شال کے دو عاشق اور بلوچستان
تحریر: آئی ـ کے بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
“کوئی تو ہو جو اِن بےضمیر آنکھوں کو شعور بخشے، کہ غلامی کا خواب دیکھنا کفر ہے”
شال (کوئٹہ) کہنے کو تو ایک چھوٹا سا شہر ہے، مگر میرے لیے یہ محض شہر نہیں، ایک کیفیت ہے، ایک خوبصورت احساس ہے، وہ درسگاہ ہے جہاں زندگی کے سبق کتابوں میں نہیں، بلکہ ٹوٹی پھوٹی گلیوں، بکھرے گھروں اور خاموش سڑکوں میں ملتے ہیں۔ اور انہی چیزوں نے مجھے سیاست کا شعور دیا، سماج کی پہچان سکھائی اور انسان ہونے کا ہنر عطا کیا۔
یہاں کی سرد راتوں کی ٹھنڈ آسمان سے ایسے اترتی ہے جیسے بلوچستان کے پہاڑوں سے وطن زاد خاموشی سے اترتے ہوں۔ اس خوبصورت شہر کی ہر گلی، ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی قصہ ، ادھورا خواب، ٹوٹا ہوا ارمان، بکھرا پڑا نظر آتا ہے ۔
ان بکھرے قصوں ، خوابوں اور ٹوٹے ارمانوں کو سمیٹنے کے لیے شال کے لوگ اکثر چائے خانوں کا رخ کرتے ہیں کیونکہ شال کی چائے صرف چینی، پتی اور دودھ سے نہیں بنتی، بلکہ اس میں گزرے لمحوں کی مٹھاس، ادھورے خوابوں کی کسک اور آنے والے کل کی امیدیں شامل ہوتی ہیں۔ پھر اسے نفرت کی آنچ پر رکھا جاتا ہے، تاکہ تلخیاں، اور بدگمانیاں پگھل کر محبت کی چائے بن جائیں ۔
کچھ یوں ہی شال کے دو عاشق (بیورخ اور زیمل) اکثر ہفتہ یا اتوار کے دن شال کی کسی چائے خانے میں بیٹھا کرتے تھے ان کے درمیان محبت موجود ہوتی تھی، مگر موضوع کبھی ذاتی نہیں بلکہ بلوچستان کی زمین ہوتی تھی وہ دونوں جانتے تھے بلوچستان سونا ،گیس اور معدنیات سے بھری ہوئی ہے مگر بلوچ کا ہاتھ آج بھی خالی ہے جس گھر سے گیس نکلتی ہے اس گھر کے چولے آج بھی ٹھنڈے ہیں گوادر بندرگاہ جس نے دنیا کے لیے روازے کھولے ہیں لیکن گوادر کے مکینوں کے لیے بند کیے ہیں ۔
بیورخ اور زیمل کی باتوں میں نہ ایک دوسرے سے ملنے کی ضد تھی،نہ بچھڑنے کا ڈر، اور نہ ہی ان کی باتوں میں کوئی خوف تھا،بلکہ انکی باتوں اور خیالات میں بلوچستان کا درد تھا وہ جانتے تھے کہ یہاں ظلم صرف مسخ شدہ لاشوں سے نہیں ہوتا بلکہ ظلم زبان ،تاریخ، زمین اور شناخت کو مٹانے سے ہوتا ہے اور جو بھی بلوچ ، اپنی زبان تاریخ ،زمین، اور شناخت کی بات کرے گا ریاست پاکستان اس کے گھر والوں کو تحفے میں مسخ شدہ لاشیں دے گی ۔
شال کے دونوں عاشق جب بھی ملتے تھے تو تحفے میں دنیاوی چیزیں جیسے انگوٹھی، کپڑے ،پرفیوم وغیرہ نہیں مانگتے تھے بلکہ ایک دوسرے سے پوچھتے تھے میرے بلوچستان کے خوبصورت پہاڑوں کے بہادر اور جانثار شہزادوں ، (مرید،چاکر ، ابصار ،زیدی ، مشمار ،میرو اور سنگتوں) کی کون سی شاعری، غزل یا کتاب لائے ہو؟
اس دفعہ جب دونوں اسی پرانے چائے خانہ پہنچے تو زیمل کی عجیب کیفیت تھی ۔
زیمل کو دیکھتے ہی ،بیورخ پوچھنے لگے: زیمل میرے وطن بلوچستان کی شہزادی سب خیریت ہے ؟
زیمل نے فوراً تحویز نما چیز بیورخ کے سامنے رکھ دی۔
زیمل: یہ فون نمبر کس کا ہے ؟
زیمل کہنے لگی : ابھی جب میں آرہی تھی تو ایک نوجوان لڑکا میرے پیچھے پیچھے آتے ہی اچانک اپنا فون نمبر میرے سامنے ایسے پھینک کر چلا گیا جیسے بلوچستان کے وطن زاد ، ناپاک وردی والوں کے سامنے ہینڈ گرنیڈ پھینک کر چلے جاتے ہیں ۔
ہاہاہاہاہاہاہا !
تمہیں ہنسی آرہی ہے؟ مجھے تو اپنے بلوچستان کے نوجوانوں کی یہ حالت دیکھ کر ترس آتا ہے۔
خیر چھوڑو زیمل ،یہ بتاؤ آج تحفے میں کیا لائی ہو؟
کتاب : موکش !
اور آپ ؟
کتاب : بٹالین !
دونوں ایک آواز اور سانس میں اڑے قربان ۔
زیمل کتابوں کو بوسہ دیتی ہوئی کہنے لگی: بیورووو، اب تو اس غلیظ ریاست و سسٹم سے ہم تنگ آچکے ہیں اس ملک میں ہمارا دم گھٹتا ہے ہے دل کرتا ہے ابھی اس غلیظ ریاست کے فوجیوں پر جا کر جند ندر (فدائی)کروں ۔
زیمل کے منہ سے لفظ فدائی سنتے ہی بیورخ پوچھنے لگے: آپ کی نظر میں فدائی بٌری چیز نہیں ، مگر دوسری جانب کچھ منافق لوگ اور مفاد پرست بلوچ کہتے ہیں کہ بلوچ عورتوں کا جنگ میں شامل ہونا اور خاص طور پر فدائی کرنا ،بلوچی رسم و رواج اور مذہب میں کفر ہے اور ایسے کام کرنے والے کافر ہیں۔
یہ سنتے ہی زیمل زرو زور قہقہہ کے ساتھ کہنے لگی: بیورووو، فدائین (بلوچ مرد اور عورت) پہ تنقید کرنے والے منافقوں کو یہ نہیں پتا کہ فدائی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ زندگی کا عروج ہے وہ کلائمیکس ہے جو صرف اور صرف وطن عزیز بلوچستان پہ جند ندر (فدائی) کرنے والے جانتے ہیں اور بلوچستان کیلئے فدائی کرنے والوں کی قربانیاں ہمارے لیے امانت ہے اور امانت میں خیانت کرنے والا ہی اصل کافر اور غدار ہے ۔
بیورووو! آپ تو خود لینن کے فین ہو ،اگر میں غلط نہیں ہوں تو وہ ایک جگہ کہتے ہیں:
” انقلاب ایک انسان کی روح میں آغاز ہوتا ہے پھر یہ معاشرتی تبدیلی کا باعث بنتا ہےـ”
اور دوسری جگہ یہ بھی کہتے ہیں: ” ظلم کا مقابلہ کرنا انسانوں کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے “
تو ہم عورتیں اپنی ذمہ داری سے کیوں کر پیچھے ہٹ جائیں؟ کیا ہم انسانوں کے زمرے میں نہیں آتیں ؟
بیوروغ معصوم بچوں کی طرح خاموشی سے زیمل کو سن رہا تھا اور ان کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا, جیسے ان کی آنکھوں میں ریاست پاکستان، منافع خور(مخبر) بلوچ ،اور منافق لوگوں کے خلاف لاوا پھٹ رہا ہو۔
بیوروغ ایک لمحے کیلئے اپنی آنکھیں بند کرکے اپنے ضمیر کو جھنجھوڑنے ہی لگا تھا کہ زیمل نے اس کے بال کھینچتے ہوئے کہنے لگی: بیوروخ میرے بلوچستان کے پاسبان ، بند آنکھوں میں ماضی بستا ہے، مستقبل کھلی آنکھوں کا تقاضا کرتا ہے۔
شال کے دو عاشقوں کی محبت بڑی عجیب اور خوبصورت تھی ان کی آنکھوں میں صرف ایک دوسرے کے لیے محبت نہیں تھی بلکہ بلوچستان پر قربان ہونے کی جستجو تھی انکی آنکھوں میں بلوچستان کے پہاڑوں کی مضبوطی، میدانوں کی خوبصورتی ، دریاؤں کی روانی ، چشموں کی ٹھنڈک اور سمندر کی گہرائی ایک ساتھ رقص کرتی تھیں ۔
شال کے دو عاشقوں کی داستان لکھ ہی رہا تھا کہ ان بےضمیر آنکھوں پہ نیند طاری ہوگئی اور اچانک منہ سے نکل آیا: کوئی تو ہو جو اِن بے ضمیر آنکھوں کو شعور بخشے کہ غلامی کا خواب کا دیکھنا کفر ہے۔
فی الحال اجازت ،جب اِن بے ضمیر آنکھوں کو ضمیر کی بینائی نصیب ہوگی تو پھر ملاقات ہوگی۔
حصّہ اوّل : جاری ….. ہے
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































