کراچی: ‘عورت مارچ کی اجازت’، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی عدم شرکت سے مشروط

13

پاکستانی حکام نے ‘عورت مارچ’ منعقد کرنے کے اجازت نامے کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کی عدم شرکت سے مشروط کردیا۔

ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کراچی کے دفتر سے جاری کیئے گئے ایک ‘اجازت نامے’ میں عورت مارچ منعقد کرنے پر اٹھائیس نکات پر مشتمل شراط و پابندیاں لگائی گئی ہے۔ اجازت نامے کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی اور جقسم جیسے ‘کالعدم’ تنظیموں کی شرکت یا حمایت سختی سے ممنوع ہوگی۔

صحافی کیّا بلوچ نے مذکورہ اجازت نامے کو سماجی رابطوں کی سائٹ پر شئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ وہ شرائط ہیں جن کے تحت @AuratMarchKHI کو احتجاج کی اجازت دی گئی۔ کئی نکات متنازع ہیں مگر پوائنٹ 7 خاص توجہ طلب ہے: BYC اور JQSM جیسے تنظیموں کی شرکت یا حمایت سختی سے ممنوع ہوگی۔ اگر احتجاج بھی ریاست کی مرضی کے دائرے میں کرنا تو پھر یہ مارچ مزاحمت ہے یا صرف ایک نمائشی سرگرمی؟

صحافی احمد نورانی نے لکھا کہ کیا بلوچ پاکستان کا حصہ نہیں؟ کیا بلوچ خاتون عورت نہیں؟ ریاست خود بلوچ عوام کو ہر اُس حق سے محروم کر رہی ہے جو باقی سب صوبوں کی عوام کو ملا ہے اور پھر الزام اُن پر لگاتے ہیں۔ ریاست بلوچ یکجہتی کمیٹی کو کمزور کر کے بی ایل اے کو مضبوط کر رہی ہے۔ زبردست حکمت عملی ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنماء ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے لکھا کہ سوال یہ ہے کہ آخر کس قانون کے تحت بلوچ یکجہتی کمیٹی کو “پروسکرائب” کیا گیا ہے؟ کب اسے کالعدم قرار دیا گیا؟ کونسی عدالت نے اس پر پابندی لگائی؟ اگر ایسی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں تو پھر ایک عوامی احتجاج میں کسی سیاسی یا سماجی گروہ کی شرکت پر پابندی لگانے کا اختیار حکومت کو کس نے دیا؟

انہوں نے کہا کہ یہ پابندی دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ BYC نے بلوچ نسل کشی، جبری گمشدگیوں اور ریاستی تشدد کے خلاف ایک ایسی موثر مزاحمت کھڑی کی ہے جس سے ریاست خوفزدہ ہے۔ یہی خوف، یہی جبر، یہی پابندیاں ہماری جدوجہد کی طاقت کا ثبوت ہیں۔ کیونکہ اگر ہماری آواز بے اثر ہوتی تو ریاست کو عورت مارچ تک میں BYC کے نام سے خوف محسوس نہ ہوتا۔ 

‘عورت مارچ’ کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ خیال رہے گذشتہ دنوں عورت مارچ کے رہنماؤں و کارکنان کو کراچی پریس کلب کے قریب اس وقت تشدد اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا تھا جب وہ ایک پریس کانفرنس کرنا چارہے تھیں۔