بولان میڈیکل کمپلیکس کوئٹہ: خدیجہ بلوچ کی رہائی کے لیے دھرنا چھٹے روز میں داخل

22

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں بولان میڈیکل کمپلیکس (BMC) کے سامنے خدیجہ بلوچ کی رہائی کے لیے جاری دھرنا آج چھٹے روز میں داخل ہو گیا ہے۔

چھ دن سے جاری اس احتجاج کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ مذاکرات کے بہانے صرف ہراسانی اور دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

گزشتہ روز کوئٹہ کے مختلف مقامات، جن میں بی ایم سی اسپتال، بروری روڈ اور عیسیٰ نگری شامل ہیں، میں پمفلٹس تقسیم کیے گئے۔

احتجاجی کیمپ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد ریاستی جبر کو بے نقاب کرنا اور یہ ظاہر کرنا تھا کہ کس طرح بلوچ عوام، خصوصاً خواتین، کو جبری طور پر لاپتہ اور قید کیا جا رہا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ جیسے جیسے احتجاج کے دن بڑھتے جا رہے ہیں، انتظامیہ کی جانب سے خاموشی برقرار ہے اور خدیجہ بلوچ کی محفوظ رہائی کے لیے اب تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ خاموشی محض غفلت نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا فیصلہ ہے، اور یہی فیصلہ انتظامیہ کو ان کی مسلسل حراست اور ریاستی جبر میں شریک بناتا ہے۔

بی وائی سی کے مطابق، گزشتہ چھ دنوں سے ان کا خاندان ڈٹ کر کھڑا ہے اور اس ناانصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہا ہے، جبکہ اس واقعے نے خاندان کو شدید ذہنی اور جذباتی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔

مزید کہا گیا کہ جبری گمشدگیوں کا یہ سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے اور تمام معاملات کو شفاف طریقے سے حل کیا جانا چاہیے تاکہ خاندان کو انصاف مل سکے