بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 08 مارچ، خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ہم دنیا بھر کی محکوم اور استحصال زدہ خواتین، بالخصوص بلوچ خواتین کو ان کی تاریخی جدوجہد، لازوال قربانیوں اور ناقابلِ تسخیر حوصلے پر سرخ سلام پیش کرتے ہیں۔ بلوچ خواتین نے قبضہ گیر قوتوں اور عورت دشمن سرمایہ دارانہ و سامراجی نظام کے خلاف مزاحمت کی ایک روشن تاریخ رقم کی ہے اور جبر، ناانصافی اور غلامی کے نظام کو للکار کر آزادی، وقار اور برابری پر مبنی سماج کی تعمیر کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ عالمی سامراجی نظام اور اس کے مقامی گماشتوں کے خلاف مظلوم اقوام کی تحریکوں میں کرد اور بلوچ خواتین کا وینگارڈ کردار اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ خواتین صرف مزاحمت کا حصہ ہی نہیں بلکہ انقلابی تبدیلی کی ایک مضبوط قوت بھی ہیں۔ قابض اور استحصالی حکمران طبقات نے ہمیشہ خواتین کے سماجی کردار کو محدود کرنے، ان کی سیاسی و سماجی شرکت کو دبانے اور ان کی حیثیت کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ استحصال پر مبنی اپنے نظام کو برقرار رکھا جا سکے۔ بی ایس او عورت دشمن قوتوں کی ان تمام سازشوں اور مکاریوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ خواتین کی آزادی اور سماجی برابری کے بغیر کسی بھی معاشرے کی حقیقی آزادی ممکن نہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ خواتین نے معاشرے کو جوڑے رکھنے، اجتماعی زندگی کو منظم کرنے اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگ تعلق کو برقرار رکھنے میں بنیادی اور فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ یہی انقلابی اور تخلیقی خصوصیات انہیں جابر حکمران طبقات کے حملوں کا مرکزی ہدف بناتی ہیں۔ اسی تسلسل میں متعدد بلوچ خواتین کو قتل کیا گیا، درجنوں جبری گمشدگی کا شکار بنائی گئیں، جبکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی قیادت، بالخصوص ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ کو غیر قانونی طور پر پابندِ سلاسل رکھا گیا ہے۔
بی ایس او بلوچ خواتین کے خلاف جاری ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں اور غیر قانونی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ تمام لاپتہ بلوچ خواتین کو فوری اور باحفاظت بازیاب کیا جائے اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ سمیت تمام زیرِ حراست بلوچ خواتین کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ساتھ ہی ان کے خلاف قائم تمام جھوٹے اور سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے مقدمات کو ختم کرکے انہیں باعزت بری کیا جائے۔
بی ایس او اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ بلوچ خواتین کی آزادی، برابری اور قومی وقار کی جدوجہد کو ہر محاذ پر جاری رکھا جائے گا، اور وہ دن دور نہیں جب بلوچ خواتین اور بلوچ قوم جبر و استحصال کے اس نظام کو شکست دے کر ایک آزاد، باوقار اور انصاف پر مبنی سماج کی بنیاد رکھیں گی۔



















































