بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ پنجگور میں ریاستی حمایت یافتہ مسلح گروہوں اور فرنٹیئر کور اہلکاروں کی جانب سے جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے مزید افسوسناک واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں دو کمسن بلوچ نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
تنظیم کے مطابق یحییٰ بلوچ ولد فضل کریم، جو کہ 17 سالہ طالب علم تھا، کو 3 مارچ 2026 کو اس کے گھر خدا آباداں سے مسلح افراد نے فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے ہمراہ اٹھا لیا، اہلکاروں کی جانب سے نہ کوئی وارنٹ پیش کیا گیا اور نہ ہی اس پر کسی قسم کا الزام عائد کیا گیا اور نہ ہی اسے کسی عدالت میں پیش کیا گیا۔
بعد ازاں یحییٰ بلوچ کی لاش پنجگور میں واقع ایف سی کیمپ کے قریب سے برآمد ہوئی۔ اس دلخراش واقعے نے اس کے خاندان کو شدید صدمے اور غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ یحییٰ ایک کمسن طالب علم تھا جس کا مستقبل ابھی اس کے سامنے تھا، مگر اسے جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا۔
تنظیم کے مطابق دوسرا واقعہ بھی پنجگور سے سامنے آیا ہے جہاں یحییٰ بلوچ ولد نور محمد، جو کہ ڈرائیور تھا اور پنجگور کے علاقے پروم کا رہائشی تھا، کو یکم اکتوبر 2025 کو شام تقریباً ساڑھے سات بجے ایئرپورٹ روڈ چتکان، پنجگور سے مسلح افراد نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا تھا۔ وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور کم عمری میں ہی اپنے خاندان کی ذمہ داریاں اٹھا رہا تھا۔
چھ ماہ تک اس کے اہلِ خانہ کرب اور غیر یقینی صورتحال میں اس کی واپسی کا انتظار کرتے رہے۔ تاہم 3 مارچ 2026 کو اس کی لاش پنجگور کے علاقے وشبود سے برآمد ہوئی۔
بیان میں کہا ہے کہ یہ واقعات بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کے سنگین بحران کی عکاسی کرتے ہیں جہاں جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل مسلسل جاری ہیں۔ یہاں تک کہ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں بھی بلوچ خاندان اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی اور قتل جیسے سانحات کا سامنا کر رہے ہیں۔



















































