ناقابلِ شکست بلوچ مائیں
تحریر: سمی دین بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
چند دن پہلے جب کراچی پریس کلب کے سامنے میری والدہ کو پولیس نے پکڑ کر گرفتار کرنے کی کوشش کی، اور جب پوچھا گیا کہ ان کا جرم کیا ہے، تو پولیس نے جواب دیا: “ان کا جرم یہ ہے کہ یہ سمی دین کی والدہ ہیں۔ ان کا جرم یہ ہے کہ یہ اپنی بیٹی کو خاموش کرانا نہیں جانتیں۔”
بلوچ مائیں ہیں، مجرم تو ہونگے، ان ماؤں کو تو سزا ملنی چاہیے کیونکہ انہوں نے ایسی بیٹیاں پیدا کی ہیں، جو بولتی ہیں، سوال کرتی ہیں، آواز اٹھاتی ہیں، جو خاموش رہنا نہیں جانتیں۔
ان کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کو خوف کے حوالے نہیں کیا، انہوں نے اپنی بیٹیوں کو سماج کے طعنوں، ریاست کے تشدد، جیل، گولی اور جبری گمشدگی کے خوف سے دبانا نہیں سکھایا، بلکہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کے ساتھ کھڑے ہونا سیکھا۔ ان ماؤں کو واقعی سزا ملنی چاہیے، اور سخت سزا ملنی چاہیے، کیونکہ نہ یہ خود ڈرتی ہیں، نہ اپنی بیٹیوں کو ڈراتی ہیں۔
ریاست ان ماؤں کو جیل کی دھمکی دیتی ہے، ہراساں کرتی ہے، دن رات جبر مسلط کرتی ہے، مگر پھر بھی یہ کمزور نہیں ہوتیں، بلکہ ہر ظلم کے بعد اپنی بیٹیوں کی ہمت بن کر مزید مضبوط کھڑی ہوجاتی ہیں۔
ماہل جیسی مائیں، فوزیہ جیسی بیٹیوں کے ساتھ قید کاٹتی ہیں۔
ماہرنگ کی والدہ جب جیل میں اس سے ملاقات کرنے جاتی ہیں تو اسے کہتی ہیں: “اگر یہ راستہ چنا ہے تو اب اس پر ڈٹ جانا، کمزور نہ ہونا۔”
بیبو کی والدہ، جو خود وہیل چیئر پر ہیں، جب بیبو سے ملنے جاتی ہیں تو اپنے درد بھول کر صرف اپنی بیٹی کو حوصلہ دیتی ہیں۔
اور اب یہ مائیں صرف بیٹوں کے لیے سڑکوں پر احتجاج نہیں کرتیں، بلکہ اپنی گمشدہ بیٹیوں کی تصویریں بھی ہاتھوں میں اٹھائے کھڑی ہوتی ہیں، کبھی سڑکوں پر، جیلوں کے باہر، عدالتوں کے سامنے، ہر ظلم کے مقابل کھڑی رہتی ہیں۔
ریاست ان ماؤں کو گرفتاری اور جیل سے ڈراتی ہے، یہ وہ مائیں ہیں جنہیں اس ریاست نے اتنے دکھ، اتنی اذیتیں اور تکلیفیں دیے ہیں کہ اب یہ خوف سے آگے نکل چکی ہیں۔
“ان کا جرم یہ ہے کہ یہ سمی دین کی والدہ ہیں” یہ جملہ صرف میری ماں کے لیے نہیں بولا گیا تھا، یہ ہر اُس بلوچ ماں کے خلاف فردِ جرم تھا، جس کی بیٹی جبر کے سائے تلے بھی خاموش رہنے سے انکار کرتی ہے۔
مگر اس کے جواب میں میری ماں نے خوف نہیں دکھایا۔ وہ مسکرائیں، اور کہا: “میں اپنی کے لیے دس بار جیل جانے کو تیار ہوں، اور تم مجھے گرفتار کرنے سے ڈراتے ہو؟”
اور بلوچ مائیں اب کتنی پختہ، کتنی مضبوط ہوچکی ہیں کہ اب وہ اپنی بیٹیوں کی جگہ جیل جانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتیں۔
ہمیں ناز ہے کہ ہماری مائیں اب انقلابی مائیں بن چکی ہیں۔
آج ماؤں کا عالمی دن، دنیا کی تمام مظلوم ماؤں سمیت بلوچ ماں کے نام، جو عورت ہو کر، اذیت و جبر کے سائے میں رہنے کے باوجود بھی ناقابلِ شکست رہیں۔
لمہ نازجان، زرینہ، ماہل، شیریں مزاری، ان تمام بلوچ ماؤں کے نام، جو اب اپنی بیٹیوں کی کمزوری نہیں بلکہ طاقت بن چکی ہیں، جو اپنی بیٹیوں کو خاموشی نہیں، مزاحمت سکھاتی ہیں، جو اپنی بیٹیوں کے بولنے کی قیمت پر جیل جانے کے لیے بھی تیار ہیں۔
لمہ حوری، لمہ زرگل، لمہ بس خاتوں اور ان ماؤں کے نام جنہوں نے اپنے بیٹوں کی گمشدگی میں دن رات اذیت اور تکلیف سے گزار رہے ہیں، سالہا سال سڑکوں پر اپنے بچوں کی تصویریں اٹھا کر احتجاج کررہی ہیں، جن کے دروازوں پر کبھی لاپتہ بیٹے واپس نہیں آئے، صرف خبریں آئیں…
کبھی مسخ شدہ لاشوں کی، کبھی اجتماعی قبروں کی۔
مگر نہ کبھی ڈریں، نہ کبھی تھکیں۔۔
ان ماؤں کے نام،
جو اب صرف مائیں نہیں رہیں،
بلکہ مزاحمتی اور انقلابی مائیں بن چکی ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































