کراچی فورسز حکام کا سندھودیش ریولوشنری آرمی سے وابستہ مبینہ رکن کی گرفتاری کا دعوی۔
کراچی میں سندھ رینجرز اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کالعدم سندھودیش ریولوشنری آرمی “ایس آر اے” سے وابستہ ایک مبینہ انتہائی مطلوب شخص کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
حکام کے مطابق گرفتار شخص کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
سرکاری بیان کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت عبدالجبار سرکی ولد غلام رسول کے نام سے ہوئی ہے، جسے حب ریور روڈ پر رئیس گوٹھ کے قریب رینجرز چیک پوسٹ سے اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ کوئٹہ سے کراچی جا رہا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران انکے قبضے سے ڈیٹونیٹرز، بال بیرنگ، اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔
حکام کے مطابق گرفتار شخص اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر کراچی کے حساس مقامات پر مبینہ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، مزید کہا گیا کہ وہ بیرونِ ملک موجود ایس آر اے کمانڈر سجاد شاہ سے رابطے میں تھا، جس پر کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں تخریبی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق عبدالجبار سرکی نے سنہ 2020 میں سجاد شاہ کے گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی اور بعد ازاں کالعدم تنظیم سے منسلک مبینہ عسکری سرگرمیوں میں شامل ہوگیا۔
پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ عبدالجبار نے اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ جون 2020 میں نیشنل ہائی وے پر منزل پمپ کے قریب رینجرز چیک پوسٹ پر دستی بم حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں دو راہگیر زخمی جبکہ رینجرز پوسٹ کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔
حکام نے مزید الزام عائد کیا کہ گرفتار شخص نے 14 اگست کی تقریبات سے قبل گلشنِ حدید میں قائم یومِ آزادی اسٹال کی ریکی بھی کی تھی، جو مبینہ دہشت گرد منصوبے کا حصہ تھی۔
سرکاری حکام کے مطابق گرفتار شخص کا نام سی ٹی ڈی کی ریڈ بک میں انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہے، برآمد شدہ اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد سمیت مزید قانونی کارروائی کے لیے سی ٹی ڈی پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔


















































