس محبت بھرے رویے نے پورے بولان میں آپ کا چرچا کر دیا۔ ہر ساتھی کی زبان پر صرف ظفر جان کا نام تھا۔
آپ کے چہرے پر کبھی مایوسی، شکوہ یا کمزوری دکھائی نہیں دیتی، بلکہ ہمیشہ امید کی ایک کرن نمایاں رہتی تھی۔ آپ نے دو برس بولان کے محاذ پر اپنی قومی ذمہ داری نبھائی اور بعد ازاں جنگی حالات میں اپنی سرزمین کے دفاع کرتے ہوئے شہادت نوش کی۔ آپ کی شہادت آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ ایک روشن چراغ کی مانند راہ دکھاتی رہے گی، جبکہ آپ کا اپنایا ہوا فلسفہ ہر بلوچ کے دل میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































