انقلاب اور ہماری ذمہ داریاں
تحریر: رُژن بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
انقلاب کا لفظی معنی ہے “تبدیلی“۔ کسی نظام کا تبدیل ہونا، کسی نظام کی تبدیلی کے لیے جدوجہد کرنا انقلاب ہے۔ انقلاب عموماً معاشرے وہ کی وہ حالت کے لیے ہوتا ہے جس سے انسانی اقتدار میں اضافہ ہو سکے۔ انقلاب سیاسی نظامی ڈھانچے کی تبدیلی سے وجود میں آتی ہے، جب آبادی حکومت کے خلاف لڑتی ہے اس سے بغاوت کرتی ہے وہ نظام جو عام عوام کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے جب عام مخلوق کی اقتدار ختم ہو جاتی ہے تو اس تبدیلی کو یا اس نظام کے خلاف جنگ کو، مزاحمت کو انقلاب کہتے ہیں۔
تاریخ میں ۵ اہم انقلاب جو رونما ہوئے ہیں: فرانسیسی انقلاب، انگریزی انقلاب، امریکی انقلاب، روسی انقلاب اور چینی انقلاب۔
انقلاب عام طور پر سمجھے جانے والے جبر کی وجہ سے یا سیاسی نااہلی کی وجہ سے ہوتا ہے یا کسی نظام کو ختم کر کے ایک نیا اور کامیاب نظام جو عام مخلوق کی خواہش ہو۔ انقلاب معاشرے کی زوال کو روکنے کے لیے ہوتا ہے اور انقلاب لانے کے لیے بڑی تعداد کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ انقلاب ایک یا دو افراد نہیں لا سکتے۔
معاشرے میں انقلابی کارنامے
معاشرے میں ایسے بہت سارے انقلابی کارنامے جنم لیے ہیں جس میں انقلاب لا کر پوری نظام کو تبدیل کیا گیا تھا۔ ریاست کے خلاف جنگ لڑ کر ریاست کو شکست کا سامنا ہوا ہے۔
اگر ہم فرانس کے انقلاب کے بارے میں بات کریں تو فرانس کے انقلابی جنگ بہت اچھے سے لڑی گئی جیسا کہ فرانس میں اقتصادی بدحالی تھی جس کے خلاف ۱۷۸۹-۱۷۹۴ تک جدوجہد کی۔ فرانس کی صورتحال بہت خراب ہو گئی تھی کافی حد تک پیلی واسکٹ والوں کی تحریک نے ملک کو انقلابی بحران کا شکار کر دیا تھا۔ فرانس کے انقلابی تحریک میں بادشاہت کے صدیوں پرانے ادارے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔ طلسما کا ظلم توڑ ڈالا، جاگیرداری کا خاتمہ کیا۔
“آزادی، مساوات، اخوت“ کے نعرے کی گونج نے یورپ کے ہر ایک تخت و تاج میں لرزہ طاری کر دیا۔
اگر ہم روس کے انقلاب کی طرف نظر دوڑائیں جو کہ ۱۹۱۷-۱۹۲۳ تک یہ تحریک چلی۔ روس عالمی تاریخ کا پہلا کامیاب سوشلسٹ انقلاب تھا جو کہ کلاسیکی مارکسیت سطور پر استوار ہوا اس سے پہلے روس ایک پسماندہ اور جاگیردارانہ معاشرہ تھا اور زوال کا شکار تھا لیکن انقلاب کی وجہ سے روس کامیاب ریاست وجود میں آئی۔
روس میں لینن اور ٹراٹسکی نے یونائیٹڈ سوشلسٹ سویت یونین کو بنیاد میں لایا اور پہلا جو عالمی جنگ تھا اس کی تباہ کاریوں کا اثر سب سے زیادہ روس پر پڑی تھی جس کی وجہ سے روس کا پورا معاشرہ بدحالی کا شکار ہوا تھا لیکن اس بدحالی کو روکنے کے لیے جدوجہد کی گئی اور انقلاب لایا گیا۔
اس کے علاوہ اگر ہم دوسرے تاریخی انقلاب کے بارے میں دیکھیں جیسا کہ چین ہے۔ چینی انقلاب ایک کمیونسٹ انقلاب ہے جو کہ ۱۹۴۵ میں شروع ہوا تھا اور ۱۹۵۰ میں ختم ہو گیا اور اس انقلاب کا آغاز ۱۹۴۶ میں چین جاپان دوسری جنگ کے ختم ہونے کے بعد ہوا اور چین نے پہلے جنگ عظیم کے وقت فوج کے ساتھ اتحاد کیا اور جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ ماؤ جو کہ ایک بڑا کردار ہے چینی انقلاب کی تاریخ میں اس نے معیشت کے لیے اپنے بہت سے فیصلے بتائے جس میں اس نے کھیتی باڑی کو فروغ دیا۔ انقلاب کے ذریعے ہی چینی معاشرہ درست کیا گیا اور کامیاب بنایا گیا اور ان سب کے علاوہ اگر ہم فلسطین کی بات کریں جس میں لیلی خالد نامی ایک عورت نے بہت اہم کردار فلسطین کی انقلابی تاریخ میں ادا کیا۔ اسی دوران اس نے کئی دفعہ پلاسٹک سرجری کروائی ہے اس نے جہاز ہائی جیک کئے تھے اور لیلی خالد کو اغوا بھی کیا گیا تھا فلسطین کا انقلابی تاریخ لیلی خالد نے ہی سرانجام دے کر کامیاب بنایا پہلی دفعہ اس نے جہاز ہائی جیک کر کے فلسطین کے سارے مسلمانوں کو رہا کروایا۔ فلسطین کی انقلابی تحریک نے پورے دنیا میں مثال قائم کروائی۔
بہت سے ایسے تاریخی واقعات چلے جن کی وجہ سے معاشرے تبدیل ہو کر کامیاب معاشرے بنے ہیں۔ انقلاب معاشرے کی تبدیلی کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے اس معاشرے کی تبدیلی کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے اس معاشرے کی خوشحالی اور بہتری کے لیے۔
بلوچ قوم اور انقلاب
بلوچ قوم کا انقلابی تحریر کا سفر ۱۹۵۰ کے بعد شروع ہوا ہے اور ابھی تک یہ سفر جاری ہے اور اس سفر میں بہت سی عظیم شخصیات گئی ہیں بہت سی ماؤں کے بیٹے شہید ہوئے ہیں بہت سی بیویاں بیوہ ہوئی ہیں اور بہت سے بچے یتیم ہوئے ہیں اس کے علاوہ بہت سے افراد لاپتہ ہیں بہت ہی بڑی تعداد میں بلوچ لاپتہ ہیں جیسا کہ یہ لاپتہ افراد کا مسئلہ بہت سالوں سے چل رہا ہے جو کہ بلوچستان کا ہر گھر اس مسئلے کا شکار ہے لیکن پہلے مردوں کو لاپتہ کیا جاتا تھا اس کے بعد اب عورتوں کو بھی لاپتہ کیا جا رہا ہے بہت سی عورتیں ابھی تک ریاست کے قید خانوں میں بند ہیں اور ان کی بازیابی کے خلاف جدوجہد جاری ہے ہر گھر سے اب اس ریاست کے خلاف جدوجہد کے لیے لوگ نکل رہے ہیں اور اس انقلاب کا سفر ابھی تک جاری ہے۔
انقلاب لانے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے تعلیم حاصل کرنا شعور ابھرا ہونا چیزوں کے بارے میں یا حالات کے بارے شعور رکھنا۔ اسی لیے ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہی ہوگی کہ بلوچ قوم کو کتاب کی طرف کھینچنا کتابی کلچر کو فروغ چڑھانا کتاب کو ترجیح دینا ہوگا۔
بلوچ قوم اپنا سب کچھ قربان کرے تو ہمارے آنے والے نسلوں کے لیے بہت آسان ہوگا مستقبل میں تبدیلی لانے کے لیے انقلاب لانے کے لیے کیونکہ بغیر قربانی کے انقلاب نہیں لایا جا سکتا ہر انقلابی تحریر قربانی دے کر کامیاب ہوئی ہے تو اس لیے بلوچ قوم کو اب اپنی ذات کی اپنی خواہشات کی اپنی ہر چیز کی قربانی دینی ہوگی اس قوم کی روشن مستقبل کے لیے اپنے آنے والے نسلوں کو بچانے کے لیے
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































