پاکستان بار کونسل (بلوچستان) اور بلوچستان بار کونسل نے کوئٹہ پریس کلب میں پولیس کے ناروا اور سخت رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور واقعے کی شفاف و غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
جاری بیان میں کہا گیا کہ وکیل نادیہ بلوچ پریس کلب میں اپنی ہمشیرہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بگڑتی ہوئی صحت سے متعلق پرامن پریس کانفرنس کے لیے گئی تھیں تاہم پولیس کی جانب سے انہیں اظہارِ رائے اور آزادیِ اظہار کے آئینی حق سے روکنے کی کوشش کی گئی اور نامناسب رویہ اختیار کیا گیا۔ بار کونسلز کے مطابق ایک خاتون وکیل کے ساتھ اس نوعیت کا سلوک ناقابلِ قبول اور قابلِ مذمت ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ واقعے کے دوران پریس کلب کے اراکین اور صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور دھکم پیل کی اطلاعات بھی تشویش ناک ہیں۔ وکلا تنظیموں کا کہنا تھا کہ صحافی جمہوری معاشرے کے بنیادی ستون ہیں اور اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران انہیں ہراساں کرنا یا دباؤ میں لانا آزادیِ صحافت اور جمہوری اقدار پر براہِ راست حملہ ہے۔
بار کونسلز نے مؤقف اختیار کیا کہ وکلا اور صحافی آئینی حقوق اور قانون کی بالادستی کے نگہبان ہیں، ان کے خلاف طاقت یا دھونس کا استعمال ایک خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس کا فوری تدارک ضروری ہے۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ پورے واقعے کی منصفانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، اور وکلا و صحافیوں کے وقار، تحفظ اور آئینی حقوق کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
وکلا برادری نے واضح کیا کہ وہ بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی اور کسی بھی غیر قانونی اقدام پر خاموش نہیں رہے گی۔

















































