قوم، تحریک، تنظیم، جنگ، اور ریاست: اخلاقیات و انقلابی اخلاقیات کے تناظر میں
تحریر: ہارون بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
کئی عرصے سے اس موضوع پر لکھنے کا ارادہ رہا ہے۔ بلوچ سیاست، جنگ، تحریک کو لے کر اس سلسلے میں بہت زیادہ لکھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، کبھی کبھار بہت کچھ لکھ کر انہیں اپنے پاس محفوظ رکھتا ہوں جنہیں شائع کرنے کی کبھی ہمت نہیں ہوئی کیونکہ اکثر جذبات، واقعات اور حادثات لکھنے کے وقت حاوی رہتے ہیں لیکن میں اس موضوع پر حادثاتی، واقعاتی اور جذباتی شکل میں لکھنا نہیں چاہتا بلکہ اسے پرسکون، فکری، علمی اور اپنی کم علمی مگر انتہا کے ساتھ اور مضبوط دلائل کے ساتھ لکھنا چاہتا ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ آج تک اگر ہم تنظیم، تحریک، انقلاب، قوم اور ریاست کو کامیاب بنانے میں ناکام ہوئے ہیں تو اس کی ایک بنیادی وجہ ظاہری بیماریاں نہیں رہی ہیں، عوامی حمایت، وسائل، عالمی حالات نہیں رہے ہیں بلکہ ان کا ہمیشہ سے ایک پہلو اخلاقیات سے رہا ہے اور اسی اخلاقی زوال کی وجہ سے ہم کبھی بھی تنظیم، عظیم قوم، ریاست، تحریک، بنانے میں کامیاب نہیں رہے ہیں اور اکثر ہماری کامیابیاں، بہتری، مضبوطی وقتی اور ایک ٹائم فریم کے اندر رہتے ہوئے ختم ہو جاتی ہیں کیونکہ مستقل تبدیلی کا تعلق ایک انسان، فرد، ادارے، نفسیات یا ٹائم فریم سے نہیں رہتا بلکہ اس کا تعلق قوم کے اندر پیدا ہونے والی اخلاقیات سے رہتا ہے۔ اگر کوئی مجھ سے بلوچ قوم کی عظیم قوم، عظیم ریاست اور دنیا کے مقابلے میں کھڑے رہنے کے قابل ریاست بننے کے خلاف کوئی ایک وجہ بتائے تو میں اسے انقلاب، تحریک اور جدوجہد کے اندر اخلاقی زوال کہوں گا، اسی اخلاقی زوال کا ہم ہر دن سیاسی، تحریکی یا کسی بھی مقام پر سامنا کرتے ہیں، اکثر اسے نظر انداز کیا جاتا ہے کیونکہ اخلاقیات ظاہری نہیں ہوتیں، یہ ہر انسان کے باطن اور اندرون سے تعلق رکھتی ہیں اور اندرونی احساس، ضمیر اور اخلاقی جرات کے بغیر اسے سمجھنا، قبول کرنا یا اس پر عمل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اخلاقی زوال اندرونی طور پر ایسے کلچر، رویے، سوچ اور خیالات کی بنیاد رکھتا ہے جو حادثے کی شکل میں نہیں بلکہ نفسیاتی شکل میں تنظیم کو دیمک کی طرح کھا جاتے ہیں اور ایک دن ایسا آتا ہے کہ سب کچھ چلا گیا ہوتا ہے۔
تقریر کرنے کا آرٹ، لکھنے کا عمل، کسی ہتھیار کا علم، کتابیں پڑھنے کی عادت، یا کوئی ٹیکنیکل و ٹیکٹیکل فن یہ جلد ہی سیکھی جا سکتی ہیں، حتیٰ کہ جنگوں میں کمانڈر بننا، عہدہ دار بننا، لیڈر بننا، یہ بھی اکثر بڑی باتیں نہیں ہوتیں کیونکہ جنگوں میں اکثر کم انسان عمل کرتے ہیں اور یہاں بھی کام کرنے، حرکت میں رہنے، انقلابی کردار نبھاتے ہوئے بیشتر کام کرنے والے ساتھی دورانِ جنگ شہادت حاصل کرتے ہیں، کچھ زخمی ہوتے ہیں، کئی اغوا ہوتے ہیں، اس لیے ایسی جگہوں میں اسپیس کی کمی نہیں ہوتی لیکن اخلاقیات ایک ایسا مقام ہے جو کسی ٹیکنیکل علم، کسی ہنر، چند کتابیں پڑھنے، پی ایچ ڈی کرنے یا سیاست کے کسی مقام پر پہنچ جانے سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ یہ انسانی شعوری اور وجودی علم کا وہ مقام ہے جہاں انسان کے اندر صلاحیت، قابلیت اور کام کے ہنر کے ساتھ احساس، خودداری، ایمانداری، حقیقت پسندی، خود تنقیدی، ذات کا احتساب، چیزوں کی اہمیت کا علمی ادراک، انسانی شعور، خود احتسابی، ہر چیز کا گہرائی سے اندازہ، چیزوں کے اندر انصاف اور ناانصافی کو دیکھنا، اپنی باتوں پر قائم رہنا، اپنی غلطیوں کا اقرار کرنا، انہیں قبول کرنا اور ان کی اصلاح پر اندرونی احساس کے ساتھ کام کرنا شامل ہوتا ہے، جہاں انفرادی طور پر انسان ان اخلاقی اصولوں کو اپنانے کے مقام تک پہنچ جاتا ہے اور حقیقت پسند بن جاتا ہے۔
بدقسمتی سے قبضہ گیر کے ڈھانچے میں رہتے ہوئے ہم اکثر انقلاب، جنگ اور تحریک میں رہتے ہوئے بھی وہی تصورات، خیالات اور سوچ اپنے اوپر حاوی کرتے ہیں جو بنیادی طور پر انقلاب، جنگ، تحریک اور قومی ریاست سے کوئی تعلق نہیں رکھتے یا جن زوال پذیر اخلاقیات کے خلاف ہم مزاحمت کر رہے ہیں، جنگ لڑ رہے ہیں، وہی اخلاقی پستی اپنے اندر جمائے رکھتے ہیں۔ کہنے کو ہم انقلاب کے وارث، قوم کے وارث، تحریک اور جدوجہد کے وارث ہوتے ہیں جبکہ ہماری انقلابی اخلاقیات سے سماجی اخلاقیات زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ ایک گھر میں والدین کے دیے گئے اخلاقی معیار ہماری سیاسی اور انقلابی معیار سے اکثر بڑے اور معتبر ہوتے ہیں۔ بلکہ ہم جن اخلاقیات کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ انتہائی ڈھکوسلہ، غیر انقلابی، غیر تبدیلی پسند اور پستی کے مقام پر کھڑے اخلاقیات ہوتے ہیں بلکہ سماجی اخلاقیات ہمارے پیدا کردہ انقلابی اخلاقیات سے زیادہ بہتر اور زیادہ انقلابی ہوتے ہیں جبکہ انقلابی تحریک سے وابستہ طلبہ، نوجوان، جہدکار یا کسی کارکن کے اخلاقیات سماج سے بدتر ہوتے ہیں اور وہ انفرادیت کو زیادہ مقدم، زیادہ اہمیت اور زیادہ زور دیتے ہیں۔
برتر، تہذیب یافتہ، خودداری، ایمانداری اور عظیم انسانی اخلاقیات کے بغیر کسی بھی سماج، قوم یا ریاست میں میرٹ کو بحال کرنا، تنظیم بنانا اور ریاست کی تشکیل کرنا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ تنظیم، قوم اور ریاست تینوں اجتماعی چیزیں ہوتی ہیں اور جب یہ اجتماعی تصورات و ڈھانچے ہیں تو وہاں انفرادی سوچ اور خیال اجتماعیت کی تباہی کا سبب بنتے ہیں۔ بدقسمتی سے انقلاب کے دعوے دار، انقلاب کے عمل کا حصہ بننے اور انقلابی کردار و انقلابی جہدکار ہونے کے باوجود اگر سماجی اخلاقیات سے ہمارے اخلاقی تصورات کا ایک تقابلی جائزہ لیا جائے تو ہمیں اکثر سماجی اخلاقیات زیادہ بہتر، مضبوط اور طاقت ور نظر آئیں گے۔
میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی عظیم قوم، عظیم تنظیم اور عظیم ریاست کی تشکیل سے پہلے ہمیں اپنے اخلاقی اصولوں، اخلاقی زوال اور اخلاقی اقتدار پر ایک وسیع مباحثے کی ضرورت ہے کیونکہ اخلاقیات کے بغیر دنیا کی کوئی بھی طاقت ور قوم اور ریاست نہیں بنتی اور بالخصوص انقلاب بنیادی طور پر اخلاقی معیارات کی بحالی کی ایک عظیم جدوجہد ہوتا ہے۔ اگر آپ اخلاقی اصولوں پر قائم قیادت، تنظیم، سرکل اور اجتماعی سوچ و مائنڈ سیٹ کی تشکیل نہیں کرتے تو پھر آپ کے پاس جتنے بھی وسائل، افرادی قوت اور عوامی حمایت ہو، آپ ایک طاقت ور جنگی و قومی ریاست کا قیام عمل میں نہیں لا سکتے کیونکہ جب تک وسائل کا بہترین انتظام، افرادی قوت کا بہترین استعمال اور افرادی قوت کو استعمال کرنے کے لیے قیادت کے پاس میرٹ کے اصول کے بجائے انفرادیت پسندی، ذاتی سوچ اور خیال ہوگا تو پھر وہ یہ افرادی قوت کسی بھی انقلاب لانے یا کسی تحریک کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے میں مؤثر ثابت نہیں ہو سکے گی۔
انقلاب کا بنیادی مطلب کسی تبدیلی کو لانا ہے، جو ایک نظام، سیاسی سوچ، فکر اور عمل سے جڑا ہو۔ اگر انقلاب کے اندر شامل ہونے کے باوجود ایک انسان اور ایک سماجی و قبضہ گیر ریاستی ڈھانچے کے اندر پلے بڑھے انسان کے درمیان کوئی فرق دکھائی نہیں دے رہا تو کیا وہ واقعی ایک انقلابی سرکل، تنظیم یا اجتماعی سوچ پر قائم ہے یا صرف جگہ تبدیل ہوئی ہے اور معیار وہی ہیں جو قبضہ گیر کے ڈھانچے کے اندر موجود ہیں؟
ایک غیر اخلاقی ریاستی ڈھانچے کے اندر پروان چڑھے فرد کے اندر اگر ضد، انا، حسد، اپنے سرکل کے ساتھیوں سے غیر دلچسپی، ان سے نفرت، یا انہیں نیچا دکھانے، کمزور ثابت کرنے یا پیش کرنے کی سوچ موجود ہے تو وہاں اخلاقی معیار موجود ہی نہیں ہوتے کیونکہ قبضہ گیر کے ڈھانچے میں مفادات اہم ہوتے ہیں، اخلاقیات نہیں، کیونکہ قبضہ خود ایک غیر اخلاقی عمل ہے۔ لیکن جب آپ انقلاب، انقلابی تبدیلی، عظیم قوم، ریاست، اداروں کی تشکیل اور ایک عظیم ریاست کی پیدائش چاہتے ہیں، سینکڑوں اور ہزاروں لوگ شہید ہوتے ہیں، لاکھوں لوگ جنگ کی وجہ سے بے گھر ہوتے ہیں، لاکھوں دربدر کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں اور کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کا تعلق جنگ، اس کی قیادت، سرمچاروں اور جہدکاروں کے فیصلوں سے ہوتا ہے تو یہ نہایت اہم ہے کہ آپ ان اخلاقی اصولوں پر قائم رہیں جو انقلاب کے تقاضے ہیں یا جو انقلابی کامیابی کی بنیاد ہیں۔
اگر میرے اندر نفرت موجود ہے، ناپسندیدگی موجود ہے، جھوٹ بولنا مجھے آتا ہے، ساتھیوں، قوم، عوام اور تنظیم کو فریب دینا مجھے آتا ہے، حالات کے ساتھ میں تبدیل ہوتا رہتا ہوں، اپنی کہی ہوئی باتوں کو وقت کے ساتھ بھول جاتا ہوں، اپنے سے قابل انسانوں کو میں نیچے دکھاتا ہوں تاکہ وہ کمزور رہیں، ان کے اندر موجود موٹیویشن ختم ہو، جھوٹ بول کر میں چیزیں اپنے حق میں رکھنا چاہتا ہوں، میرا اپنا کوئی اوپینین، نظریہ یا سوچ نہیں، جہاں ہوا چلے میں اسی طرف ہو جاتا ہوں، لیکن ان تمام غیر اخلاقی تصورات کے باوجود پھر مجھے لگتا ہے کہ چونکہ میں ایک تنظیم سے تعلق رکھتا ہوں، میرے پاس بندوق ہے، یا میں کسی سیاسی پلیٹ فارم کا حصہ ہوں، یا میرے خاندان سے چند افراد تحریک کے لیے شہید ہوئے ہیں، جو اجتماعی مقصد کے لیے اپنی اپنی انفرادی اور عظیم قربانیاں ہیں، تو یہ چیزیں مجھے legitimate نہیں کر سکتیں کہ میں ایک انقلابی، قابل اور باصلاحیت انسان یا جہدکار ہوں۔
ایک انقلابی جہدکار اولین طور پر انقلابی اخلاقیات سے بھرپور ہوتا ہے۔ اگر وہ اخلاقی حوالے سے کمزور ہے تو پھر چاہے اس کے پاس جتنی بھی صلاحیتیں ہوں، وہ کچھ بھی نہیں۔ بلکہ اکثر اخلاقی زوال کے شکار افراد ہوشیاری کی شکل میں تحریک کے لیے زیادہ تباہ کن ہوتے ہیں۔ ایسے افراد زیادہ ہوشیار یا سمجھدار ہونے کے باعث تحریک کو زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں کیونکہ وہ اس ہوشیاری کو اپنے ذاتی مقصد، ذاتی سوچ کی تقویت اور انفرادی طاقت و فائدے حاصل کرنے پر صرف کر دیتے ہیں۔
اخلاقیات ظاہر کرنے کی چیز نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک اجتماعی معیار، مقام اور اجتماعی خیال ہوتا ہے جہاں انسان اپنی ذات کو لے کر اپنی باتوں پر خود قائم رہتا ہے، عمل کرتا ہے اور ہر وقت خود سے سوال کرتا ہے۔ اپنے ہر عمل پر سب سے پہلے سوال اٹھانے والا وہ خود ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر میں تنظیم و پارٹی کو لے کر کچھ مطالعہ کرکے ایک تفصیلی مضمون یا کتاب لکھ لیتا ہوں کہ ایک انقلابی پارٹی کی قیادت، کارکن اور ان کا پروگرام کس طرح ہونا چاہیے۔ روس میں لینن نے کیسے انقلاب لایا، یورپ کس طرح یہاں تک پہنچا، چین نے اتنی جلدی اس طرح ترقی کیسے کی، ایران نے انقلاب کے بعد خود کو اس طرح کیسے مضبوط بنایا، تامل ٹائیگرز کیسے ناکام ہوئے، یا کسی بھی پارٹی و ملک پر کچھ ریسرچ کرکے لکھ لیا، لیکن اب اخلاقیات کا تقاضا یہ ہے کہ جو الفاظ میں نے لکھے ہیں، یا جو میں ابھی اخلاقیات کو لے کر یہاں لکھ رہا ہوں، کیا میں ذاتی طور پر ان پر پورا اتر رہا ہوں، یا پورا اترنے کی کوشش کر رہا ہوں، یا ان معیارات کو اپنانے کی کوشش کر رہا ہوں؟ اگر میں خود ان پر پورا نہیں اتر رہا تو میں جتنا بھی علم حاصل کر لوں، جتنی بھی تعلیمی، علمی اور فلسفیانہ باتیں کروں، سب بیکار اور فضول ہیں اور انقلاب، قوم و ریاست کی تشکیل میں بنیادی رکاوٹ ہیں۔ اخلاقیات کا آغاز اپنی ذات سے ہوتا ہے اور یہ بہت ہی چھوٹی چھوٹی مگر مؤثر چیزوں کی شکل میں موجود رہتا ہے۔
بقول ایک سنگت، بنیادی طور پر ہمارا سسٹم خود اخلاقی حوالے سے کئی مرتبہ لوگوں کو کرپٹ کرتا ہے یا انہیں کرپٹ اخلاقیات کا عادی بنا دیتا ہے۔ انہیں موقع دیتا ہے کہ وہ کرپشن کریں۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے کہ یہ مسئلے نہیں ہیں، لیکن ایک وقت آتا ہے جب یہی چیزیں بڑی نوعیت کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
میں نے ذاتی طور پر دیکھا ہے کہ ہمارے لوگ اکثر ہر سوال کا ایک واقعاتی یا حادثاتی جواب چاہتے ہیں کیونکہ کسی بھی ناکامی، غلطی، کمزوری یا کوتاہی کے پیچھے صرف حادثاتی یا واقعاتی عوامل نہیں ہوتے بلکہ اکثر اخلاقی تنزلی اور زوال بھی کارفرما ہوتا ہے۔ میرے پاس تنظیم ہے لیکن تنظیم ترقی نہیں کر رہی؟ اس کا آسان مطلب یہی ہے کہ تم اندرونی طور پر یہ قبول کرو کہ تم ایک نالائق قیادت ہو، تنظیم چلانے کی صلاحیت سے محروم ہو، تنظیم کو کامیابی کے مقام تک پہنچانے کی صلاحیت سے محروم ہو، اور اخلاقی تقاضا یہی ہے کہ تم تنظیم سے استعفیٰ دے کر ایک کارکن کی حیثیت سے کام کرنا شروع کر دو اور کسی ایسے باصلاحیت، قابل اور طاقت ور انسان کو موقع دو جو چیزوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
لیکن اخلاقی زوال کا شکار فرد کیا کرتا ہے؟ وہ الزام لگاتا ہے، بہانے تلاش کرتا ہے، دشمن کے جبر کو جواز بناتا ہے، حالانکہ دشمن کا جبر تو انقلاب کے بنیادی نکات میں سے ایک ہے، یہ جواز ہو ہی نہیں سکتا۔ دوسرے تنظیموں پر الزام لگایا جاتا ہے، دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے، لیکن لیڈر وہ خود ہوتا ہے کیونکہ بنیادی نقطہ یہ ہے کہ وہ تحریک سے شاید دلی وابستگی رکھتا ہو لیکن اخلاقی حوالے سے وہ ایک زوال پذیر شخص ہوتا ہے۔
اگر میری قیادت میں جنگ کامیاب نہیں ہو رہی، وسعت اختیار نہیں کر رہی، یا کسی پروگرام کو میں مکمل نہیں کر پا رہا تو اس کا سیدھا مطلب یہی ہے کہ میں اس چیز کے لیے اہل نہیں ہوں۔ کیونکہ اخلاقی زوال کی صورت میں میرٹ بھی ممکن نہیں ہوتا۔ پسند و ناپسند علمی نہیں بلکہ لاشعوری طور پر دماغ میں موجود رہتے ہیں، اس لیے سسٹم، ادارے اور تحریکیں کامیاب نہیں ہوتیں۔ ہم اپنی انفرادی اخلاقی زوالیت کو پھر پوری تنظیم، ادارے، تحریک اور بعد ازاں قوم پر تھوپتے ہیں کہ ان کی وجہ سے ناکامی ہوئی ہے۔ کیونکہ اخلاقی زوال کے شکار افراد کے دماغ میں خود احتسابی ہوتی ہی نہیں، وہ خود کو سوال کرنے پر ترجیح ہی نہیں دیتا، اس کے دماغ میں صرف الزامات، بہانے، جواز، خود کو بری الذمہ کرنے کے طریقے اور نرگسیت پسندی موجود ہوتی ہے۔
امریکہ کے سابق صدر ایک صدارتی تقریر کے دوران ٹرمپ کے ہاتھوں شکست کھاتے ہیں یا کمزور نظر آتے ہیں، اور گھر جاتے ہی وہ صدارتی الیکشن سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔ برطانیہ کے جنگی ہیرو ونسٹن چرچل جب اس مقام پر آتے ہیں جہاں انہیں لگتا ہے کہ اب وہ مزید ملک چلانے کے اہل نہیں رہے تو وہ کسی دوسرے شخص کو ملک سونپ دیتے ہیں تاکہ اجتماعی مفادات کو یقینی بنایا جا سکے۔ یورپ میں کسی فوجی یا سیاسی شخصیت کو اپنے ٹینیور کو زیادہ بڑھاتے ہوئے نہیں دیکھا جاتا کیونکہ اس سے جو غیر معیاری کلچر پیدا ہوتے ہیں وہ سیاسی اخلاقیات کو تباہ کرتے ہیں۔
ایک جنگ میں اگر ایک کمانڈر بہتر پرفارمنس دیتا ہے اور دوسرا نہیں دے پاتا، یا ایک نتائج دینے سے قاصر رہتا ہے، تو جو نتائج نہیں دے رہا، اگر وہ اخلاقیات کا مظاہرہ کرے، تو وہ خود تنظیم کے پاس آ کر اپنا احتساب کروائے گا، سزا کا مطالبہ کرے گا، استعفیٰ دے گا اور کسی ایسے انسان کو موقع دے گا جس کے پاس کام کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔ لیکن دنیا بھر میں جو اخلاقیات ذات کے حوالے سے موجود ہیں، ہمارے یہاں انہیں بنیادی طور پر سمجھا ہی نہیں جاتا بلکہ ہمارے یہاں اخلاقیات کبھی بحث کا موضوع ہی نہیں رہا۔
عوام ایک ہی ہوتی ہے، جب وہ تحریک کا حصہ بنتی ہے، اٹھتی ہے، تو ہم کریڈٹ لیتے ہیں کہ یہ ہماری محنت اور کام سے اٹھی ہے، لیکن جب یہی عوام خاموش ہو جاتی ہے تو اپنی ناکامی کو قبول کرنے اور چھوٹی سی اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ریاست، عوام یا کسی دوسری وجہ کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ اخلاقی تنزلی کا وہ مقام ہے جسے جانتے ہوئے بھی کوئی قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا، اور یہی انقلابی سستی، ناکامی اور کاہلی کا بنیادی سبب بنتا ہے۔
میں نے کئی جگہ اپنی آنکھوں کے سامنے اس اخلاقی پستی کا تجربہ کیا ہے کیونکہ ہمیں یہ شعور ہی نہیں ہوتا کہ اخلاقیات نامی بھی کوئی چیز وجود رکھتی ہے۔ بدقسمتی سے ہم تحریک کے لیے، وطن کے لیے ہر مشکل کا سامنا کرنے کو تیار رہتے ہیں، حتیٰ کہ کئی مقامات پر موت کو بھی قبول کرتے ہیں، لیکن اپنی ذات کے اندر اخلاقیات پیدا کرنے میں ہمیشہ ناکام رہتے ہیں، اور بدقسمتی سے تباہی اس وقت جنم لیتی ہے جب اخلاقی تباہی اور تنزلی کا شکار انسان کے پاس اختیارات آ جاتے ہیں۔
اختیارات اگر اعلیٰ اخلاقی معیار رکھنے والے انسان کے پاس ہوں تو وہ چند سالوں میں تحریک، جنگ اور ریاستیں قائم کر سکتا ہے، لیکن اگر اخلاقی زوال کا شکار انسان کے پاس اختیارات آ جائیں تو وہ انہیں اپنی ذاتی پوزیشن کی مضبوطی، اپنی ذات کی اہمیت اور انا کی تسکین پر خرچ کرتا ہے۔ یہی وہ بنیادی نقطہ ہے جسے ہمیں سمجھنا ہے کیونکہ ہماری کامیابی اور عظیم ریاست بننے کے سامنے کوئی رکاوٹ موجود نہیں، ماسوائے اخلاقی زوال کے۔ اگر ہم نے انقلابی اخلاقیات پیدا کیں تو کامیابی یقیناً ہماری دہلیز پر کھڑی نظر آئے گی، لیکن انقلابی اخلاقیات کے حوالے سے بدقسمتی سے آج بھی ہم بنیادی نقطے پر ہی کھڑے ہیں۔
اگر بلوچ سماجی اخلاقیات اور انقلابی اخلاقیات کا ایک تقابلی جائزہ لیا جائے تو اکثر سماجی اخلاقیات، انقلابی اخلاقیات سے زیادہ طاقت ور نظر آتی ہیں کیونکہ سماج میں اکثر ہمیں گھروں میں ماں باپ کی جانب سے جھوٹ بولنے سے سختی سے منع کیا جاتا ہے، محنت کرنے، انصاف کرنے اور کرپشن سے روکا جاتا ہے۔ گھر میں اکثر ہماری تربیت ایک ایسے انسان کی طرح کی جاتی ہے جو سماج میں ایک اچھا انسان بنے، جو برے اور صحیح کا فرق سمجھ سکے۔ کیونکہ گھروں میں کوئی نہ کوئی انسان محنت، خواری اور تکالیف برداشت کرکے ان کی پرورش کر رہا ہوتا ہے۔ ماں کشیدہ کاری کرکے اپنے بچے کو پڑھانے کے لیے تیار رہتی ہے اور والد سالہا سال مزدوری کرکے اُسے تعلیم دینے اور کامیابی حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
گھر میں ان کی تربیت کے بنیادی اصولوں میں بھائی چارہ، وفاداری، محنت اور خودداری شامل ہوتے ہیں۔ اکثر میں نے ایسی مثالیں دیکھی ہیں کہ اگر کوئی بچہ ریاستی ادارے کا حصہ بن کر کرپشن کر رہا ہو یا غلط طریقے سے پیسہ کما رہا ہو تو گھر والے اسے ناجائز سمجھ کر وہ پیسہ گھر نہیں آنے دیتے تاکہ گھر پر اس کے اثرات نہ پڑیں۔ کیونکہ گھر کے لیڈر اور تنظیم یعنی والدین بنیادی طور پر شعوری یا لاشعوری طور پر اپنے بچے میں ایک بہترین انسان دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کے نزدیک ان کے بچے کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔
یہ وہ بنیادی سماجی اخلاقیات ہیں جو ہمیں سمجھائی، سکھائی اور ان پر عمل کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ یہاں بلوچ سماج کو ایک آئیڈیل صورت میں پیش کرنا مقصد نہیں، اور بلوچ سماجی اخلاقیات آج آئیڈیل شکل میں موجود بھی نہیں ہیں، لیکن تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی بنیادوں پر وہ ایک ایسے معیار تک پہنچے ہوئے تھے جنہیں دشمن روز بروز تباہ کرتا جا رہا ہے۔ آج بھی نیم سماج کو دشمن نے اخلاقی تنزلی کا شکار بنا دیا ہے۔
لیکن المیہ یہاں دشمن نہیں بلکہ وہ اخلاقی زوال ہے جو انقلابی نعرہ لگانے، انقلابی فکر و سوچ کی تشکیل کا دعویٰ کرنے اور عظیم قوم، ریاست، آزادی اور سماج کو غلامی کے چنگل سے آزادی دلانے کی جدوجہد و سیاسی نظام کے اندر موجود ہے، جسے آج بحث میں لانے کی اشد ضرورت ہے۔ بنیادی طور پر انقلاب موجودہ نظام کے برعکس ایک نظام ہوتا ہے، اور وہ صرف ڈھانچے یا افراد کو تبدیل کرنے کا نام نہیں بلکہ وہ ان معیارات اور اخلاقی اصولوں پر بھی قائم ہوتا ہے جن کی قوم حمایت کرتی ہے۔ اگر انقلابی نظام، سسٹم، اجتماعی فکر و سوچ اور تنظیمیت کے اندر اخلاقی معیار وہی ہوں جو دشمن کے موجودہ سیٹ اپ کے اندر موجود ہیں تو پھر اسے انقلاب اور قومی آزادی نہیں کہا جا سکتا، بلکہ شاید لاشعوری طور پر وہ صرف افراد کو تبدیل کرنے کی ایک جنگ ہوتی ہے۔
جب ہم انقلابی اصولوں اور انقلابی اخلاقیات کی بات کرتے ہیں تو وہ موجودہ نظام، موجودہ سیٹ اپ اور موجودہ تصورات و ریاستی ڈھانچے کے اندر موجود اخلاقی معیار سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ تحریکی اور جدوجہد کی اخلاقیات کو اس مقام پر ہونا چاہیے جہاں واقعی کسی بھی عام انسان کو تبدیلی کا اصل مفہوم معلوم ہو۔ مثال کے طور پر ریاستی ڈھانچے میں سیاست کا مفہوم اختیارات، ایک دوسرے کے خلاف لابنگ، ایک دوسرے کو نیچا دکھانا، اندرونی طور پر مفادات اور طاقت کی جنگ، ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی خواہش، اور ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلنا ہے۔
اور جب وہی رویہ، وہی سوچ اور وہی معیارات ہم انقلابی تحریک میں بھی اپناتے ہیں، انقلابی تنظیم کے اندر بھی وہی معیار قائم رہتے ہیں، اور تبدیلی و تحریک کا دعویٰ کرنے کے باوجود بھی ہم انہی اصولوں پر قائم رہتے ہیں تو پھر ہم برائے نام انقلابیوں کے علاوہ اور کیا ہیں؟ اگر مجھ میں اپنے سنگت کو قبول کرنے کی اخلاقی جرات نہیں، اگر مجھ میں اپنی ذاتی کمزوریوں اور نااہلیوں کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں، اگر میں اختیارات حاصل کرنے کو ہی تبدیلی کا اولین و آخری مرحلہ سمجھ رہا ہوں، اگر میں یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں ایک غیر صلاحیت مند انسان ہوں پھر بھی عہدے سے چمٹے رہنے پر قائم ہوں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں کچھ مقامات پر منافقت کر رہا ہوں، جھوٹ بول رہا ہوں یا میرے اندر اپنے انقلابی سنگت کے لیے ضد یا حسد موجود ہے، تو پھر میں کیسے انقلابی بن سکتا ہوں؟
اگر میں اپنی کہی ہوئی باتوں کو بھول جاتا ہوں، ان سے انکار کرتا ہوں، انہیں وقت اور مفادات کے تحت تبدیل کرتا ہوں، یا یہ جانتے ہوئے بھی کچھ مقامات پر چاپلوسی کرتا ہوں، یا اپنی ذات کو غیر ضروری اہمیت دیتا ہوں، اسے مقدم سمجھتا ہوں، کسی دوڑ میں شامل ہوں، یا اخلاقی جرات سے عاری ہوں اور حالات کے مطابق اپنا پلڑا بدلتا رہوں، تو پھر میں انقلابی کیسے ہوں؟ پھر مجھ میں اور قبضہ گیر کے ڈھانچے کے اندر کام کرنے والے ایک مفاد پرست انسان کے درمیان کیا فرق باقی رہ جاتا ہے؟ صرف یہ کہ میں انقلاب کا نام لیتا ہوں یا کسی تنظیم سے وابستہ ہوں، کیا یہی کافی ہے کہ میں انقلابی بن جاؤں۔
میں اکثر سنتا ہوں کہ تقریر سے انقلاب نہیں آتا، عمل سے آتا ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ تقریر بھی تبلیغ کا ذریعہ ہوتی ہے۔ مسئلہ تقریر میں نہیں ہوتا بلکہ تقریر کے دوران ان اندرونی جذبات، احساسات اور سوچ سے ہوتا ہے کہ وہ کس نیت اور فکر کی بنیاد پر باتیں کر رہا ہے۔ اگر مقصد تبلیغ ہو، مقصد اپنی علم و عمل کے ذریعے تبدیلی ہو، اور انہی باتوں پر آپ خود بھی پورا اتر رہے ہوں تو یقیناً تقریر تبلیغ، ذہن سازی اور لوگوں کو اپنے نظریات و خیالات سے متاثر کرنے کا سبب بنے گی۔ لیکن اگر تقریر کی نیت متاثر کرنا، چند لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لینا، کچھ لوگوں کو کنٹرول کرنا یا اپنی انفرادیت پسندی پر خوش ہونا ہو تو یقیناً تقریر بے معنی ہو جاتی ہے اور کبھی بھی انقلاب یا تبدیلی کا سبب نہیں بنتی۔
انقلابی اخلاقیات کے تقاضے بہت زیادہ ہیں، لیکن یہاں ہمارے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیا ہم بنیادی اخلاقیات اپنانے کو تیار ہیں؟ کیا اتنی قربانیاں، اتنے نوجوانوں کی شہادت، ساتھیوں کی قربانیوں اور عوامی تکالیف کے بعد بھی اگر ہم اخلاقی حوالے سے وہیں کھڑے رہیں تو یہ ایک تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوگا؟ میں سمجھتا ہوں کہ اخلاقیات پر ہر جہدکار کو اپنے اندر ایک مکالمہ شروع کرنے کی ضرورت ہے، اور خاص طور پر ان افراد کے لیے یہ نہایت ضروری ہے جو اختیارات رکھتے ہیں یا جن کے اثرات ہیں، کیونکہ ان کی اخلاقی زوال کا تعلق صرف ان کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ ایک ایسے نظام کو جنم دیتے ہیں جہاں سینکڑوں لوگ ان سے متاثر ہوتے ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔











































