بلوچستان غیر بلوچ دانشوروں کے نقطۂ نظر سے
تحریر: صبغت عبدالحق بلوچ (شاہ جی)
دی بلوچستان پوسٹ
گزشتہ دو سے ڈھائی دہائیوں میں بلوچستان میں تیزی سے تبدیلیاں آئیں۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے گوادر کو فوجی چھاؤنی میں بدلتے دیکھا۔ ریکوڈک اور سیندک کا سونا، سوئی گیس، کوئلہ، کرومائٹ، سنگِ مرمر اور کئی دیگر معدنیات ، جنہیں مسئلے سے دلچسپی ہوتی وہ ان پر گفتگو کرتے۔ ہم جیسے لوگ صرف نام سنتے اور پنجاب میں گیس پائپ لائن دیکھ کر خوش ہوتے کہ بلوچستان کا کہیں نہ کہیں نام تو آرہا ہے۔
لیکن بعد میں پتہ چلا کہ انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ بلوچستان کہاں ہے۔ ہمیں بلوچستان کا تعارف کروانے کے لیے گھنٹوں لگتے اور چوہدری گل فرمان کہتا: “اچھا تو آپ بلوچی ہیں؟” اور ہم دل میں کہتے: زلیخہ جنین ءِ مردین ءِ؟
پھر سمجھ آگیا کہ جن کو ہم اپنا تعارف کروا رہے ہیں وہ رٹا پارٹی ہیں۔ انہیں دلچسپی ہی نہیں، تو ہم کیوں ایسے لوگوں کو زبان سے سمجھانے کی کوشش کریں جو سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے؟ ہم جو ہیں سو ہیں، اور اپنے تعارف کو دنیا میں ثابت کرنے کا واحد طریقہ سرزمین ہے۔
وہاں سے ہم دنیا کو بتا سکتے ہیں کہ ہم کون ہیں۔ اگر ہم اپنی سرزمین میں طاقتور ہوں گے تو لوگ خود ہمیں ڈھونڈتے ہوئے آئیں گے، ہمارے قصے سنیں گے اور دلچسپی بھی لیں گے۔ کیونکہ کہیں اور نہیں تو کم از کم ہم اپنی سرزمین کے مائی باپ ہیں۔
دہائیوں کی محنت اور قربانیوں کے بعد میرے خیال میں قوم اس پوزیشن پر آگئی ہے کہ دنیا میں اپنا تعارف کرا سکے، جو کہ پوری دنیا میں موجود ہمارے لوگ کر رہے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں کسی نہ کسی شکل میں اپنی موجودگی دکھا رہے ہیں، عالمی اداروں کے ذمہ داران سے مل رہے ہیں، عالمی مجالس میں ہماری قوم نظر آرہی ہے — اور اس کی وجہ سرزمین ہے جس پر دہائیوں سے لاشیں گر رہی ہیں۔ بلوچ قوم کو اپنی CV مضبوط کرنے میں سات دہائیوں سے زیادہ کا وقت لگا۔
دنیا میں لوگ امیر سرزمین کے وارث ہونے پر خوش ہوتے ہیں، مگر دل میں سوچتے ہیں کہ جیسے تمام پاکستانی میڈیا والے اور غیر بلوچستانی ہمیں غریب صوبے والے کہتے ہیں۔ کاش ہم واقعی اتنے غریب ہوتے کہ پنجاب سے مزدور بلوچستان میں مزدوری کرنے نہ آتے، اور ان مزدوروں کی حفاظت کے لیے ان کے دیگر وردی والے مزدور نہ آتے۔ ہر کلومیٹر پر چیک پوسٹ نہ ہوتی، ہمارے شہر کے شہر فوجی چھاؤنی نہ بنتے، وردی اور بغیر وردی کے مزدور ، جن کی شکلیں ہر موڑ پر نظر آتی ہیں شاید نہ دکھتے۔
ہماری ہر نسل سخت سے سخت حالات دیکھ رہی ہے بلکہ برداشت کر رہی ہے۔ موجودہ نسل شاید جو کچھ دیکھ رہی ہے وہ پہلے والوں سے زیادہ ہے۔ اس نسل نے نواب بگٹی، نواب خیر بخش مری اور سردار عطا اللہ مینگل کو دیکھا، جن کے بارے میں ریاست کہتی ہے کہ بلوچ قوم کے مسئلے کی جڑ یہی ہیں۔ مگر اس نسل نے ان تینوں کو اس دنیا سے جاتے بھی دیکھا اور ان کے جانے کے بعد کے حالات بھی دیکھے۔
یہاں اس وقت ہر فرد ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ جو بار بار لاشیں گرا کر پوچھتے ہیں کہ “بلوچستان دا مسئلہ کی اے؟” انہیں بتانا ہے کہ اسے سمجھنا بہت آسان ہے۔ قصہ بیان کرنے کے بعد مجھے یقین ہے کہ کوئی لاہوری کہے گا: زلیخہ جنین ءِ مردین ءِ؟
بلوچستان میں دو الگ محاذ ہیں۔ ایک جنگی محاذ ہے جو خالصتاً ایک نظریے اور اپنی سرزمین کے لیے لڑی جا رہی ہے، جسے بیان کرنے کے لیے کتابیں لکھنی ہوں گی۔ یہ الگ بات ہے کہ ریاست کیا کہہ رہی ہے، مگر جب تک آپ حقیقت کو تسلیم کرکے مسئلے پر سنجیدہ نہیں ہوں گے، آپ مسئلہ حل نہیں کر سکتے۔
دوسرا محاذ سیاسی ہے، جو جنگی محاذ سے بالکل الگ آئینی اور جمہوری جدوجہد ہے، جو قانون کے دائرہ کار میں رہ کر کی جا رہی ہے اور بار بار آئین و جمہوریت کی بات کر رہی ہے۔ بدقسمتی سے ریاست نے پوری قوم کو دشمن قرار دے دیا ہے، اور سیاسی جدوجہد کرنے والے بھی شہید اور لاپتہ ہو رہے ہیں۔
اسی سیاسی جدوجہد میں قوم کی ایک بڑی تعداد کا نظریے سے تعارف ریاستی جبر نے کرایا۔ لوگوں نے اپنی آنکھوں سے جبر دیکھا، حالات نے انہیں سبق دیا اور بہت کچھ سکھایا۔
آج سے 26 سال قبل شاید میں بھی ان حالات سے اتنا واقف نہیں تھا، مگر سنہ 2000 کے بعد ان حالات کو دیکھنے کے بعد خود ایک ٹیسٹ کیس بن گیا۔ ہوا یوں کہ مشرف کے آنے کے بعد قوم کو براہ راست دھمکیاں ملیں کہ ہم وہاں سے ہٹ کریں گے کہ پتہ بھی نہیں چلے گا۔
ہٹ کرنے والوں کو شاید یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ ایسی قوم ہے کہ مرنے کے بعد بھی گلے پڑ جاتی ہے، اور دو سو سال بعد بھی بدلہ معاف نہیں کرتی۔
2006 میں نواب بگٹی صاحب کی شہادت کے بعد جلسوں اور ریلیوں پر پاکستانی فوج نے براہ راست فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا۔ کچھ عرصے میں مکران میں تین الگ واقعات میں الطاف بلوچ، جاوید اختر اور مختار شہید ہوئے۔
الطاف بلوچ جب شہید ہوئے تو ہم چار پانچ ساتھیوں نے ان کی لاش اٹھائی۔ شہید کا خون میرے کپڑوں پر لگ گیا تھا، اور جب میں گھر پہنچا تو سب نے یہی سمجھا کہ شاید مجھے بھی گولی لگی ہے۔
یہ واقعہ بہت عجیب تھا، جب ریاست کی فوج نے براہ راست نہتے لوگوں پر گولیاں چلائیں۔ پھر استاد غلام محمد بلوچ، لالہ منیر بلوچ اور شیر محمد بلوچ کو شہید کر دیا گیا۔ اس نے بھی مجھ سمیت کئی لوگوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا۔
اس کے کچھ عرصے بعد میرے ایک بہت ہی پیارے دوست مراد جان گچکی کو اس کے بھائی اور ساتھیوں کے ساتھ ریاستی فوج نے ان کے گھر پر حملہ کرکے شہید کیا۔ یہ ایسا ریاستی جبر تھا جو درجنوں لوگوں نے دیکھا کہ پاکستانی فوج ایک گھر پر بمباری کر رہی ہے۔
اس دوران بلوچستان میں کشت و خون کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جو اب تک جاری ہے۔ درمیان میں کمی آئی، مگر اب ریاستی جبر انتہا پر ہے۔
ایسے میں ایک سیاسی کارکن کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی سرزمین اور اپنے لوگوں کے لیے کچھ کرے۔ انہی حالات نے مجھ سمیت کئی افراد کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا۔
سرزمین اور اپنی قوم سے محبت ہر ایک کو ہونی چاہیے۔ یہ محبت قوم کے دیگر لوگوں کی طرح مجھ میں بھی ہے۔ مگر اس کو میرے والد یوں بیان کرتے تھے کہ: یہ زمین تمہاری ہے اور اس میں بسنے والے سب لوگ تمہارے ہیں۔اس کا عملی مظاہرہ یہ تھا کہ وہ گھنٹوں کا سفر دنوں میں کرتے۔ میں زیادہ تر شال، کراچی یا تربت کے سفر کے دوران ان کے ساتھ ہوتا۔ وہ کبھی مستونگ میں کسی دوست کے پاس ٹھہرتے، کبھی سوراب، کبھی خضدار اور کبھی حب میں۔ گوادر یا پنجگور و تربت گھر تھے، مگر انہوں نے اپنے عمل سے پورے بلوچستان کو گھر بنایا۔
مجھے بھی ان کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ہر جگہ اپنائیت نظر آئی، اور شاید آج بھی بلوچستان میں جہاں جاتا ہوں تو ہر گھر اپنا نظر آتا ہے، ہر ایک کا درد اپنا محسوس ہوتا ہے۔
ایک سال سوراب کے ایک علاقے گیژدغان تعزیت کے لیے گئے، جہاں میرے ایک ماموں کے دوست کا انتقال ہوا تھا جو قطر میں ان کے ساتھ تھے۔ سفر دیر سے شروع کرنے کی وجہ سے ہم رات کو دیر سے گیژدغان پہنچے۔ وہاں ایک شخص نظر آیا جس سے ہم نے دریافت کیا کہ فلاں بندے کے گھر جانا ہے۔
اس نے فوراً کہا: “جی آپ پہنچ گئے ہیں، یہ اسی کا گھر ہے۔ وہ سوئے ہوئے ہیں، صبح آپ سے ملیں گے۔”
یہ کہتے ہی اس نے اپنے گھر کا گیٹ کھولا اور ہمیں کہا کہ گاڑی اندر لے آئیں۔ ہم بھی حیران تھے کہ ہماری قسمت دیکھو، رات کے اندھیرے میں کچھ نظر نہ آنے کے باوجود ہم سیدھے اپنی منزل پر پہنچ گئے۔
رات گئے اس نے ہمیں کھانا کھلایا اور کہا کہ ابھی آرام کریں، صبح تسلی سے مجلس کریں گے۔ صبح ناشتہ دیا، اس کے بعد ہمیں ہمارے اصل میزبان کے پاس پہنچا کر کہا:
“اگر میں رات کو آپ لوگوں کو بتاتا کہ آپ کے بندے کا گھر آگے ہے تو ہمیں رات بارہ بجے کئی اور لوگوں کو نیند سے جگانا پڑتا۔ اور آپ شاید میرے پاس رہنے سے ڈر جاتے، کیونکہ شہر سے آئے ہو۔ مگر ہمارے ہاں بلوچی ماحول ہے، لہٰذا یہاں جب بھی آئیں تو سمجھیں کہ اپنے گھر میں ہیں۔”
دل میں خیال آیا کہ واقعی اس سرزمین کا ہر گھر ہمارا ہے، سب لوگ ہمارے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ کوئی یہ ماننے کو تیار ہو کہ یہ سرزمین میری ہے اور یہاں کا ہر فرد میرا خون ہے۔
میرے والد مجھے اکثر کہتے تھے کہ صرف زبانیں بولنے سے ہم بلوچ نہیں بن سکتے۔ بلوچ ایک ایسے زندہ کردار کا نام ہے جس میں قوم دوستی ہو، غیرت ہو، حمیّت ہو، بہادری ہو، مہمان نوازی ہو، روایات کا پابند ہو، سچا ہو، اور بہترین اخلاق اس کے اندر ہوں۔ اگر یہ سب اس میں نہ ہوں تو چاہے وہ کسی بھی بولی بولنے والا ہو، جس قبیلے، نسل یا علاقے سے بھی تعلق رکھتا ہو، وہ نامکمل ہے۔
2019-20 کے بعد ہم نے مختلف سیاسی پروگرام شروع کیے۔ ان میں بڑا مسئلہ بارڈر کا تھا، جو ہمارے لوگوں کی روزی روٹی کا ذریعہ تھا، مگر اسے بند کر دیا گیا تھا۔ اس مسئلے پر کئی دھرنے دیے۔ مختلف اوقات میں ہمارے دھرنے اور احتجاج جاری تھے کہ اسی دوران ہوشاب سے ہماری ایک بہن نور جان بلوچ کو ریاستی فوج اور خفیہ اداروں نے اغوا کر لیا۔ ہم نے ہوشاب میں دھرنا دیا۔یہ دھرنا جاری تھا کہ ایک اور بہن حبیبہ پیرجان کو کواچی سے اغوا کیا گیا۔ اس کے بعد کے سیاسی پروگرام جاری رہے۔ پھر شہید بالاچ کا واقعہ ہوا۔ اس واقعے سے کچھ دن پہلے ریاستی اداروں نے تین نوجوانوں کو اغوا کیا، پھر انہیں مارنے کے بعد گاڑی میں ڈال کر دھماکے سے اڑا دیا تاکہ فوج کا نام نہ آئے۔
شہید بالاچ کے دھرنے کے بعد لانگ مارچ شروع ہوا جو اسلام آباد تک گیا۔ بلوچستان میں جگہ جگہ استقبال ہوا، اور تونسہ شریف کے لوگوں کا اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانا الگ تاریخ ہے۔ اسلام آباد دھرنے میں ڈی جی خان اور ڈی آئی خان کے کئی ساتھیوں سے تفصیلی مجالس زندگی بھر یاد رہیں گی۔
(لانگ مارچ ایسا موضوع ہے جس پر الگ سے بہت زیادہ لکھنے کی ضرورت ہے۔)
جو افلاطون کہتے تھے کہ بلوچ آئیں، اپنا مسئلہ بیان کریں، ریاست ماں ہے ماں ضرور سنے گی۔ ہمیں تو اس ماں کے بارے میں معلوم ہے کہ ہم دونوں (جن و اسپنتان) ہیں، جو رشتہ داری بالکل بھی نہیں کر سکتے۔ ہم اگر ماں کے پاس اپنا مسئلہ لے کر جائینگے تو ماں ہماری خاطر داری ڈنڈوں سے ہی کرے گی۔
مگر ان دانشوروں کا منہ بند کرنا تھا جو کہتے تھے کہ بلوچ نہیں آتے۔ ہم نہتے سیاسی لوگوں کے ساتھ اس ماں کا رویہ دنیا نے دیکھا۔ ایسے میں بھلا جنگی میدان کا بندہ کیسے ان سے بات چیت کر سکتا ہے؟
عام سیاسی ورکرز اور لواحقین، جن میں آدھے لوگ بوڑھے مرد و خواتین تھے، انہیں اسلام آباد میں بہت بے عزت کیا گیا۔ سڑکوں پر گھسیٹا گیا، مار مار کر تھانوں میں بند کیا گیا۔ اسلام آباد سے واپس مایوس آئے۔
مگر جو لوگ کہتے تھے کہ بلوچ آئیں، بات کریں، ماں سنے گی ، اگر ان میں غیرت ہے تو کم از کم دوبارہ ایسی بات نہیں کریں گے۔ اسلام آباد واپسی پر شال میں جو استقبال ہوا، اس نے ریاست پاکستان کو جواب دے دیا کہ آپ کا سلوک ہم زندگی بھر نہیں بھولیں گے۔
آپ نے اسلام آباد میں جو کیا، اس سے بلوچستان میں رہنے والوں کو شدید تکلیف ہوئی۔
اس کے بعد گوادر راجی مچی اور دالبندین جلسہ بھی دو ایسے موضوعات ہیں کہ اگر ان کی تفصیل میں جاؤں تو یہ مضمون کتاب بن جائے گا۔ اس دوران کئی دھرنے، ریلیاں اور احتجاج ہوئے، جن میں گولیاں چلیں اور لوگ شہید ہوئے۔
پھر ریاست نے اعلان کر دیا کہ اب بلوچ قوم سے کھلی جنگ ہوگی۔ ان کا بوڑھا، جوان، بچہ ، چاہے مرد ہو یا عورت سب کا قتل عام ہوگا۔ اس قوم کا ہر فرد مجرم ہے۔ اور ریاست نے گیم شروع کر دی۔
سیاسی ورکرز آسان ہدف تھے، لہٰذا ان کی گرفتاریاں شروع ہوئیں۔ کامریڈ بیبرگ بلوچ گرفتار ہوئے۔ اس پر سریاب روڈ پر احتجاج ہوا۔ ریاستی اداروں نے فائرنگ کی، کارکنان شہید ہوئے۔ کارکنان کی لاشوں کے ساتھ دھرنا ہوا، اس پر بھی حملہ ہوا۔
BYC کی آرگنائزر ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور بیبو بلوچ گرفتار ہوئیں۔ پھر مجھے گرفتار کیا گیا۔ اس کے بعد گل زادی بلوچ گرفتار ہوئیں۔
ہم ہدہ جیل میں ہر ہفتے پنجابی جج کے سامنے پیش ہوتے ہیں، اور پنجاب سے چوہدری آکر ہمارے خلاف گواہی دیتے ہیں۔ سیاسی جدوجہد کے جرم میں نظر بلوچ اور غنی بلوچ کئی مہینوں سے جبری گمشدہ ہیں، جن کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جا رہا۔
ماہجبین بلوچ، نسرینہ بلوچ، فرزانہ بلوچ، رحیمہ بلوچ، ہیرالنساء بلوچ، فاطمہ بلوچ، عائشہ بلوچ سمیت کئی خواتین اور بچیاں ، جن کے نام ان کی فیملی ریاستی اداروں کی دھمکیوں کی وجہ سے میڈیا میں نہیں لاتیں ، جو شاید سیاسی جلسوں میں بھی نظر نہیں آئیں، ریاستی ٹارچر سیلوں میں قید ہیں۔ کسی کو معلوم نہیں کہ ان ٹارچر سیلوں میں وہ کس حال میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا نہیں۔
دہائیاں گزر گئے ہیں مگر بلوچستان میں ریاستی جبر جاری ہے۔ اب تو اس حد تک تیزی آ گئی ہے کہ قوم کے مرد و خواتین، چاہے بوڑھے ہوں یا بچے، اٹھا کر لاپتہ کیے جا رہے ہیں۔ لاشیں گرائی جا رہی ہیں۔ پورے کی پوری قوم کو دشمن قرار دیا گیا ہے۔
2026 سے اس میں مزید تیزی آئی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر لاشیں گرنے کی اطلاعات آتی ہیں۔ اتنا کچھ دیکھنے کے بعد قوم کا جذباتی ہونا فطری ہے، اور حالات و جذبات انسان کی ملاقات نظریے سے کراتے ہیں۔
ریاستی فوجی ذمہ داران امریکہ کے ایک دو چکر لگا کر اور امریکی صدر کے ساتھ اپنی تصویر بنوا کر یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ ان گیم چینجرز میں شامل ہو چکے ہیں جو دنیا چلاتے ہیں۔
ایسے شیخ چلی جو الومیناتی بن کر پنڈی کے راجہ بازار میں بیٹھ کر نیو ورلڈ آرڈر ڈسکس کرتے ہیں، کبھی کبھار اچانک منہ کے بل گرتے ہیں اور اپنی بیوقوفیوں کی وجہ سے ان کی ناک ٹوٹ جاتی ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































