وجود، مزاحمت اور شناخت: شاہ کرم کی داستان – شاہ میر بلوچ

104

وجود، مزاحمت اور شناخت: شاہ کرم کی داستان

تحریر: شاہ میر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

اڑے بیا یار، ما را کمو سکارین مرچا گوشی سک سیاست کننگ آ ءِ سینیٹر۔

وہ محض ایک آواز نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی للکار تھا جو خاموشی کے جمود کو توڑنے کی طاقت رکھتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ہر لمحہ جرأت کی ایک روشن چمک موجود رہتی، اور اس کے خیالات ہمیشہ نئی راہوں، نئی تعبیرات اور نئے طرزِ عمل کی تلاش میں سرگرداں رہتے تھے۔

زمانہ طالب علمی میں بھی وہ محض ایک طالب علم نہیں تھا، بلکہ اپنی شناخت (Identity) کی مسلسل جدوجہد میں مصروف ایک شعور تھا۔ وہ شناخت جو کسی معاشرتی سانچے میں ڈھل کر نہیں بنتی، بلکہ اپنی آزادی کے بوجھ تلے خود کو تخلیق کرتی ہے۔ جیسا کہ سارتر نے کہا تھا کہ انسان مکمل طور پر آزاد ہے، مگر یہی آزادی اس کے لیے ایک بوجھ بھی ہے، کیونکہ اس کے ساتھ مکمل ذمہ داری وابستہ ہوتی ہے۔

شاہ کرم اسی وجودی سچائی کا امین تھا۔ وہ اس آزادی کو محض اختیار نہیں سمجھتا تھا، بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری کے طور پر جیتا تھا۔ اس کے نزدیک شناخت کوئی جامد حقیقت نہیں تھی، بلکہ ایک مسلسل تخلیقی عمل تھی، ایک ایسا عمل جس میں انسان اپنے ہر فیصلے کے ذریعے خود کو نئے سرے سے تشکیل دیتا ہے۔

وہ اس نفسیاتی جبر سے بہت دور نکل چکا تھا جو انسان کو اپنی کمزوریوں کا قیدی بنا دیتا ہے۔ اس نے “خود فریبی” (Bad Faith) کے اس دائرے کو توڑ دیا تھا، جس میں انسان اپنی آزادی سے فرار اختیار کرتا ہے اور اپنے وجود کو محدود کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس، شاہ کرم نے اپنی آزادی کو قبول کیا، اور اس کے ساتھ جڑی ہوئی ذمہ داری کو بھی پورے شعور کے ساتھ نبھایا۔

وہ محض ایک فرد نہیں تھا، بلکہ ایک مسلسل “بننے” (becoming) کا عمل تھا، ایک ایسا عمل جو ہر لمحہ خود کو ازسرِنو تخلیق کرتا ہے، اور اپنی شناخت کو جمود سے نکال کر حرکت اور معنی عطا کرتا ہے۔

وہ چلتن کی آغوش کو محض ایک جغرافیائی سایہ نہیں سمجھتا تھا، بلکہ اسے وجود کی اس پہلی پناہ گاہ کے طور پر دیکھتا تھا جہاں انسان اپنی شناخت کی جڑوں کو محسوس کرتا ہے۔ اس کے نزدیک پلی گواڑخ کے پھول صرف فطرت کی آرائش نہ تھے، بلکہ وہ شہادت کے استعارے تھے، ایسی شہادت جو زمین، تاریخ اور مزاحمت کو ایک معنوی وحدت میں باندھ دیتی ہے۔ وہ ہر ذرے میں سوال پیدا کرنے والا ذہن تھا؛ ایک ایسا شعور جو خود کو اور اپنی زمین کو مسلسل دریافت کرنے کے عمل میں زندہ رہتا ہے۔

اس کے لیے محبت محض جذبہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی وابستگی تھی، شناخت اور زمین کے ساتھ ایسی وابستگی جو انسان کو اپنی ذات سے آگے لے جا کر اجتماعی وجود کا حصہ بنا دیتی ہے۔ وہ طاقت کو محض غلبے کے طور پر نہیں دیکھتا تھا، بلکہ ایک ایسی قوت سمجھتا تھا جو دشمن کے وجود کو چیلنج کرتی ہے؛ جو محض شکست دینے پر قانع نہیں ہوتی بلکہ اس کے جواز کو بھی سوالیہ نشان بناتی ہے۔ اس کی جدوجہد میں جنگ ایک خارجی عمل نہیں بلکہ ایک فکری اور وجودی مزاحمت تھی۔

وہ شاہ کرم، محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک مظہر تھا۔ ایک ایسا کردار جسے میکس ویبر کے تصورِ “کرشماتی قیادت” میں سمجھا جا سکتا ہے، جہاں رہنما اپنی غیرمعمولی بصیرت اور داخلی قوت کے ذریعے نہ صرف لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے بلکہ ان کے شعور کو بھی ایک نئی سمت عطا کرتا ہے۔

وہ محض اُن لوگوں میں شامل نہیں تھا جو کسی لمحاتی جوش میں کھڑے ہو جاتے ہیں، بلکہ وہ اُن نایاب شخصیات میں سے تھا جو اپنی جرأت کو شعور کی سطح تک لے جاتے ہیں۔ اُس کی ہمت ایک وقتی ردِّعمل نہیں، بلکہ ایک باطنی یقین تھی، ایسا یقین جس پر وہ خود بھی اعتماد کرتا تھا اور دوسروں کے لیے بھی ایک ستون بن جاتا تھا۔

وہ اپنی ذات میں ایک ایسا استعارہ تھا جہاں جرأت اور فکر ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ اُس کی موجودگی محض جسمانی نہیں بلکہ فکری مزاحمت کی علامت تھی، جیسے تاریخ کے کسی موڑ پر لینن اپنے کامریڈز کے لیے ایک نظریاتی محور بن جاتا ہے۔ اسی طرح وہ بھی اپنے اردگرد کے لوگوں کے لیے ایک سمت، ایک حوصلہ، اور ایک شعوری بیداری کا سرچشمہ تھا۔

وہ جانتا تھا کہ کھڑے ہونا صرف جسم کا عمل نہیں بلکہ شعور کی بغاوت ہے، اور وہ اس بغاوت کو نہ صرف جیتا تھا بلکہ دوسروں میں منتقل بھی کرتا تھا۔

قلم خشک ہو گیا، زبان سُن ہو گئی، اور آنکھیں نم ہو گئیں، کیونکہ ہم نے صرف ایک دوست نہیں کھویا، بلکہ وہ روشنی کھو دی جو شعور کی پہلی کرن بن کر ہمارے اندر اتری تھی۔ وہ ایک ساتھی تھا، مگر محض ساتھ چلنے والا نہیں؛ وہ وہ آواز تھا جو سچائی کو بے خوف ہو کر پکارتا تھا، جو دشمنوں کے نام لے کر حق کہنے کا حوصلہ رکھتا تھا۔

وہ ہنسی میں بھی فلسفہ رکھتا تھا، مزاح میں بھی ایک گہری سنجیدگی چھپی ہوتی تھی۔ اس کی موجودگی صرف لمحوں کو خوشگوار نہیں بناتی تھی بلکہ سوچ کو بیدار کرتی تھی۔ وہ ایسا ہمسفر تھا جو راستے کو بھی معنی دے جاتا ہے، اور سفر کو بھی مقصد۔

ہم سب اس راہ کے مسافر ہیں، کوئی پہلے اتر جاتا ہے، کوئی بعد میں۔ مگر سچ یہ ہے کہ ملاقاتیں ختم نہیں ہوتیں، وہ صرف وقت کے کسی اور موڑ پر منتقل ہو جاتی ہیں۔

بس ایک بات دل سے نکلتی ہے: شاقو جان، تیرے لیے

رخصتِ اوارن قربان


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔