خاموش پہاڑوں کی ازلی گواہی – نودشان بلوچ

47

خاموش پہاڑوں کی ازلی گواہی

تحریر: نودشان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

پہاڑ محض ارضیاتی ساخت نہیں، بلکہ ازل سے ابد تک پھیلی ہوئی ایک ایسی خاموش داستان ہیں جن کے سینے میں وقت کی بے شمار پرتیں دفن ہیں۔ ان کی سربلندی میں ایک عجیب وقار اور ان کی خاموشی میں ایک گہری معنویت پوشیدہ ہے، جو ہر صاحبِ شعور کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ یہ وہ خاموش نگران ہیں جو انسانی تاریخ کے ان گنت ادوار کو اپنی نگاہ میں سموئے ہوئے ہیں، مگر پھر بھی لب بستہ رہتے ہیں۔

ان کی آغوش میں وہ داستانیں پنہاں ہیں جو الفاظ کی محتاج نہیں ہوتیں۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں خواب حقیقت سے ٹکراتے ہیں، اور جہاں ارادے آزمائشوں کی بھٹی میں تپ کر خالص ہوتے ہیں۔ ان سنگلاخ راستوں پر چلنے والے مسافروں نے اپنی ہستی کو کسی عظیم مقصد کے تابع کر دیا تھا، اور ان کے قدموں کی بازگشت آج بھی ان وادیوں میں ایک مدھم سی صدا بن کر گونجتی محسوس ہوتی ہے۔

پہاڑوں کی خاموشی دراصل ایک عمیق مکالمہ ہے، جو صرف وہی سن سکتا ہے جس کے اندر سننے کی صلاحیت زندہ ہو۔ یہ خاموشی انسان کو اس کی اپنی ذات سے روشناس کراتی ہے اور اسے اس کی کمزوریوں اور طاقت دونوں کا ادراک بخشتی ہے۔ ان بلند چوٹیوں کے سامنے کھڑے ہو کر انسان اپنی حیثیت کی حقیقت کو سمجھتا ہے اور کائنات کی وسعت میں اپنے وجود کی معنویت تلاش کرنے لگتا ہے۔

یہ بلند و بالا چوٹیاں ہمیں استقامت اور استقلال کا درس دیتی ہیں۔ ان کا سر جھکنا نہیں جانتا، چاہے کتنے ہی طوفان ان سے ٹکرا جائیں۔ یہی استعارہ ان لوگوں کی زندگیوں میں بھی جھلکتا ہے جو کسی نظریے، کسی خواب یا کسی جدوجہد کے لیے اپنی ہستی کو وقف کر دیتے ہیں۔ ان کی زندگیاں وقتی طور پر مٹ ضرور جاتی ہیں، مگر ان کا اثر ہمیشہ باقی رہتا ہے۔

وقت کی بے رحم گردش ہر شے کو مٹانے کی کوشش کرتی ہے، مگر کچھ نشان ایسے ہوتے ہیں جو مٹائے نہیں جا سکتے۔ پہاڑ انہی نشانات کے محافظ ہیں۔ وہ ہر اس قدم کی گواہی دیتے ہیں جو کسی مقصد کے تحت اٹھایا گیا ہو، اور ہر اس سانس کو محفوظ رکھتے ہیں جو کسی یقین کے ساتھ لی گئی ہو۔ ان کے لیے صدیوں کا گزرنا محض ایک لمحہ ہوتا ہے، مگر وہ ہر لمحے کو اپنی یادداشت میں ثبت کر لیتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پہاڑوں سے ایک غیر مرئی وابستگی محسوس ہوتی ہے، جیسے وہ ہمیں پکار رہے ہوں کہ ہم اپنی داستان کو محض وقتی نہ رہنے دیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل بقا جسمانی وجود میں نہیں بلکہ یادداشت میں ہے، اور وہی یادداشت تاریخ کا حصہ بن کر آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتی ہے۔ جو لوگ اپنے وجود کو کسی اعلیٰ مقصد کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں، وہ فنا ہو کر بھی باقی رہتے ہیں۔

پس لازم ہے کہ ہم اپنی زندگی کو ایک ایسی معنویت عطا کریں جو وقت کی گرد میں گم نہ ہو۔ پہاڑوں سے یہی التجا ہے کہ وہ ہماری جدوجہد، ہمارے خوابوں اور ہماری قربانیوں کو اپنی خاموش زبان میں محفوظ رکھیں، تاکہ جب کبھی کوئی مسافر ان راہوں سے گزرے، تو اسے یہ احساس ہو کہ یہاں کبھی ایسے لوگ بھی تھے جو جینے کا ہنر جانتے تھے—اور مرنے کے بعد بھی اپنی کہانی کو زندہ رکھنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔