فیصلے کی گھڑی
تحریر: کاکا انور
دی بلوچستان پوسٹ
قوم کے نوجوان ہی اس کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ اگر ریڑھ کی ہڈی ہی کمزور یا ٹوٹ جائے تو پھر پورا جسم اپنا بوجھ کیسے اٹھا سکتا ہے؟ یہی حال قوموں کا بھی ہوتا ہے۔ آج ہمارے اکثر نوجوان باخبر ہونے کے باوجود غفلت کا شکار ہیں۔ بہت سے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈگریاں تو موجود ہیں، مگر ان کی سوچ اور شعور اس معیار تک نہیں پہنچ سکے جس کی ایک زندہ قوم کو ضرورت ہوتی ہے۔ علم اگر کردار، شعور اور ذمہ داری سے خالی ہو تو وہ انسان کی تعمیر کے بجائے اس کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے، اور آخرکار وہی ہتھیار اپنے ہی سینے میں اترتا ہے۔
اس آزادی اور بقا کی جنگ میں ہم یہ جانتے ہوئے بھی کہ دشمن کی جنگ بلوچ سے ہے، اور ہم بلوچ ہیں، پھر بھی غفلت میں مبتلا ہیں۔ ہم یہ حقیقت بھی جانتے ہیں کہ ایک نہ ایک دن یہی دشمن ہمیں زوال کی طرف دھکیل دے گا، مگر اس کے باوجود ہم یہی کہتے رہتے ہیں “میں نے کیا کیا ہے؟” یا “مجھے تو کوئی نہیں جانتا۔” ارے بھائی! دشمن کے لیے صرف آپ کا بلوچ ہونا ہی کافی ہے۔ آپ اس کے ساتھ ہیں یا نہیں، آپ
کسی بات کو مانتے ہیں یا نہیں، اس سے دشمن کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آج قوم کے سامنے زندگی اور موت کا سوال کھڑا ہے، اور وطن کے لیے فیصلہ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ دشمن بلوچ ہونے کی بنیاد پر لاپتا کرے گا، قتل کرے گا، بلیک میل کرے گا، اور جو چاہے گا وہی کرے گا، جیسا کہ آج بھی کر رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم سب کچھ جانتے ہوئے بھی اندھوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔
ہماری آنکھیں ہیں مگر ہم دیکھتے نہیں، ہمارے کان ہیں مگر ہم سنتے نہیں، ہمارے پاس عقل ہے مگر ہم اسے استعمال نہیں کرتے۔ روزانہ لوگ مارے جا رہے ہیں، لاپتا کیے جا رہے ہیں، کسی کا جسد مل جاتا ہے اور کسی کا آج تک یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہے یا نہیں۔ اس سب کے باوجود ہم یہی سوال دہراتے ہیں کہ “میں نے سرکار کا کیا بگاڑا ہے؟ مجھے کیوں مارے گی؟ یا مجھے برسوں کیوں لاپتا رکھے گی؟” جب یہی سب کچھ کسی دوسرے کے ساتھ ہوتا ہے تو ہم افسوس کے ساتھ کہتے ہیں: “فلانے بے چارے کو بلاوجہ مار دیا گیا، فلانے کو بلاوجہ لاپتا کر دیا گیا۔” مگر ہمیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ کل یہی الفاظ کوئی ہمارے بارے میں بھی کہہ سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ کوئی بلاوجہ مرتا ہے اور نہ ہی کسی کو مفت میں لاپتا کیا جاتا ہے۔ ہماری سب سے بڑی کمزوری
ہماری اپنی نادانیاں اور ہماری غفلت ہیں۔ اپنا وجود بچانا، غلامی سے نجات حاصل کرنا اور اپنی بقا کی حفاظت کرنا گویا ہمارا جرم بنا دیا گیا ہے۔ ہمارا قصور صرف اتنا ہے کہ ہم بلوچ ہیں، اور اپنی عزت، بقا اور وطن کے لیے سر تو کٹا سکتے ہیں مگر سر جھکا نہیں سکتے۔
آج بلوچ صرف ایک خاندان، ایک شہر یا ایک قبیلے کی جنگ نہیں لڑ رہا ہے، بلکہ پورے بلوچستان کی آزادی اور بلوچ قوم کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اس جدوجہد میں مرد، عورت، نوجوان، بزرگ، بچے، اور ہر وہ شخص شامل ہے جو خود کو بلوچ اور بلوچستانی کہتا ہے۔ اسی لیے دشمن کی جنگ بھی تمام بلوچوں کے خلاف ہے۔ لہٰذا ہمیں اس غلط فہمی اور نادانی کا شکار ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ “میں نے کیا کیا ہے، میرے ساتھ کچھ نہیں ہوگا۔” کیونکہ روزانہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں جو اس سوچ کی نفی کرتے ہیں۔ ہاں، کچھ نادان لوگ چند ڈالر، ذاتی مفاد یا دباؤ کی وجہ سے سرکار کا ساتھ دیتے ہیں۔کچھ لوگ بعد میں اپنے کیے پر پشیمان بھی ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ اپنے رہتے ہیں اور نہ دوسروں کے، کیونکہ وہ اپنے ہی بھائیوں سے غداری کر چکے ہوتے ہیں۔ یاد رکھیں، دشمن ایسے لوگوں کو بھی آخرکار نہیں بخشتا۔ جو شخص اپنے لوگوں کا وفادار نہیں رہ سکتا، وہ
کسی دوسرے کا بھی وفادار نہیں ہو سکتا۔ جب دشمن کا مقصد پورا ہو جاتا ہے تو وہ ایسے لوگوں کو استعمال شدہ ٹشو کی طرح پھینک دیتا ہے یا لات مار کر نکال دیتا ہے۔ غداری اور وقتی وفاداری کے ذریعے فائدہ اٹھانے والوں کا انجام اکثر یہی ہوتا ہے۔
اب اس بقا کی جنگ میں ہماری مائیں، بہنیں، بزرگ، بچے اور نوجوان سب شامل ہو چکے ہیں۔ اس لیے ہم سب کو ہر قدم انتہائی سوچ سمجھ کر اٹھانا ہوگا، کیونکہ اسی میں ہماری اور ہماری قوم کی بقا پوشیدہ ہے۔ ورنہ کل کسی اور کی طرح آپ کا نام بھی بے گناہ مارے جانے والوں یا لاپتا ہونے والوں کی فہرست میں شامل ہوگا، اور آپ کی ماں عمر بھر آنسو بہاتی رہے گی کہ جس بچے کو اس نے درد سہہ کر پالا، تعلیم دی اور بڑے ارمانوں سے جوان کیا، ہم سے جدا ہوا اور ہمیں پتہ نہیں وہ زندہ ہے یا نہیں۔ اگر کوئی شخص اس جنگ میں شامل ہو کر دشمن کے ہاتھوں مارا جائے، چاہے اس کا جنازہ ملے یا نہ ملے، اس کے والدین کا سر فخر سے بلند ہوگا کہ اس نے اپنی قوم اور وطن کی خاطر اپنی جان قربان کی۔ وطن کے لیے شہادت عزت، وقار اور فخر کا باعث سمجھی جاتی ہے، اور ایسی قربانی ایک ماں کے ہر درد کو صبر میں بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔
آج قوم کے بے شمار نوجوان، باخبر ہونے کے باوجود، اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ کسی کو لاپتا کر دیا گیا، کوئی شہید ہوا، کوئی سرکاری لالچ کا شکار ہو گیا، کسی کی لاش ویرانے میں ملی، اور بے شمار ایسے ہیں جن کے بارے میں آج تک معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔ ایسے واقعات سن کر دل بے حد دکھتا ہے اور انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر یہ سلسلہ کب رکے گا۔
یہ جنگ صرف کسی ایک فرد، ایک خاندان یا ایک علاقے کی نہیں، بلکہ ہم سب کی جنگ ہے۔ بزرگ، نوجوان، عورتیں، بچے، ہر وہ شخص جو خود کو بلوچ کہتا ہے، اس کی ذمہ داری ہے کہ اپنی قوم، اپنی شناخت، اپنے وطن اور اپنی جان کا دفاع کرے، چاہے اس کے لیے قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔ لیکن ہمیں اس غلط فہمی میں ہرگز نہیں رہنا چاہیے کہ “میں نے کچھ نہیں کیا، میرے ساتھ کچھ نہیں ہوگا۔” اگر ہم اسی سوچ اور اسی غفلت میں مبتلا رہے تو انجام وہی ہوگا جو آج ہم دوسروں کے ساتھ ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































