بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے عالمی یومِ کتاب کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ کتاب کسی بھی قوم کی شعوری اور فکری ترقی کی ضامن ہوتی ہے، اور دنیا میں ترقی کی منازل طے کرنے والی اقوام نے ہمیشہ علم اور مطالعہ کو بنیاد بنایا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ علم اور شعور کا سب سے مؤثر ذریعہ کتاب ہے، جس کی اہمیت وقت کے ساتھ مزید بڑھتی جا رہی ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جن اقوام نے کتاب سے اپنا رشتہ مضبوط رکھا، وہی دنیا میں باشعور اور ترقی یافتہ بنیں۔ غالب قوتوں نے ہمیشہ اپنے علم اور بیانیے کو کتابوں کے ذریعے فروغ دیا، جبکہ استعماری ادوار میں مقامی علمی مراکز اور کتب خانوں کو نقصان پہنچا کر مقامی آبادی کو فکری طور پر کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔
ترجمان کے مطابق آج ایک جانب دنیا علم و تحقیق کی بدولت نئی ایجادات کر رہی ہے، تو دوسری جانب کتاب بینی کا رجحان کمزور ہوتا جا رہا ہے، جو تشویشناک امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہالت اور تاریکی کے خلاف جدوجہد کا آغاز کتاب سے ہوتا ہے اور اہلِ قلم کسی بھی معاشرے کی فکری رہنمائی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
بیان میں بلوچستان کے تناظر میں کہا گیا کہ صوبے میں مطالعہ کا رجحان کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جس کے باعث نوجوان اپنی تاریخ، ثقافت اور شناخت سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ بڑی تعداد میں نوجوان ایسے بھی موجود ہیں جو کتاب سے گہرا شغف رکھتے ہیں، کتابیں خریدتے اور مطالعہ کرتے ہیں، اور علمی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے عالمی یومِ کتاب کو بلوچستان کے انہی باشعور اور علم دوست نوجوانوں کے نام منسوب کرتے ہوئے کہا کہ یہی نوجوان مستقبل میں فکری و سماجی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
















































